5th Urdu Textbook Test

 ہمارے تعلیمی یوٹیوب کو سبسکرائب کیجیے۔ 

Click Here👇

AreeB TLM

جماعت پنجم کےلیے درسی کتاب پر مبنی آن لائن ٹسٹ دیا جار ہا ہے۔  ہر ٹسٹ میں تقریباً دس سوالات مع متبادل ہونگے ۔۔ کتاب سے سبق /نظم کا بغور مطالعہ کر کے حل کیجیے۔

AreeBTM

سبق کے نام پر کلک کیجیے۔👇

1۔حمد

2۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ

3۔ گنگا

4۔ تین کچھوے

5۔اُمید

6۔گپ بازی کی سزا

7۔ پرانی کار

8۔ بہادر بچے

9۔ جگنو

10۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن

11۔ اللہ آبرو سے رکھے

12۔ ڈالفن

13۔ صبح کے نظارے

14۔ایک خواب

15۔ آیاجاڑا

16۔ خط

17۔ تلاش

18۔قدم بڑھاؤ دوستو

19۔ نام اور کام

20۔وقت کا گیت
21۔ کدّو عرف لوکی

22۔ شہد کی مکھی اور بِھڑ

23۔ محمد حاجی صابو صدیق

24۔ عجیب تحفے

25۔ موبائل

26۔ تالاب کا بھوت

جماعت ششم (6) کےسوالات کے لیے یہاں کلک کریں۔👇

                             Class 6th Urdu Text Book  

Sher aur Shair

انتخاب: نوشاد علی ریاض احمد۔
ذرا مسکرائیے 😍

مشاعرے اور لطیفے

         علی گڑھ یونیورسٹی میں ”اسٹوڈنٹس یونین“ کا سالانہ مشاعرہ ہو رہا تھا۔ ہر شاعر کو ہوٹ کرنے کا انداز یہ تھا کہ صرف ایک فقرہ کہا جاتا جس کے بعد شاعر نروس ہوکر بیٹھ جاتا اور کچھ نہیں پڑھ سکتا تھا۔ ایک ہی جملے میں اس کا کام تمام ہو جاتا۔ لکھنو سے بھی ایک شاعر صاحب آئے تھے، جو نام کے آگے سلمانی لکھتے تھے۔ پیشہ بھی موتراشی اور اصلاح گیسو تھا۔ لکھنو میں ایک بڑے ہیئر کٹنگ سیلون کے مالک تھے، مائک پر آتے ہی بولے:

عزیز طلبہ! مطلع سنو اور ردیف پر غور کرو۔‘‘ مطلع ہے۔ یہ کہہ کر پوری قوت سے یہ مصرع پڑھا:

’’محبت دکھ بھی ہے آرام بھی ہے‘‘

    ابھی دوسرا مصرع پڑھ نہیں پائے تھے کہ ایک لڑکے نے دوسر امصرع لگا دیا:

’’یہی شاعر یہی حجام بھی ہے‘‘

     اور بولا: ’’سلمانی صاحب ردیف دیکھئے ردیف!‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی گڑھ کے ایک اور مشاعرے میں حسب دستور فقرہ بازی اپنے عروج پر تھی۔ ایک فقرہ کسا جاتا تھا اور شاعر بیٹھ جاتا۔ مولانا صابری کا نمبر آیا۔ مائک پر نام کا اعلان ہوا۔ مائک پر آتے ہی بڑے زور سے گرجے، برسے اور کہا

 ’’میں غزل نہیں پڑھوں گا، صرف ایک سوال کا جواب چاہتا ہوں۔ آج جس یونیورسٹی کے مشاعرے میں یہ بدتمیزی اور بد تہذیبی ہو رہی ہے، کیا یہ وہی دانش گاہ ہے، جس کا خواب سرسید احمد خان نے دیکھا تھا؟ پہلے اس سوال کا جواب دیا جائے پھر غزل پڑھوں گا۔‘‘

     ایک ذہین طالب علم جواب دینے کو کھڑا ہوا اور بولا:

 ’’چچا یہ دانش گاہ تو وہی ہے جس کا خواب سرسید احمد خان نے دیکھا تھا، مگر اس خواب میں ایسا مشاعرہ نہیں تھا، جس میں آپ غزل سرا ہوں۔‘‘

       یہ جواب سن کر مولانا بیٹھ گئے۔

        مشاعرے میں مشہور طنز و مزاح نگار شاعر، جناب ہلال سیوہاروی بھی شریک تھے۔ اپنی باری پر اسٹیج پر آگئے اور بولے:

 ’’مجھے پرھنے کا شوق نہیں، صرف دو قطعات برداشت کر لیجیے۔‘‘

 

         ایک لڑکا بولا: ’’برداشت کرلیں گے لیکن پہلے دوسرا قطعہ پڑھ دیں، وہ بہت اچھا ہے۔‘‘ 

       اس فقرے پر ہلال سیو ہاروی بغیر پڑھے ہی بیٹھ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

https://teachingadds.blogspot.com


سلام مچھلی شہری کسی دور میں علی گڑھ یونیورسٹی کے محبوب شاعر تھے۔ اس یونیورسٹی کے پسندیدہ اور محبوب شاعر کا ایک مختصر سا دور ہوتا تھا، جو چار پانچ سال تک جاری رہتا۔ ایک زمانے میں معصوم رضا راہی پوجے جاتے تھے پھر سلام مچھلی شہری کا دور آیا لیکن اسٹوڈنٹس اپنے ہیرو کو بھی بخشتے نہیں تھے۔ سلام صاحب عالم سرور میں مائک پر آئے اور بولے

