Miyazaki Mango

جامنی آم کے استعمال اور صحت سے متعلق فوائد:

 میازاکی آم دنیا کے مہنگے آموں میں سے ایک ہے اور گذشتہ سال بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ فی کلوگرام 2.70 لاکھ میں فروخت ہوا ۔ ہندوستان نے بھی اسی طرح کی ترقی شروع کردی ہے۔ یہاں آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔



جامنی آم کے  استعمال اور فوائد:

 موسم گرما آم کا موسم ہے اور ہندوستان آم کی سب سے زیادہ اقسام پیدا کرنے والاملک ہے جس میں بائیگن پیلی ، دسہری ، الفونس ، لنگڑا ، کیسر، چوسا،طوطا پری ، بادام اور بہت سے دوسری اقسام شامل ہیں۔ غذائیت اور ذائقہ سےبھر پور ، یہ پکے ہوئے گودےدار پھل کے طور پر ، ٹھنڈےمشروب کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ، اور یہ یہاں تک کہ مختلف پکوانوں جیسے چٹنیوں ، آم پانوں ، آم کے اچار ، آم کیریلا ، گوشت ٹینڈرائزر ، اور سلاد میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آم کی سب سے مہنگی قسم جاپان میں پائی جاتی ہے؟

 جامنی رنگ کا آم عرف عام میں ‘‘  میازکی آم  ’’ جاپان کے شہر میازاکی میں کاشت کیے جانے والے مشہور پھلوں میں سے ایک ہے۔ تاہم ، حال ہی میں ، ہندوستان نے بھی اسی کی تیاری شروع کردی ہے۔

میازاکی آم کیا ہے؟

میازاکی آم دنیا کے مہنگے ترین آم میں سے ایک ہے اور گذشتہ سال بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ فی کلوگرام 2.70 لاکھ میں فروخت ہوا تھا۔ ان آموں کو 'تائیو-نو-توماگو' یا  'سورج کی روشنی کے انڈے' کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ پیلے رنگ یا  سبز رنگ کا نہیں ہوتا ہے ، جب یہ پک جاتا ہے تو یہ جامنی رنگ سے سرخ ہوتا ہے اور شکل ڈایناسور کے انڈوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ، یہ آم وزن میں 350 گرام سے زیادہ ہوتا ہے اور ان میں 15 فیصد یا اس سے زیادہ چینی کی مقدار ہوتی ہے۔

ان آموں کی کاشت کو ایک بہترین ترتیب کی ضرورت ہے۔ کافی گھنٹے دھوپ ، گرم موسم ، کافی بارش۔

 این ڈی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق ، یہ آم سال 1984 میں میازکی شہر میں کاشت کیے جارہے تھے۔ یہ صرف اپریل سے اگست تک دستیاب ہے۔ سب سے زیادہ ورسٹائل ذائقہ رکھنے کے علاوہ ، آم کو صحت سے متعلق بہت سے فوائد ہوتے ہیں۔ اسے ایسے ہی  نہیں 'پھلوں کا بادشاہ'  کہا جاتا ہے۔

 

میازکی آم کی قیمت کیا ہے؟

یہ نایاب پھل جاپان میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا پھل ہے۔ اس کی قیمت  6008 سے لے کر 2 آم کے ایک ڈبہ کے لئے 2.7 لاکھ روپے ہے۔ یہ آم تھائی لینڈ ، فلپائنی ، اور ہندوستان میں بھی کاشت کیے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ، مدھیہ پردیش کے جبل پور میں ایک جوڑے ان نایاب آموں کی پرورش کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے آم کے دو درختوں کی چوری کو روکنے کے لئے چار گارڈز اور چھ کتوں کو بھی تعینات کیا۔

Miyazaki Mango#


MIYAZKI MANGO (news)

 آپ نے آم کی کئی قسموں کے بارے میں پڑھا ہوگا، سُنا ہوگا اور ذائقہ سے بھی آشنا ہوں گے۔مگر اس خبر کے بعد آپ یقیناً   

 آم کی اس نایاب قسم کو دیکھنے اور چکھنے کے ضرور خواہش مند ہو جائیں گے۔

یہ آم  کوئی عام نہیں بہت خاص ہے، 2.7 ۔لاکھ روپےکلو فروخت ہوتا ہے۔

جاپانی نسل کے اس آم کو مدھیہ پردیش کے جبل پور میں اُگانے والے شخص نے اس کی حفاظت کے لیے ۴ محافظ اور ۶ کتے تعینات کیے ہیں۔

