Kamandal se Carrybag tak

کمنڈل سے کیری بیگ تک 

قلمکار:۔ نعیم سلیم ، مالیگاؤں ، ناشک مہاراشٹر

پلاسٹک کے اس دور میں اگر ہم بچوں سے پوچھیں کہ کمنڈل کسے کہتے ہیں؟ تو ممکن ہے وہ بتادیں لیکن زمانے کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر دس سال بعد کا تصور کریں اور اُس وقت کے کسی  بچے سے پوچھیں، بیٹا کمنڈل کسے کہتے ہیں..؟ تو وہ حیرت سے ہمارا منہ تکے گا کہ کیا احمقانہ  سوال پوچھا ہے۔بچہ زیادہ چالاک رہا تو کہہ دیگا کہ جس طرح مراٹھی لفظ منڈل ہے۔اسی طرح کمنڈل بھی ہوگا.......

ماضی قریب میں صبح سے رات تک گلی محلے سڑکوں پر کمنڈلوں کی بہاریں نظر آتی تھیں۔ناشتے کے مختلف آئٹم، چائے،دودھ،تیل وغیرہ،اسی طرح رات میں کھاناولوں پر پارسل لےجانے کیلئے کمنڈلوں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔۔۔کیا چھوٹے کیا بڑے سبھی بڑی شان سے کمنڈل ہلاتے ڈُلاتے مختلف اشیاء لاتے لے جاتے تھے۔بچوں کے ہاتھوں  میں کوئی کھیلنے والی چیز نہ ہو تو ایک عدد کمنڈل ضرور نظر آتا تھا۔۔۔۔۔

پاس پڑوس میں ایک دوسرے کے تئیں خلوص اور محبت کی غالباً سب سے بڑی علامت یہی کمنڈل ہوا کرتا تھا۔ایک گلاس سے بھی چھوٹی سائز سے لیکر ایک جگ یا کلسی کی سائز تک کے کمنڈل دستیاب رہا کرتے تھے۔ایک گھر میں دوسے زائد کمنڈل بھی کم پڑتے تھےکیونکہ افراد سے زیادہ کمنڈل متعلقین کے گھروں میں گردش کیا کرتے تھے۔۔۔۔

گھر میں اچھا پکوان بنا جھٹ بڑے بوڑھے بہن بیٹیوں کے گھر کمنڈل میں پہنچانے کا انتظام کرتے۔۔۔کمنڈل کی قسمت کا ستارہ  اس وقت چمکتا  جب لڑکی لڑکے کا رشتہ پکاّ ہوجانے کے بعد مختلف پکوان (زبردستی ہی سہی ) طرفین  کے گھروں میں پہنچاتے اور جن کے یہاں بھرا کمنڈل آتا اسے خالی واپس نہ کرتے۔اسی کمنڈل میں اچھا پکوان بنا کر یا کم ازکم مٹھائی وغیرہ رکھ کر واپس کرتے۔اس رسم سے نجانے کتنے بچوں کو چھپ چھپاکر مٹھائی کھالینے کا موقع میسر آجاتا تھا۔  خیر، اس  سے کمنڈلوں کی اہمیت سمجھی جاسکتی ہے۔ہوسکتا ہے اب بھی کچھ گھرانوں میں کمنڈل کا رواج محض اس رسم کو نبھانے کیلئے چل  رہا ہوگا۔ارے بھئ عوام کی اکثریت سادہ کھانا کھاتے اور پکاتے تھے۔ایسے میں مرغن غذائیں کمنڈل میں آجائیں تو بھلا کون خالی واپس کرے۔اب مرغن غذائیں عام ہیں تو کیا کوئی بھیجے۔

ایک دوسرے کو کمنڈل دینے میں لوگوں کے کترانے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کمنڈل ایک سے دوسرے،دوسرے سے تیسرے چوتھے گھر گردش کرتا تھا اور جب اسکے مالک کو ضرورت ہوتی تو لیجانے والے گھر کے بڑے یا بچے دو تین گھروں کا چکر لگاتے تب وہ ہاتھ آتا۔۔۔دوسری وجہ اسکا تبدیل ہوجانا یا اسکے ڈھکن کا بدل جانا تھا۔اسلئے لوگ جتا کر دیتے تھے کہ کام ہوجائے تو فوراً واپس کردینا۔ڈھکن تبدیل نہ ہو نے دینا وغیرہ....