 ’’میں جب علی گڑھ یونیورسٹی کے مشاعرے میں پڑھتا ہوں تو رگ و پے میں کچھ تیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیز آج بھی میری رگ رگ میں تیر رہی ہے، اللہ جانے یہ کیا شے ہے؟‘‘

       ایک لڑکا بولا

 ’’سلام مچھلی شہری صاحب! یہ ’مچھلی‘ ہے جو آپ کے خون میں تیر رہی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ضمیر جعفری کی حاضر جوابی کا لطیفہ بھی فروغ عام پاچکا۔ ممتاز مزاح نگار محترم ضمیر جعفری مزاحاً بڑے بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ کبھی حفیظ جالندھری سے غزلوں پہ اصلاح لیتے تھے، لیکن پھر فارغ الاصلاح ہوگئے۔ فارغ الاصلاح ہی کے زمانے میں ایک اچھی اور معیاری غزل اپنے استاذ جناب حفیظ جالندھری کو سنا رہے تھے۔ حفیظ صاحب نے مزاحاً فرمایا:

 ’’ضمیر اب تو تم کو غزل کہنا آگیا۔‘‘

        ضمیر صاحب نے بے ساختہ اور برجستہ جواب دیا:

 ’’حضور یہ سب آپ سے الگ ہونے کا فیض ہے۔‘‘ 

        ضمیر صاحب کی اس بذلہ سنجی پر خود استاد محترم حفیظ بھی ہنس پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

         دہلی کی ایک محفل میں شعرا مزاحیہ کلام سنا رہے تھے۔ اس محفل میں فرقت کاکوروی، کباب علیگ، ماچس لکھنوی، ہلال سیوہاروی، واقف مراد آبادی، آفتاب لکھنوی جیسے مزاح نگاروں کے ساتھ ایک سنجیدہ شاعر گلزار دہلوی بھی شریک تھے۔ اس نشست میں شرط یہ تھی کہ ہر مزاح نگار صرف پیروڈی پڑھے گا۔ محفل کی صدارت کے لیے گلزار دہلوی کا نام تجویز ہوا تو انھوں نے اعتراض کیا

 

 ’’میں تو سنجیدہ شاعر ہوں۔ پیروڈی کی نشست کی صدارت کس طرح کر سکتا ہوں؟‘‘

          کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے فقرہ کسا:

 ”گلزار صاحب فکر نہ کریں، پیروڈی کی نشست کی صدارت آپ کا حق ہے۔ آپ صدر نہیں ہوں گے بلکہ صدر کی پیروڈی ہوں گے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      بدایوں کے ایک مقامی مشاعرے میں ایک صاحب غزل پڑھ رہے تھے مطلع کا پہلا مصرع پڑھا:

 ”دو کروٹوں میں رات بسر ہو کے رہ گئی

            اور فرمایا کہ دو کروٹیں میں لفظ دو مد نظر رہے۔ ایک لڑکے نے شاعر صاحب کا دوسرا مصرع پڑھنے سے پہلے ہی گرہ لگا دی۔

  ”کروٹ جو تیسری لی سحر ہو کے رہ گئی

        اس فقرے نے پوری محفل کو زعفران زار بنا دیا۔

ماخوذ

 

All Urdu Work Sheek

 آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ چھٹیوں کا فائدہ اُٹھائیے۔کلک کریں اور ڈاؤنلوڈ کریں۔👇

سمر اکٹیویٹی شیٹ

متعلق الفاظ شیٹ

اردو سرگرمی بیاض 4

لفظستان ورک شیٹ

الفاظ سازی ورک شیٹ

اردو سرگرمی  بیاض3

اردو سرگرمی بیاض 2

اردو اکٹیویٹی شیٹ

اردو سرگرمی بیاض1




BEOWDEY

 انشائیہ

 بیوڑے

از قلم :۔ عجیب انصاری صاحب ۔ مالیگاؤں ( مہاراشٹر)

 نہ جانے کس نامعقول شخص نے ان کو یہ معقول سا نام دے دیا ہے ۔ورنہ گزشتہ زمانے میں مے کش، رند، بادہ خوار، شرابی جیسے معزز القاب سے جانے جاتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا، لوگ بدل گئے، پہلے بہت معزز، امراء، شعرا، شرفا روایتی اور تہذیبی انداز میں  مے کشی کیا کرتے تھے اور سرشاری کے عالم میں شعر بھی کہا کرتے تھے۔  جبکہ اس دور میں شراب کو تمام تر برائیوں کی جڑ تصور کیا جانے لگا ہے۔ میں اس بات سے نہ صرف اختلاف کرتا ہوں بلکہ اسے حقیقت سے پرے جارانہ الزام اور دروغ گوئی بھی قرار دیتا ہوں۔ مانا کہ شراب’’   اُم الخبائث‘‘ ہے لیکن آپ دیکھیں گے کہ خبیثوں کی اکثریت نہ صرف غیر شرابی ہے بلکہ سماج اور معاشرے میں بڑی معزز بھی بنی بیٹھی ہے۔بیوڑے بھائیوں پر جو غیر تعلیمی اور اردو زبان و ادب سے منہ موڑنے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔ امبیڈکر پُل کے شراب خانے کی دیوار پر  اردو میں لگی ہوئی بھی ہدایت جو کچھ یوں ہے۔۔۔۔