آم کھانا سب کو پسند ہوتا ہے۔ کاشتکاروں کو یہ آم آپ تک پہچانے کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔آم کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے بھی انہیں جد وجہد کرنی پڑتی ہے۔ یو ں تو باغبان ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اگر آمد کچھ زیادہ قیمتی ہو تو اس کی سیکوریٹی پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ایسے ہی ایک آم کے باغ کی سیکوریٹی موضوع ِ بحث ہے۔ آم کا یہ مشہور باغ مدھیہ پردیس میں واقع ہے۔یہاں کے جبل پور کے رہنے والے سنکلپ پریہار نے آم کی ایسی قسم اُگائی ہےجو بازار میں 2.5  لاکھ میں فروخت ہوتی ہے۔پہلے تو انہیں خود ہی نہیں معلوم تھا کہ انہوں نے کون سا آم اُگایا ہے؟ جب سنکلپ اور اس کی بیوی کو اس کے بارے میں معلوم ہواتو انہوں نے اس کے لیے  سیکوریٹی گارڈ اور کتوں کو تعینات کیا۔ فی الحال آم کے ان درختوں کی سیکوریٹی پر ۴ گارڈ اور ۶ کتے تعینات ہیں۔

جاپانی آم ‘ میازاکی’ سونے کی طرح مہنگا ہے۔

سنکلپ اور اس کی بیوی بتاتی ہیں کہ ٹرین کے ذریعہ چنئی جانے کے دوران ایک شخص نے انہیں اس کا پودا دیا تھا۔ انہوں نے گھر آکر اپنے باغیچے میں یہ آم لگادیا۔ انہیں خود نہیں معلوم تھا کہ یہ کون سا آم ہے ؟

        جب ان کے درخت بڑے ہوئے اور ان درختوں پر سرخ رنگ کے آم نظر آنے لگے تو انہیں حیرانی ہوئی۔ اس کے بعد جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے آم کی سب سے مہنگی قسم میں سے ایک ‘ میازاکی ’ آم اُگالیا ہے ۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت ۲ لاکھ ۷۰ ہزارروپے فی کلو ہے۔

گزشتہ سال چوری ہونے کے بعد سیکوریٹی انتظام کیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق باغ کے مالک کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کچھ چوروں کو اس کے بارے میں معلوم ہوگیا تھا اور انہوں نے باغیچے میں چوری کرلی تھی۔ وہ آم تو چُرا کر لے گئے لیکن پودوں کو ہم نے بچا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال ہم نے آم کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں۔اب اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسے پہلے ۶ کتوں اور ۴ محافظوں کو مات دینا ہوگا تب ہی وہ آم تک پہنچ سکے گا۔

۲۱ہزار روپے کا ایک آم

اس طرح کی سخت سیکوریٹی کے پیچھے ایک وجہ یہ ہے کہ باغ کے مالک کو ایک خریدار بھی مل گیا ہے۔ گجرات میں رہنے والے ایک تاجر نے میازاکی آم خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہےاور اس تعلق سے ایک معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ وہ ایک آم کے ۲۱ ہزار روپے دے کر خریدنے کے لیے تیار ہے۔میازاکی آم میں بیٹا کیروٹین ، فولک ایسڈ اور اینٹی آکسیڈینٹ بھر پور مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو آنکھوں کی روشنی کے لیے بھی اچھے ہیں۔ جاپان کے میازاکی شہر میں یہ پہلی مرتبہ کاشت کیا گیا تھا، اس لیے اس سرخ آم کا نام بھی میازاکی آم ہے۔

بشکریہ ۔۔ انقلاب





Two Letter Words

 Today, We are learning 2 letter Words.

am  ,  an  ,  as  ,  at  ,  be  ,  by

do  ,  go  ,  he  ,  hi  ,  if  ,  in

is  ,  it  ,  me  ,  no  ,  of  ,  or

on  ,  so  ,  to  ,  us  ,  up  ,  we

#education      #learning    #online teaching



Mumbai ki Jama Masjid

 ممبئی کی جامع مسجد 

ممبئی کی تاریخی جامع مسجد کے وسیع وعریض حوض کی 22برس بعد مکمل صفائی

230 سالہ اس قدیم مسجد کی بنیادیں حوض پرقائم ہیں اورقدرتی طور پر دیواروں اور فرش سے میٹھے پانی کےمتعدد چشمے جاری ہیں۔