ایک موقع ایسا آتا تھا کہ لوگ اپنا جائز و ناجائز غصہ کمنڈلوں پر اتارتے تھے۔جی ہاں شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا ختم ہوجاتا تو یہ چرچا سننے میں آتی، طبیعت سے کمنڈل چل گیا،اسلئے کھانا گھٹ گیا۔۔۔۔اور واقعئ کچھ ایسے بھی لوگ تھے جن کے نام سے کھانا کمنڈلوں میں جاتا اور وہ لوگ شادی کے منڈپ میں آکر کھاتے تھے اور کمال تو یہ ہیکہ عوام میں  بدنام ہوجانے کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے۔۔۔چنانچہ سارا کا سارا الزام کمنڈلوں کے سر جاتا ہوا دیکھ کر ہمارے ذمہ داروں نے فیصلہ کیا اور اس حکم کو عام کردیا کہ شادی کی دعوت میں کمنڈل قطعی نہ لائیں۔جو مجبور ہیں انکے لئے علاحدہ سے پکا لیں۔۔۔۔

کمنڈل کے اس سنہری دور کا خاتمہ پلاسٹک کیری بیگ کی وجہ سے ہوا۔جب سے کیری بیگ مارکیٹ میں آئی  کمنڈل فیکٹریوں کا حال پتہ نہیں کیا ہوا مگر ہم کمنڈل دیکھنے سے ترس گئے۔ اب گھر کے کسی کونے میں لٹکا دکھائی دیتا ہے ۔روز مرہ استعمال کی اکثر چیزیں دودھ ،چائے،کافی،تیل،شربت،کرانہ،میڈیکل،اسٹیشنری وغیرہ کے تمام آئٹمس  کیری بیگ میں دستیاب ہیں۔

کیری بیگ اتنے کام کی چیز ہیکہ چندسال کا بچہ بھی جانتا ہے اور چند ماہ کا بھی کہ ضرور اسمیں مٹھائی وغیرہ ہوگی کیری بیگ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہمارے عزیز دوست معروف ادیب  طاہر انجم صدیقی صاحب نے برسوں پہلے کیری بیگ  عنوان سے ایک افسانہ لکھ ڈالا تھا۔۔۔۔

بھلے ہی دوسری چیزوں میں انسان کالے رنگ کو نظر انداز کرتا ہے۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔

 کیری بیگ کے معاملے میں اکثر دوکانداروں سے کالے کلر کی فرمائش کرتا ہے۔رنگین کیری بیگ اور کالی کیری بیگ میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم جن چیزوں کو پردے میں  لیجانا چاہتے ہیں تو انہیں کالی کیری بیگ اور جنھیں بتاکر یا جتاکر  لیجانا چاہتے ہیں تو رنگین یا سفید کیری بیگ میں تاکہ غلط فہمی کی کوئی  گنجائش باقی  نہ رہے۔۔۔۔۔۔

کیری بیگ میں لیجانے والی وزنی چیزیں اکثر گرجاتی تھیں اور انسان پلاسٹک کا ہینڈل ہاتھوں میں تھامے بڑی حسرت سے گری ہوئی شئے دیکھا کرتا تھا یہ پلاسٹک کمپنیوں کو نہ دیکھا گیا تو انہوں نے کافی جاڑی اور مضبوط تھیلیاں بنانا شروع کیں جسمیں وزن دار اشیاء رکھی جاسکتی ہیں۔اسلئے کچھ لینے کیلئے اب گھر سے کمنڈل ودیگر برتن لے کر نکلنا شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ہر چند کہ کیری بیگ کا استعمال صرف اور صرف گندگی بڑھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔سڑکوں،گلیوں میں جابجا اڑتی پھرتی کیری بیگ گٹروں میں جائے تو گٹر بلاک کردے۔مگرہمیں اس سے کیا ؟ ہم تو کارپوریشن اور عوامی نمائندوں کو ہی گندگی کا ذمہ دار کہیں گے۔۔۔۔