 ایک اور دو کاٹر کے چُھٹّے پیسے دیں۔

 کاٹر پینے کے بعد کاٹر لے کے جانا منع ہے۔

 اندر بیٹھ کر پینے والے چکھنا لے کر اندر نہ آئیں ۔

 پارسل لے جانے والے پینے کے بعد کاٹر کی باٹلی پھوڑ کر راستے پر نہ پھینکیں۔

 ایک تاریخ سے سنترا اور ٹینگو کا بھاؤ تیس روپیہ ہو جائے گا۔

 اردو میں لکھی یہ ہدایت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ غالب اور میر گرچہ نہ رہے لیکن شراب اور اردو کا تعلق ابھی بھی باقی ہے۔

باقی دنیا کی طرح بیوڑوں میں بھی آپ کو عدم مساوات واضح نظر آئے گی محنت کش، غریب مزدور، ریٹائرڈ بوڑھے آج بھی تیس والے پووئے پر اکتفا کرتے ہیں جبکہ نوکری پیشہ، عہدے داران، سرکاری افسران، سیاست دان پولیس آفیسر جیسے تمام ہی حرام خور اب دیسی سے اوب  کر بڑی تیزی سے انگریزی کی طرف کوچ کرنے لگے ہیں۔

 جن میں کنگ فشر، بلیو امپیرل، بیک پائپر، بُکارڈی، رائس ٹریک آفیسرز چوائس جیسے بے شمار ملکی و غیر ملکی  برانڈ شامل ہیں

انگریزی کو دیسی پر صرف اتنی فضیلت حاصل ہے کہ جلدی چڑھتی نہیں بشرط کہ ایک کے اوپر ایک نہ چڑھا لی جائے۔۔ اور دیسی ہے کہ چڑھ جائے تو اترنے کا نام نہیں لیتی اور جب اترتی ہے تو ساری عزت اتار کے اترتی ہے۔۔۔

 ایک عام رجحان بن گیا ہے کہ بُرے لوگ پیتے ہیں جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے اصل میں گنڈے مولیوں نے جب سے پینا بھی شروع کر دیا ہے تب سے بیوڑوں کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے۔ ورنہ دنیا جانتی ہے کہ بیوڑے بھائی دنیا کی سب سے شانتی پُروک کمیونٹی میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ سادھو اور جوگیوں کی طرح بڑے ہی رہبانیت پسند ہوتے ہیں جو دنیا کی نظروں سے بھی دور رہنا پسند کرتے ہیں ۔ شام ہوتے ہی اپنا پارسل لے کر جس میں ایک عدد پووا، دو سے تین لوگوں کے لیے کافی، پانی پاؤچ، پانی کا گلاس، چکنا، لیمو، اُبلے ہوئے انڈے، بومل وغیرہ ہوتے ہیں۔



 ایسی جگہ بیٹھتے ہیں جہاں آدم زاد کی نظر ہو نہ راہ گزر اور اگر پھر بھی کوئی بھولے بھٹکے ان کے قریب سے گزر جائے تو با آواز بلند سلام ضرور کرتے ہیں خیر خیریت پوچھنے کے بعد دو گھونٹ مارنے کی دعوت بھی ضرور دیتے ہیں۔

 عین یہی واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا اے ٹی ٹی اسکول کے عقب سے گزرتے ہوئے جب بیوڑوں کی ایک جماعت نے  مجھے بھی بڑی محبت اور اپنائیت کے ساتھ ہی یوں  مدعو کیا کہ لو بھیا دو گھونٹ مارو۔