کبھی کبھی میں مشہور زمانہ قوالی،  ‘‘چاند کو چھونے والے انساں دیکھ تماشا لکڑی کا  ’’ سنتا ہوں تو دل بے اختیار چاہتا ہے کہ عصر حاضر کا کوئی شاعر  اس کے جواب میں  ‘‘ چاند کو چھونے والے انساں دیکھ تماشا پلاسٹک کا ’’  عنوان سے لکھے۔میرے ہم مزاج دوست ادیب وشاعر فرحان دل صاحب ہی لکھ دیں تو اسے لطیف حیراں صاحب سے پڑھواکر جھوم لیں گے۔۔۔

ایک کیری بیگ کا ہی کیا رونا آجکل  روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء پلاسٹک کی بن رہی ہیں اور یہ سب یوز اینڈ تھرو فارمولے پر بن رہی ہیں۔اسلئے جدھر نظر اٹھاؤ ادھر پلاسٹک نظر آتی ہے۔۔۔۔پلاسٹک کی خوبی یا خامی ہے کہ وہ جلد سڑتی گلتی نہیں ہے اسلئے جابجا کچروں کا ڈھیر،پلاسٹک کا انبار نظر آتا ہے۔کاش اس کے نعم البدل کے طور پر پھر سے کمنڈل کا دور نہ بھی آئے تو کم ازکم پلاسٹک کا استعمال محدود ہوجائے تاکہ گندگی پر کنٹرول ہوسکے۔۔۔۔۔۔(گزشتہ دنوں حکومت مہاراشٹر نے پلاسٹک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اندرون تین ماہ پرانا اسٹاک ختم کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگ جائے گی. پھر شاید کمنڈل نظر آنے لگیں)

Telegram link
https://t.me/AreeBTLM


HumShakal Alfaz(Similan)

 ہم شکل الفاظ:

اردو زبان کی یہ خوبی  ہے کہ کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا املا ایک جیسا ہوتا ہے ۔لیکن اعراب لگانے یا اعراب کے فرق کی وجہ سے اُن کے معنی بدل جاتے ہیں۔

ایسے ہی کچھ الفاظ  آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔







نوشاد علی ریاض احمد ۔
PDFیہاں سے ڈانلوڈ کریں۔←
ٹیلی گرام لنک 
https://t.me/AreeBTLM



11 November

 مولانا ابوالکلام آزاد :

آج 11 نومبر..... ہندوستان کے عظیم سیاسی و ملی رہنما...بے باک صحافی و ادیب...لاجواب شاعر و نثر نگار ... بہترین عالم دین و مفسر قرآن...رہنمائے اعظم اور عبقری شخصیت " مولانا ابولکلام آزاد " کا یوم ولادت ہے

مولانا آزاد 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین پر پیدا ہوئے اور 69 سال کی عمر میں 22 فروری 1958 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے-

11 نومبر مولانا کے یوم ولادت کو قومی تعلیمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد محترم محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ مولانا کی والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں کے ہو کر رہے گئے-

1857ء کی جنگ آزادی کے دوران مولانا آزاد کے والد محترم کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی اور وہ کئی سال عرب میں مقیم رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد محترم سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف پندرہ سال کی عمر میں لسان الصدق نامی ماہنامہ جاری کیا جس کی تعریف مولانا الطاف حسین حالی نے بھی کی ہے ۔1912ء میں الہلال نامی اخبار نکالا۔1914 میں انگریزوں نے الہلال کی ضمانت ضبط کرلی تو مولانا نے البلاغ نامی اخبار جاری کیا-

مولانا بہ یک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال و بیباک  صحافی اور ایک بہترین منفرد مفسر قرآن تھے۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے اور تا حیات اس عہدے پر فائز رہے-

1920 میں دہلی میں مولانا کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات ہوئی جن کی قیادت میں تحریک عدم تعاون میں حصہ لینے کی پاداش میں انھیں گرفتار کر لیا گیا اور دوسال قید کی سزا ہوئی ۔ستمبر1923میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس منعقدہ دہلی کے صدر منتخب ہوئے اور پھر 1930 میں کانگریس کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے منتخب کیے جانے کے بعد گرفتار کرلیے گئے اور 1932 تک جیل میں ہی مقید رہے اس کے بعد 1937 میں کانگریس پارلیمنٹری ضمنی کمیٹی کے ممبر ہوئے اور 1940 میں کانگریس کے صدر چنے جانے کے بعد 1946 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