میں نے بھی کہا ا،رے نہیں چلنے دو،بسم اللہ کرو ۔پینے سے پہلے یہ لوگ کبھی بات چیت نہیں کرتے ، ہاں مال کون بنائے گا اس بات پر کبھی بحث و تکرار سے لے کر دستِ درازی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ایک اچھا بیوڑہ ہونے کے لیے وقت کی پابندی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اڈا بند ہونے کے بعد بلیک میں دُگنی قیمت میں ملتی ہے۔ دو گھونٹ کے بعد جب چکھنا بھی داخل شکم ہو تو ان کے بجھتے ہوئے وجود کو روشنی ملتی ہے۔ رگوں میں جمتا ہوا خون پھر دوڑنے لگتا ہے ۔زبان سے روح تک پھیلی ہوئی تشنگی کو  تسکین حاصل ہوتی ہے۔ بجھتی آنکھوں میں چمک لوٹ آتی ہے۔ پھر اس کے بعد گلی محلہ شہر گاؤں سے لے کر اقوام عالم تک غور و فکر ، علم ادب ،سیاست ،سماجیت، فلسفہ پر جو گفتگو ہوتی ہے وہ نہ صرف قابل سماعت بلکہ قابل دید بھی ہوتی ہے۔ مثلا کوّے کی بلند پروازپر  جھومتے ہوئے ایک بیوڑے نے دوسرے سے کہا،’’ چھوٹے! تجھے معلوم ہے صدام حسین کے پاس ایک ایسابم ہے اگر مار دے گا تو پوری دنیا تباہ ہو جائے گی۔ اس پر دوسرے بھیڑے نے کچھ علمی اختلاف یوں کیا کہ چھوٹے تیری بات صحیح ہے۔ بم صدام حسین کے پاس ہے لیکن اس کا ریموٹ امریکہ کے پاس ہے ۔یوں دونوں میں اتفاق ہوا ۔تیسرےبیوڑے نے کہا 1920 میں میرے دادا کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ 100 کی نوٹ کی بیڑی بنا کے پیتے تھے۔ ڈاکٹر لوگ بولتے ہیں کہ مال پینے سے کڈنی خراب ہو جاتی ہے غلط بات ہے، ایک دم غلط بات۔ مال تو پیٹ میں جاتا کڈنی دماغ میں رہتی کیسے خراب ہو گی؟ عرض کہ ان کی محفلوں میں تاریخ جغرافیہ سیاست سماجیت علم و ادب ہر موضوع پر گفتگو ہوتی رہتی ہے جو ان کی شخصیت کے سلجھے پن اور سنجیدگی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور جب کوئی داؤ نہ چلا تو ان کو محض بے دین قرار دیا ،تو بھائی اصل میں دین دار ہے بھی کون؟

 مومن صاحب ،مرزا صاحب ،مولانا صاحب ،کہ مفتی صاحب۔۔۔۔۔ ایک بار میں نے جب کسی بیوڑے بھائی سے کہا بھائی پینا چھوڑ دو پینا حرام ہے تو اس نے اس سے کہا کھانا چھوڑ دو کھانا بھی حرام ہے۔ پھر اس کے بعد اس نے جب تمام کھانوں  کا ذکر کیا جن میں مفت خوری ،کمیشن خوری، حرام خوری، چند ہ، ڈونیشن ،کمیشن ،تحفے ، ٹوپی بازی، دلالی ، بھڑوا گری، ضمیر فروشی جب وہ تمام نکات کا احاطہ کر کے خاموش ہوا تو پھر سمجھو کہ ان چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔۔۔۔

 ان کے تقوی کا ایک واقعہ یوں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ دو دوست تو بیٹھے پی رہے تھے جب ایک کو چڑھ گئی تو جھومتے ہوئے اس نے دوسرے کے گلاس سے اپنا گلاس ٹکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا چیس کر چھوٹے، جس پر دوسرے نے کہا ،نہیں بھائی چیس مت کرو چیس کرنا حرام ہے۔ان کی زندگی میں وقت کی پابندی اور ڈسپلین بھی بلا کا ہوتا ہے یوں نہیں کہ چائے نوشوں کی طرح بس کبھی بھی منہ اٹھائے اور چل دیے ۔دن بھر کی اپنی مصروفیات اور ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد شام کو آرام سے نکلتے ہیں ۔جبکہ کچھ سنیئر بیوڑوں  کو صبح کے اولین ساعتوں میں بالکل ناشتے میں صبح کی چائے کے ساتھ پینے کی طلب لگتی ہے تب اٹھتے ہی موسم پُل  کی طرف چل پڑتے ہیں یہ شہر کا وہ واحد شراب خانہ ہے جو صبح کھلتا ہے۔ یہاں  دور دور سے لوگ جیسےتیسے  دن کا اجالا پورا ہونے سے پہلے ہی پہنچ جاتے ہیں سامنے ریت کی احاطے  میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اکڑوں  بیٹھ جاتے ہیں انتظار کی ان گھڑیوں میں بیڑی ان کا بڑا سہارا ہوتی ہے بیڑی پیتے جاتے ہیں کھانستے جاتے اور بار بار ایک دوسرے سے ٹائم پوچھتے ہیں۔سات بج گیا ابھی تک آیا نہیں سالا۔۔۔ روز کا ہے اس کا، سیٹھ کو بولنا پڑے گا۔ تب جا کر دونوں ٹائر میں جھالر لگی سائیکل پر ان کے انتہائی بد شکل بدتمیز لیکن مساوات اور انصاف پسند ساقی کی آمد ہوتی ہے۔ مساوات اور انسان پسند، یوں معنوںمیں کہ کسی سے بھی اگر کانچ کا گلاس ٹوٹ جائے تو بنا ذات پات ،عمر کی تمیز کیے بغیر  وہ سب کو ایک جیسی گندی گالیاں دیا کرتا تھا ۔ بات صرف اتنی نہیں تھی ساقی کے ستم اور بھی تھے یعنی اڈے پہ پہنچنے کے بعد بھی وہ گھنٹوں سے انتظار میں بیٹھے لوگوں کی تسکین کا سامان کرنے کے بجائے اپنی صبح کی فارملٹی پہلے پوری کرتا ۔جن میں سب سے پہلے درخت سے ٹیک لگا کر سائیکل کھڑی رکھنا، چھت پر چھپا کر رکھے گئے جھاڑو سے پورے احاطے کی صفائی کرنا ،چند ایک کہ احاطے  میں پڑی بوتلوں کو بھنگاروالے  کے لیے تھیلے میں جمع کرنا، تالا کھول  کر پہلے مورتی اور فریم کے پاس ماتھا ٹیکنا ، اس کے بعد ٹیپ ریکارڈر پر سائیں بابا کی آرتی بجانا ،انتظار اور صبر کے یہ لمحات بیوڑوں کے لیے جتنے مشکل ہوتے ہیں جس کا بیان بھی مشکل ہے ۔پھر اس کے بعد وہ باآوازِ بلند اعلان کرتا کہ جن کے پاس چھٹے پیسے ہیں وہ پہلے آؤ۔یوں  ان کے دن کا آغاز ہوتا ۔۔۔