کانگریس پارٹی میں مولانا کا جو مقام و مرتبہ تھا وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کے رعب اور دبدے کا یہ عالم تھا کہ اچھے اچھوں کا پتا ان کے آگے پانی ہوتا تھا اور ولبھ بھائی پٹیل اور گووند ولبھ پنت جیسے بڑے کانگریسی رہنماؤں کی بولتی ان کے سامنے بند ہوجایا کرتی تھی۔

انتہا تو یہ ہے کہ جب وہ وزیر تعلیم تھے تو وزیر اعظم نہرو تک کو ان سے ملاقات کے لئے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا تھا.... نہرو کا کہنا تھا کہ

’’ مولانا کے علم اور مطالعے کے سامنے مجھے اپنا علم دریا کے سامنے پانی کا ایک قطرہ دکھائی دیتا ہے‘‘

عبدالرزاق ملیح آبادی نے لکھا ہے کہ ’’ ایک دن ایسا ہوا کہ کوئی پانچ بجے شام گاندھی جی اچانک آپہنچے، میں نے ان کا استقبال کیا اور دوڑ کر مولانا کو اس کی خبر کی۔ انھوں نے سنا، مگر جیسے سنا ہی نہیں۔ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ فرمایا  " ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس وقت ان سے ملنے سے معذور ہوں۔ کل نو بجے تشریف لائیں‘‘ عرض کیا ’’ غور فرمالیجیے، کیا یہی پیغام پہنچادوں؟‘‘ کسی قدر تیکھے تیوروں سے فرمایا ’’ اور کیا؟ گاندھی جی میں سرخاب کے پر تو نہیں لگے ‘‘

مولانا آزاد کی ہمہ جہت طلسماتی شخصیت کا احاطہ کرنا ناممکنات میں شامل ہے۔ وہ تحریروتقریر دونوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ حکمت و دانائی....سیاسی تدبر....دور اندیشی...دینی و دنیاوی معاملات میں یکساں دسترس..علم و ادب میں مہارت و کمال...زبردست قائدانہ صلاحیت.... ان تمام خوبیوں کا امتزاج مولانا کی شخصیت خاصہ ہے جو ہمارے آج کے رہنماؤں میں خال خال نظر آتا ہے.... ان کی یادداشت کا عالم یہ تھا کہ ہزارہا اشعار انھیں زبانی یاد تھے۔ ان کی بے مثال شخصیت قدیم و جدید اقدار کا حسین سنگم تھی۔ بصیرت کے اعتبار سے بھی مولانا کا کوئی ہمسر و ثانی نہیں تھا۔ اس حوالے سے ان ہی کے منہ سے نکلا ہوا یہ فقرہ دیکھیں.....

’’ تم لوگ پانی اور کیچڑ کو دیکھ کر بارش کا یقین کرتے ہو، میں اس کو ہوا میں سونگھ کرجان لیتا ہوں۔‘‘

بلاشبہ مولانا کا شمار ان چند برگزیدہ اور عبقری ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے عہد سے کہیں زیادہ بڑی تھیں...آج ہندوستان میں مسلمانوں کی جو تعداد ہے یہ حضرت کی ہی تگ و دو اور شاندار و معنی خیز تقاریر کا ہی نتیجہ ہے جو آپ نے تقسیم ہند کے موقع پر جامع مسجد کے زینوں سے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے سے روکنے کے لئے کی تھیں....

مولانا آزاد کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی جو مسلمانوں کی صحیح رہنمائی اور نمائندگی کرسکے....

اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے....آمین...



Youm-e-Atfaal

 ہم یومِ اطفال کیوں مناتے ہیں؟؟

یومِ اطفال۔

پوری دنیا میں بچوں کی تعداد ۲ء۲ بلین ہے ۔ یہی بچّے    آگے چل کر بڑے ہوتے ہیں اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچّے کافی اہمیت رکھتے ہیں اور جِسے سمجھتے ہوئے مختلف ممالک میں ، مختلف ایام میں یومِ اطفال مناتے ہیں۔