پینے کے آداب کا ذکر تو ہم نے پہلے ہی کر ابھی آپ نے اس کے حصول کی جدوجہد بھی دیکھی۔ اب ایک بہت اہم مرحلہ پینے کے بعد کا بھی ہوتا ہے جس کا بھی برسوں بغور مشاہدہ کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں وہ پیش خدمت ہے۔۔۔

 پینے کے بعد چڑھنے کا تعلق تو برانڈ ہوتا ہے۔ 40 والا پووا  نشہ لانے میں بھی بے مثال سمجھا جاتا ہے اس کا نشہ بھی بڑا دیسی قسم  کا ہوتا ہے ۔راستوں پر ، سڑک کے  کنارے ،گٹر میں گرے پڑے سب اسی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ انگریزی میں نشے  کی کفیت اتنی نہیں ہوتی  ہے ۔ خاص کر شراب کو جس طرح آفاقی حیثیت حاصل ہے یعنی دنیا بھر میں پی جاتی ہے اسی طرح اس سے جُڑے معاملات  بھی وہی حیثیت کے حامل ہیں۔  مثلاً  ملک  کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں پینے کے بعد جو الفاظ بیوڑوں بھائیون کے منہ سے نکلتے ہیں وہ بھی آفاقی حیثیت کے حامل ہیں۔ مثلاً                      آج مزہ نہیں آیا۔ اب پہلے جیسی دارو نہیں آتی ۔۔۔صرف بھاؤ بڑھاتے  جا رہے۔۔ ۔آج کی آخری ہے کل سے پینا بند۔۔۔ اپنی محنت کے پیسے کی پیتا کس کے باپ کی نہیں پیتا۔۔۔۔۔  لگتا ہے تجھے چڑھ گئی میں تجھے گھر چھوڑنے چلوں گا۔۔۔ اور اس ساتھی پر تو مر جانے کو ہی جی  کرتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے  کہ تو یہ مت سمجھ کہ مجھے چڑھ گئی ہےتو تم ایسا بول رہا ہوں۔۔۔ میں ایک دم ہوش میں ہوں  ۔مجلس کی برخاستگی کے بعد گھر تک کا سفر بھی کوئی آسان اور سادہ نہیں ہوتا۔۔ بیوڑوں کی اکثریت تو فلمی گانوں کو اولیت دیتی ہے جس میں چند مخصوص گانے ،ہم نے گھر چھوڑا ہے۔۔۔۔ رہنے کو گھر نہیں سونے کو بستر نہیں ۔۔۔۔ابھی زندہ ہو تو جی لینے دو بھری برسات میں پی لینے دو۔۔۔۔دوران سفر بھائیوں کے پسینے پسندیدہ نغمے ہیں۔

 عاشقانہ مزاج بیوڑے  تمھیں اپنا ساتھی بنانے سے پہلے۔۔۔۔ سے لے کر چاندی کی دیوار نہ تھوڑی وغیرہ۔ اگر ان میں انقلابی قسم کا بیوڑا ہو تو تقریر کرتا ہوا چلتا ہے۔ تم مجھے ووٹ دو میں تمہیں پھول دوں گا۔۔۔ انقلاب زندہ باد۔۔۔ وغیرہ۔ گھریلو حالات سے متاثر بیوڑے پورا راستہ یہی کہتے ہوئے چلتے ہیں کہ تجھے معلوم ہے مجھے بھنڈی پسند نہیں تو، تو نے پکائی  کیوں؟ اور اگر آپ انہیں نوٹس کریں تو یہ سودان کی حالت میں رک کر آپ کو کچھ یوں سلام کرتے ہیں ۔ہیلو سر! السلام علیکم  ۔۔ دیز ایس واٹ از ۔۔۔۔ بکوز  ناٹ ا ز  ایبسولوٹلی رائٹ ۔۔۔۔۔سیٹ اپ ۔۔۔۔۔۔اینڈ  تھینک یو ۔۔۔۔۔چلو سر چلتا ہوں۔۔۔۔