        ہر سال عالمی سطح پر ۲۰نومبر کو یومِ اطفال منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی پرورش ، صحت ، فلاح و بہبودی ، ان کا حقوق ، ان کی حوصلہ افزائی وغیرہ ہیں۔ ہندوستان میں یومِ اطفال کا ذکر کرتے ہی ہمیں فوراً  پنڈت جواہر لعل نہرو یاد آجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس خاص دن سے جواہر لعل نہرو کا نام جُڑا ہوا ہے۔ ۱۴ نومبر کو ہندوستان میں یوم ِ اطفال منایا جاتا ہے۔ ۱۹۶۴ء میں ان کے انتقال کے بعد سے اس تقریب کی شروعات ہوئی ۔ ۱۴نومبر ملک کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا یومِ پیدائش ہے اور انہیں بچوں سے بہت محبت تھی۔بچوں کے اسی لگاؤ کی وجہ سے نہرو جی کو بچّے  ‘‘ چاچا نہرو’’ کہہ کر پکارتے تھے ۔ یعنی بڑے پنڈت کہہ کر پکارتے تو بچّے چاچا نہرو۔۔۔



آج ان کے بچپن کا ایک واقعہ پڑھیں گے۔۔۔

والد کا ڈر

                         جواہر لعل نہرو کا شمار دنیا کے عظیم ترین انسانوں میں ہوتا ہے ۔ وہ بڑے بہادر ، رحم دل اور فیاض تھے ۔ ملک آزاد ہوجانے کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور 17 سال تک وزیراعظم رہے ۔ بچپن میں وہ اپنے والد سے کافی ڈرتے تھے ۔

 ایک مرتبہ اسی ڈر کی وجہ سے انہوں نے جھوٹ کہہ دیا تھا ۔ ان دنوں وہ کوئی پانچ چھ سال کے ہوں گے ۔ اپنے والد کے دفتر کے کمرہ میں جاکر انہوں نے دیکھا کہ میز پر دو فاؤنٹین پین رکھے ہیں۔ ایک ہی جگہ دو فاؤنٹین پین دیکھ کر ان کا جی للچا اُٹھا۔  سوچا کہ والد صاحب دونوں قلموں کو ایک ساتھ تو کام میں لا نہیں سکتے۔ ایک اُٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔ کچری سے ان کے والد نے آکر دیکھا تو ایک قلم غائب!

کچھ نہ پوچھو ، سارا گھر تلاش کیا جانے لگا ۔ سب سے پوچھ گچھ ہوئی۔

انہوں نے جواہر لال نہرو سے پوچھا، "ننھے! کیا تم نے میرا قلم لیا ہے؟"

ڈر کے سبب انہوں نے جواب دیا، "نہیں، پتاجی!"

 قلم کی تلاش جاری رہی۔ قلم مل گیا اور جواہر لال کا قصورثابت ہوا۔

اب تو پنڈت موتی لال جی کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی ۔ جی بھر کے بیٹے کی مرمت کی۔ مار کھا کر بیچارے اس دن ماں کی گود میں لیٹے رہے۔  سارے جسم میں مار کی وجہ سے تکلیف تھی ۔ کئی دن تک ماں دوا وغیرہ ملتی رہیں ۔ آئندہ ایسی حرکت سے توبہ کر لی ۔

https://t.me/AreeBTLM

3 Activity Book

 مشقی بیاض نمبر ۳

یہاں سے آپ PDF ڈانلوڈ کریں۔↡

Download





Reading Cards 2

 Animals And Fruits Charts









Telegram link =

https://t.me/AreeBTLM


Alif-Mohawrey

 الف سے شروع ہونے والے محاورے اور ان کے مطلب:

 

آ بندھنا : آکر بندھ جانا

آ پڑنا : گر پڑنا

آ پھنسنا : فریب میں آنا

آ پہنچنا : پاس آنا

آ لگنا : قریب تر ہونا

آ لینا : پاس آنا

آ نکلنا : اتفاقاََ چلے آنا

آب آپ ہونا : خفیف ہونا

آب آب کرنا : شرمندہ کرنا

آب آ جانا : چمک جانا

ۤآبرو پر حرف آنا : ذلیل ہونا

آبرو پر پانی پھیرنا : عزت گنوانا

آب و دانہ اٹھنا : مرجانا، منتقل ہونا

آب و دست لینا : طہارت کرنا

آب رکھوانا : سان رکھوانا ،صیقل کروانا

آب ہونا :رقیق ہونا

آباد رہنا :بسنا ،بھرا رہنا

آبرو اتارنا :ذلیل کرنا

آبرو بڑھانا : رتبہ بڑھانا

 