کہا جاتا ہے کہ لال کپڑوں کو دیکھ کر سانڈ بھڑک  جاتے ہیں لیکن   آوارہ سرنڈوں کو دیکھ کر بیوڑے بھڑک  جاتے ہیں اور ان کی سینگ پکڑ کر ان کو للکارتے ضرور ہیں جس کے نتیجے میں اپنے کولھوں  کے دونوں پیالے اور دونوں انڈے بھی پھوٹ   بیٹھتے ہیں۔ کتّا انہیں  دیکھ کر بھونک دےتو سیدھا سوال کرتے ہیں بھائی صاحب! میں نے آپ کا کیا بگاڑا ؟مجھے جانے دو ۔۔۔گٹر اور گندے نالے تو انہیں مقناطیس کی  طرح کھینچتے ہیں اور لڑکھڑاتے ہوئے جب تک وہ اس میں گر کر لوٹ نہ لیں ،مراحل شوق ہے کہ مکمل ہی نہیں ہوتا

ایسی بے شمار مشکلات اور مراحل سے گزر کر یہ گھر پہنچتے ہیں آخر میں میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ بیوڑوں کی  خدمات کا اعتراف کیا جائے اور ان کا ایک عالمی دن مقرر کیا جائے۔۔

شکریہ!!!

#BEOWDEY #NAUSHADALI19881

SUMMER ACTIVITY SHEETS


SUMMER ACTIVITY SHEETS

ہم اپنی نسل نو کے لیے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مگر ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ان کو وسائل مہیا نہیں کرتے۔۔۔  ہم اپنے طلباء سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں وسائل نہ دیں تو وہ ہماری امیدیں پر پورا نہیں اتر سکیں گے مثلا ہم طلباء میں استعداد اور صلاحیت کو پروان چڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں وسائل دینا بھی ان کا حق ہے۔۔۔۔

یہاں سے آپ ڈاؤن لوڈ کیجیے۔











Urdu Ke Kuch Judwan Alfaz

 انتخاب:

اُردو کے کچھ جُڑواں الفاظ

دیگر زبانوں کی طرح اُردو میں بھی بہت سے ہم شکل، ہم صوت اور جڑواں الفاظ ہیں جو قاری کو مخمصوں میں ڈالے رکھتے ہیں۔ ان کی مشابہ اَشکال قاری کے لیے اِشکال کاموجب ہیں ۔ چند الفاظ کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں

~       سرِ وَرَق ،        سر وَرَق :

سرِ ورق کا مطلب کسی بھی صفحہ کی اوپر والی یا پہلی سطر ہے ۔ اس کے بر عکس ’’سر وَرَق‘‘ کسی کتاب کا پہلا صفحہ یا ٹائیٹل ہوتا ہے ۔

~      سَیر     ،        سِیر      ،        سِیَر :

عموماََ گھومنا پھرنا سَیر ہے ۔ آسودہ حالی بھی اسی معنی میں ہے، مثلاََ سَیر ہوکر کھانا کھانا وغیرہ۔ سِیر وزن کا پیمانہ ہے جبکہ فارسی میں لہسن کو بھی سِیر کہتے ہیں۔ سِیَر سیرت کی جمع ہے جیسے سِیَر صحابہ وغیرہ۔

~       لاش     ،        نعش :

دونوں کا مطلب "مردہ جسم" ہے۔ لاش فارسی اور اردو میں مستعمل ہے، جبکہ نعش عربی کا لفظ ہے۔ سات ستاروں کے جھرمٹ جن میں تین ستارے نعش کی مانند اور چار جنازہ اٹھانے والے نظر آتے ہیں کو بَنات النعش کہتے ہیں۔

بَنات ،بنت کی جمع بمعنی بیٹیاں ہیں جو ایک جنازہ اٹھائے نظر آتی ہیں۔ اسے دب اکبر اور عقد ثریا بھی کہتے ہیں۔ اب یہاں کسی اکبر اور ثریا کے عقد کا مغالطہ پالنا مناسب نہ ہوگا ۔

~       گُل      ،       گِل      ،       گَل :

سب جانتے ہیں کہ گُل کا مطلب پھول ہے اور یہ فارسی کا لفظ ہے، تاہم گُل کا ایک معنی چراغ کا بجھانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ چراغ اور سگریٹ وغیرہ کا جلا ہوا سرا بھی گُل کہلاتا ہے۔ دلدل ،گارا ،کیچڑ اورنرم گیلی مٹی کو گِل کہتے ہیں۔ آب وگِل سے مراد گندھی ہوئی مٹی (قالب انسانی ) ہے۔ بقول علامہ اقبال:

؎          اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ

     نالندہ تیرے عُود کا ہر تار ازل سے

مٹی کی لپائی کرنے والے اوزار کو اسی نسبت سے "گِل مالہ" کہتے تھے جو بگڑ کر "گڑمالہ" ہو چکا ہے۔

اسی طرح گَل  سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنیٰ برباد ہونا، گل سڑ جانا، بوسیدہ ہونا کے ہیں۔ گَل، "گالی" ، "گال" اور "گلے" کے مخفف کے طور پر بھی مستعمل ہے۔

~      حاجی   ،        ہاجی :

مخصوص ایام میں بیت اللہ کی زیارت اور مناسک ادا کرنے والا حاجی ہے۔ یہ ہائے حُطی سے لکھا جاتا ہے۔ ایک ضرب المثل ہے، "من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو"، ہائے ہوَز سے لکھا جانے والے "ہاجی" کا معنی ہَجو لکھنے اور کہنے والا ہے۔ میر تقی میر اپنے کسی حریف کا تیا پائنچہ یوں کرتے ہیں ۔