آپ کی کیا بات ہے :آپ کی بڑی ہمت ہے

آپ کاج مہاراج :اپنا کام سب سے بڑا کام ہوتا ہے

آپے سے باہر ہونا :بہت ناراض ہونا ، ہوش و حواس میں نہ رہنا

آتش زیر پا ہونا :بہت بےقرار ہونا

آج کل کرنا :وعدہ خلافی کرنا

آج مرے کل دوسرا دن :مرنے کے قریب ہیں ، وقت گزرنے میں دیری نہیں لگتی

آخرت سنوارنا :نیکی کے کام کرنا

آٹا گیلا ہونا :مصیبت میں پھنسنا

آٹے میں نمک کے برابر ہونا :بہت کم ہونا

آٹے کے ساتھ گھن پسنا : ایک کے سبب دوسرے پہ آفت آنا

آٹھ آٹھ آنسوں رونا : پھوٹ پھوٹ کر رونا

آدمی بنانا : تربیت کرنا

آداب بجانا : انکساری سے پیش آنا

آڑے آنا :مشکل میں مدد کرنا

آڑے ہاتھوں لینا : ڈانٹنا

آڑ میں شکار کھیلنا :دھوکا دینا

 

آس باندھنا : امید میں رہنا

آسرا کرنا : بھروسہ کرنا ، امید کرنا

آسمان پر اڑنا :غرور کرنا

آسمان میں چھید ہونا : بہت بارش ہونا

آسمان پر تھوکنا : نامناسب کام کرنا

آسمان ٹوٹنا : سخت مصیبت پیش آنا

آسمان سے تارے توڑ لانا : ناممکن کام کرنا

آسمان سے باتیں کرنا : بہت بلندی پہ پہنچنا

آسمان سر پہ اٹھانا : بہت شور مچانا

آستین چڑھانا : لڑنے کو تیار ہور ہونا

آستین الٹنا، آستین چڑھانا : کسی کام پہ مستعد ہونا

آسمان و زمین کا فرق ہونا : بہت بڑا فرق ہونا

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا : ایک مصیبت سے بچا دوسری میں پھنسا

آستین کا سانپ ہونا : چھپا ہوا دشمن ہونا

آستین میں سانپ پالنا : دشمن کو دوست سمجھنا

 

آغوش کھولنا : گود میں لینا

آفت کا پرکالہ :مصیبت برپا کرنے والا

آفت آنا : مصیبت کا بلا کا وارد ہونا

آفت توڑنا : ظلم کرنا

آفت ٹالنا : مشکل سے نجات پانا

آگ پانی کا بیر : دشمنی

آگ بگولا ہونا :بہت غصہ ہونا

آگ میں تیل ڈالنا : فساد کو بڑھانا

آگ اٹھانا : جھگڑا پیدا کرنا

آگ اٹھنا : فتنہ و فساد کا پیدا ہونا

آگ برسنا : شدت کی گرمی پڑنا

آگ پھانکنا : مبالغہ کرنا ، شیخی کرنا

آگ سے پانی ہو جانا : غصہ اترنا

آگا بھاری ہونا : راستے کا پر خطر ہونا

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ : ایک کام ادھورا چھوڑ کر دوسرا شروع کرنا

 

آم کے آم گٹھلیوں کے دام :دو فائدے ہونا

آن بان سے رہنا : ٹھاٹھ سے رہنا

آنکھیں بچھانا : عزت کرنا

آنکھ کا تارا ہونا :بہت پیارا ہونا

آنکھیں دکھانا : دھمکی دینا

آنکھوں میں خاک ڈالنا : دھوکہ دینا

آنکھ چرانا : کرتانا،شرمانا

آنکھ ملانا : مقابل ہونا

آنکھ بھر آنا : دکھی ہونا

آنکھ مارنا : اشارہ کرنا

آنکھ سینکنا : حسینوں کو گھورنا

آنکھ ٹیڑھی کرنا : بے مروت ہو جانا

آنکھ میں کھٹکنا : گراں خاطر ہونا ،ناگوار ہونا

آنکھوں پہ جگہ کرنا : تعظیم و تکریم کرنا

آنسوں پوچھنا : تسکین دینا

آئنہ دکھانا : حقیقت عیاں کرنا

آئینہ ہونا : عیاں ہونا روشن ہونا

آوے کا آوے بگڑا ہوا ہے : سب کے سب نالائق ہیں

 