؎         قبلہ کہتے کہتے ہاجی ہوگیا

   پاسِ ظاہر چھوڑ پاجی ہوگیا

علاوہ ازیں الفاظ کے ہجے کرنے والا بھی ہاجی کہلاتا ہے۔

~      سَحَر     ،        سِحر :

صبح کو سَحَر کہتے ہیں اور سِحر کے معانی جادو کے ہیں۔

~       اِعراب         ،        اَعراب :

الفاظ کے تلفظ کی وضاحت کے لیے استعمال ہونے والی حرکات "زیر، زبر، پیش" کو اِعراب جبکہ عرب کے باشندوں کو اَعراب کہتے ہیں-

~       بندر     ،        بندر    ،        بندر گاہ :

بندر فارسی الاصل لفظ ہے اورعربی میں ایک دخیل لفظ کے طور پر مستعمل ہے۔ اس کا استعمال ترکی زبان میں بھی پایا جاتا ہے، مگر تارید و تہنید کی مسافت میں چارلس ڈارون کی روح پھڑ پھڑائی اور یہ بے چارا اردو میں آتے آتے monkey کی شکل اختیار کر گیا، حالانکہ فارسی میں اس کا مطلب سمندر کے کنارے واقع تجارتی مرکز یا منڈی کا ہے۔ ایسا مرکز جس سے روزگار وابستہ ہو۔ دور جدید میں یہی sea port ہے۔ اب جب بندر ہی سمندری اڈے کے لیے کافی تو اس کو بندرگاہ کیوں کہتے ہیں اور بندر گاہ میں بندر کیونکر آیا۔ فارسی میں "گاہ" کا مطلب جگہ یا مقام ہے۔

سمندری اڈے کے لیے "بندر" کا لفظ کافی ہے، مگر گاہ کا لفظ خواہ مخواہ ہی مستعمل ہوگیا اور اب اس اصطلاح کا جزوِ لا ینفک ہے۔ اکیلا "بندر" کہیں تو "مذکر" ہو گا جبکہ بندر گاہ مونث ہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ عربی میں بندر کے معنی قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور منظم کے ہیں اور عرب کے لوگ بچوں کا نام "بندر" شوق سے رکھتے ہیں۔

ایک مشہور سعودی سفارت کار کا نام "بندر بن سلطان" تھا۔ قدیم عربی میں میخ ٹھونکنے والی ہتھوڑی کو بھی بندر کہا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ عربی میں "بندر نامی جانور" کو ’’ قرد‘‘ کہتے ہیں۔

~       مُلک     ،        مِلک     ،        مَلَک     ،        مَلِک :

ریاست و سلطنت کو مُلک (جمع ممالک) اور ملکیت کو مِلک کہا جاتا ہے ۔ مَلَک فرشتے کو کہتے ہیں جس کی جمع ملائکہ ہے جبکہ مَلِک (جمع ملوک) کا معنی سردار یا چیف ہے۔

~       مُسلِم   ،        مُسلَّم   :

اسلام قبول کرکے اس کے مطابق زندگی گزارنے والا مُسلِم یعنی مسلمان ہے۔

؎         ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جبکہ مُسلَّم   بر وزن مکمل کا مطلب سالم، پورا تسلیم شدہ کا ہے۔ مُسلَّم بمعنی مکمل کے متعلق اک شعر ملاحظہ ہو،

؎         میں جو کھا لیتا ہوں دو مرغ مُسلَّم ہر روز

     وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

~      عنبر    ،        امبر :

عنبر ایک قیمتی خوشبودار مادہ ہے جو سمندروں سے حاصل ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین اسے عنبر نامی اور کچھ اسے وہیل مچھلی کا فضلہ یا قے ثابت کرتے ہیں۔ اصل میں یہ مخصوص مچھلی جب ایک خاص قسم کی سمندری جڑی بوٹی کھائے اور بد ہضمی سے قے یا فضلہ کرے تو یہ مادہ سمندر کی تہہ پر آجاتا ہے، اس سے نہایت قیمتی خوشبو تیار ہوتی ہے اور مقوی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کا ایک کلو لاکھوں روپے کا ہوتا ہے۔

دوسرا ہندی کا لفظ امبر بمعنی آسمان ہیں۔ جیسے مشہور گانے "نیلے نیلے امبر پہ چاند جب آئے" میں مذکور ہے۔

~       عُود      ،        عَود :

عُود ایک خوشبودار درخت ہے اور اس کی خوشبو کو بھی عُود کہتے ہیں۔ ’’عُود ِ ہندی‘‘ غالب کے خطوط پر مبنی کتا ب کا نام بھی ہے۔ عُود کی لکڑی کو خوشبو کی غرض سے جلایا جاتا ہے۔ تبھی تو قتیل شفائی کو بڑی دور کی سوجھی کہ :

  ؎          برنگِ عُود ملے گی اسے میری خوشبو  

        وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے

اس کے برعکس "عَود" کا مطلب واپس آنا، لَوٹنا، پلٹنا اور دوبارہ رواج پانا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بات حافظے میں عَود آئی ہے یا کوئی بیماری عَود کر آگئی ہے۔

ہم شکل الفاظ پر کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇

 ہم شکل الفاظ:


شکریہ۔۔۔آپ کے کمنٹس کا انتظار۔۔۔۔۔۔

#Urdu Ke Kuch Judwan Alfaz

AreeB TLM


The Ocean Cleanup Mission

 انتخاب: نوشاد علی ریاض احمد۔

The Ocean Cleanup Mission

کائنات میں بے شمار کہکشائیں ہیں ۔ جن میں سے ہمارا نظام شمسی آکاش گنگا کے کنارے پر ہے۔ زمین اس نظام شمسی کے 9 سیاروں میں سے ایک ہے۔ جہاں 84 لاکھ اقسام کی انواع ہیں۔ یعنی انسانوں سمیت جاندار۔ علم کے ذرائع خواہ افسانوی تحریریں ہوں یا جدید سائنس، دونوں قسم کے دانش وروں کا خیال ہے کہ کائنات میں زمین ہی واحد سیارہ ہے جہاں زندگی ہے۔ آسمان، ہوا، آگ،پانی اورزمین پانچوں عناصر کا مجموعہ ہے۔

زمین کا 70 فیصد پانی ہے، صرف 30 فیصد زمین ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس دنیا میں کروڑوں لوگ پینے کے پانی کو ترستے ہیں۔ بعض مقامات پر صاف پانی بے کار بہہ رہا ہے تو بعض مقامات پر جانداروں کو بھی آلودہ پانی نہیں ملتا۔ انسان ہو یا جانور سب کو پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر کوئی پانی کو صاف رکھنے کے لیے کوششیں نہیں کرتا، واقعی کوشش کبھی نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کی تنظیموں اور بعض این جی اوز کا اندازہ ہے کہ سمندر میں کچرا مسلسل بڑھ رہا ہے، یہ کچرا انسانی بستیوں سےنکل کر دریاؤں کے ذریعے سمندر میں چلا جاتا ہے۔

اوشین کلین اپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ زمین پر پانی صاف رہےبارش کے موسم میں دریا کچرے سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں ایک موثر تنظیم دی اوشین کلین اپ موجود ہے۔ جو دریاؤں، تالابوں اور ساحلوں کو مختلف تکنیکوں کے ذریعے صاف کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دی اوشین کلین اپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پلاسٹک کی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ دریا ہیں۔ وہ شریانیں ہیں جو زمین سے سمندر تک فضلہ لے جاتی ہیں۔ دنیا کے 1000 ندیوں سے پھیل رہا ہے 80 فیصد ریکور پلاسٹک۔۔۔۔

دی اوشین کلین اپ کی تحقیق کے مطابق، 1000 ندیاں تقریباً 80 فیصد ریکور آلودگی کے ذمہ دار ہیں۔ اگر چہ دنیا میں ہزاروں ندیاں بہتی ہیں۔ لیکن کچھ ندیا ں ایسی بھی ہیں ۔جن سے بڑی مقدار میں گندگی سمندر تک پہنچتی ہے۔ اوشین کلین اپ اپنے خصوصی انٹرسیپٹرز کی مدد سے ندیوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔دی اوشین کلین اپ کی تحقیق کے مطابق، 1000 ندیاں تقریباً 80 فیصد ریکور آلودگی کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ دنیا میں ہزاروں ندیا ہتے ہیں۔ لیکن کچھ ندیا ایسی بھی ہیں ۔جن سے بڑی مقدار میں گندگی سمندر تک پہنچتی ہے۔ اوشین کلین اپ اپنے خصوصی انٹرسیپٹرز کی مدد سے ندیوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

The Ocean Cleanup

اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے مئی 2023 کے آخر میں ریو لاس وکاس، گوئٹے مالا میں جانچ کے لیے ایک انٹرسیپٹر بیریکیڈ نصب کیا ہے۔ ان کا انٹرسیپٹر بیریکیڈ میں دو بوم ہوتے ہیں : پہلا آپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹیم ۔ ایک اپ اسٹریم دباؤ بنا کر کچرے دو ہیں: ا کو کھینچتا ہے۔ جب کہ دوسرا کچرے کو پانی سے چھلنی کی طرح الگ کرتا ہے۔ پلاسٹک نکالنے کے لیے یہ سب سے موزوں اور موثر حل سمجھا جاتا ہے۔

8 ممالک میں 15 انٹرسیپٹر زلگائے گئے ہیں، 2025 تک بڑی مہم

اوشین کلین اپ کے پاس اس وقت 8 ممالک میں 15 انٹرسیپٹرز لگائے گئے ہیں۔ کی حمایت کرنے Ocean Cleanup The    کے بارے میں مزید جانے کے لیے Theoceancleanup.com  پر جا سکتے ہیں۔ Ocean Cleanup رکھنے والے میں دلچسپی رکھنے واےسمندر کے پانی کو صاف رکھنے کے لیے اس تنظیم کا مقصد 2025 تک 1000 ندیوں پرانٹرسیپٹر سسٹم نصب کرنا ہے۔

بشکریہ :۔۔۔بھارت ایکسپریس

https://x.com/gigadgets_/status/1715216016626917761?t=ccIXrBxpzFCoHhmOrhgK0g&s=09