ابتر ہونا : کام خراب ہونا

اپنا سا منہ لے کر رہ جانا : شرمندہ ہونا

اپنا مارے چھاؤں میں بٹھائے : غصہ میں بھی اپنا رحم کرتا ہے

اپنے منہ میاں مٹھو بننا : اپنی تعریف خود کرنا

اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا : اپنا نقصان خود کرنا

اپنے حق میں کانٹے بونا : اپنے لئے برائی کرنا

اپنے گریبان میں منہ ڈالنا : اپنی حالت پہ غور کرنا

اپنے ہاتھوں قبر کھودنا : اپنا نقصان خود کرنا

اپنی راہ لگنا : اپنا کام کرنا

اپنا الو سیدھا کرنا : اپنا مطلب نکالنا

اپنی ہی کہنا : اپنی باتوں کے آگے کسی کی کچھ نہ سننا

اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے : کمزور بھی اپنے گھر میں بہادر ہوتا ہے

اپنی کھال میں مست ہونا : اپنے حال میں خوش رہنا

اتنا سا منہ نکل آنا : کمزور ہونا

 

ادھر کی دنیا ادھر کرنا : حالت بدل جانا

افرا تفری مچنا : بھگڈر ہونا

اڑنگا لگانا : کسی ہوتے ہوئے کام کو روک دینا

اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے : کام کا بدلہ جلد ملنا

افسانہ چھیڑنا : قصہ بیان کرنا ، شرگشت سنانا

افواہ اڑانا : جھوٹی یا بے بنیاد بات کا مشتہر ہو جانا

الٹی گنگا بہنا : دستور کے خلاف کام کرنا

الٹا توا : سیاہ فام

الٹا پھیرنا : آنے والے کو اسی وقت واپس کر دینا

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے : خطاکار سمجھانے والے کو برا کہے

الو بولنا : ویرانی ہونا

الو بنانا : احمق بنانا

الٹی دریا بہنا : دستور کے خلاف کام یا بات کرنا

الٹے پاؤں لوٹنا : جلد ہی واپس لوٹنا

 

امید باندھنا : توقع رکھنا

امید سے ہونا : عورت کا حاملہ ہونا

امید بر آنا : آرزو /خواہش کا پورا ہونا

امید ٹوٹنا : ناامید ہونا

ان بن ہونا : کشیدگی ہونا

انگلیوں پہ نجانا : تنگ کرنا یا اپنے اشارے پہ چلانا

انگوٹھا دکھانا : انکار کرنا

اندھیر مچانا : ظلم و ستم کرنا ، سینہ زوری کرنا

اندھوں میں کانا راجہ : جاہلوں میں کچھ جاننے والا

اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں : ضرورت مند کو اپنے مطلب سے غرض ہوتی ہے

اندھے کے آگے روئے اپنے ہی نین کھوئے : جاہلا ور نا اہل کو سمجھنا بے کار ہے

اندھے کو چراغ دکھانا : بے فائدہ اور فضول کام کرنا

اندھے کی لاٹھی بننا : بے سہارے کا سہارا بننا

اندھا بنانا : بےوقوف بنانا

انگاروں پہ لوٹنا : رشک و حسد سے جلنا /کڑھنا /بےقرار رہنا

 

اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں سے کیا ڈرنا : اہم کام شروع کرتے وقت دشواریوں سے کیا ڈرنا

اونچی دوکان پھیکا پکوان : شہرت زیادہ اصلیت کم

اوندھے منہ گرنا : زک اٹھانا ، ذلیل ہونا

اوکھلی میں سر دینا : ہلاکت میں پڑنا

اوس پڑنا : پژمردہ ہونا ، مایوس ہونا ،کمھلانا

ایک انار سو بیمار : کسی چیز کی قلت ہونا

ایک مچھلی تمام تالاب کو گندا کرتی ہے : ایک برا آدمی سب کو بدنام کرتا ہے

ایک آنکھ سے سب کو دیکھنا : مساوی برتاؤ کرنا

ایڑیاں رگڑنا : ضد کرنا

ایڑی چوٹی کا زور کرنا : کسی کام کو کرنے میں پوری قوت / محنت صرف کرنا

ایمان کی کہنا : سچی بات کہنا

اینٹ سے اینٹ بجانا : تباہ و برباد ہونا

انتخاب:

https://teachingadd.blogspot.com