ممبئی کرافورڈ مارکیٹ کی تاریخی جامع مسجد کے وسیع و عریض حوض کی 22برس بعد اس طرح مکمل صفائی کی جارہی ہے کہ حوض کا پورا پانی نکال دیا گیا ہے ، اب مٹی وغیرہ صاف کی جارہی ہے۔ اس کام کے لئے  3 بڑے واٹر پمپ لگائے گئے  ہیں اور25  سے زائد عملہ آرکیٹکٹ اور انجینئر کی نگرانی میں اس کام پر مامور ہے ۔ 230 سالہ اس قدیم اورتاریخی مسجد کی بنیادیں 160 فٹ لمبے اور 70  تا 80 فٹ چوڑے حوض پرقائم ہیں اورقدرتی طور پر حوض کی دیواروں اور فرش سے میٹھے پانی کے متعدد چشمے جاری ہیں۔ان چشموں میں سے کسی میں کم تو کسی سے کافی مقدار میں اس قدر پانی نکل رہا ہے کہ صفائی کے بعد پھر پانی جمع ہوجاتا ہے ۔اس کے باوجود دیواریں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔عملہ اسے دیکھ کر حیران ہے ۔5 دن سے پانی کی نکاسی کی گئی اب مٹی صاف کی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ حوض میں موجود مختلف اقسام کی مچھلیوں کو بحفاظت بڑے بڑے ٹینک میں رکھا گیا ہے، صفائی کا کام مکمل ہوجانے کے بعد انہیں دوبارہ حوض میں    ڈال دیا جائے گا۔

 

 جامع مسجد کے اس حوض میں اندر سے اوپرتک 18 سیڑھیاں بنائی گئی ہیں اوران سیڑھیوں میں سے 8 سیڑھی تک ہمیشہ پانی رہتا ہے ۔حوض کی گہرائی 12 تا 14 فٹ ہے۔  بہت سے مصلیان اس میں داخل ہوکر وضو کرتے ہیں ۔

 

 پانی کو اب ہمیشہ صاف شفاف رکھنے کےلئے آکسیجن مشین کی تنصیب کافیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کی ہیئت یا رنگ وغیرہ تبدیل نہ ہو اور از خود صاف ہوتا رہے۔

 

 تقریباً 17 سال پہلے حوض کی صفائی کی گئی تھی لیکن اس وقت حوض کا پورا پانی خالی نہیں کیا گیا تھا بلکہ پانی کو صاف کیا گیا تھا لیکن اس وقت چونکہ لاک ڈاؤن ہے اورمسجد میں محض عملہ ہی نماز ادا کر رہا ہے اورپانی کی ہیئت بھی بدل گئی تھی اس لئے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس کام کا آغاز کیا گیا اور امید ہے کہ جب چند دن میں کووڈ کے حالات میں مزید بہتری کے بعد مساجد میں پہلے کی طرح مصلیان نماز ادا کریں گے تو اس صاف صفائی کا وہ مشاہدہ کرسکیں گے۔

 

 نمائندۂ انقلاب کے استفسار کرنے پر ان تفصیلات سے جامع مسجد ٹرسٹ کے چیئرمین شعیب خطیب نے آگاہ کروایا ۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال ہی اس کام کے لئے ترتیب بنائی گئی تھی لیکن چونکہ اس کام کےلئے مختلف ماہرین کی خدمات درکار تھیں اورسب کی موجودگی ضروری تھی جو گزشتہ سال کسی سبب ممکن نہ ہوسکی ،اس دفعہ ترتیب بن گئی اورنہ صرف کام کا آغاز کر دیا گیا بلکہ آدھے سے زیادہ کام مکمل بھی کر لیا گیا ہے۔

صاف صفائی کے دوران مسجد کی دیواریں ، طرز تعمیر، پختگی اورمضبوطی دیکھ کرخوش گوار حیرت ہوئی کہ 230 سال سے پانی پر کھڑے رہنے کے باوجود اللہ کے مقدس گھر کی دیواروں کو نقصان نہیں پہنچا ہے اور انجینئروں کے مطابق بحمداللہ مسجد کی دیواریں پوری طرح سے محفوظ اور مضبوط ہیں۔

 

ممبئی کی اس تاریخی جامع مسجد میں شاندار لائبریری ہے جس میں مختلف موضوعات پر 16000 نادر و نایاب کتابیں ہیں۔

 

ان کتابوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے کچھ عرصہ قبل انکا ڈیجیٹائزیشن کیا گیا ہے۔

جامع مسجد میں قدیم روئت ہلال کمیٹی ہے، جو سو سال سے زائد پرانی ہے.

یہاں چاند کے تعلق سے علماء اور روئت ہلال کمیٹی کے اراکین کے باہمی مشورہ سے شریعت مطہرہ کی روشنی میں عامۃ المسلمین کی راہنمائی کی جاتی ہے۔

 بشکریہ۔۔

سعید احمد خان انقلاب ممبئی




 

Muhasba

 

امید کرتا ہوں یہ انتخاب پڑھنے کے بعد کچھ تو تبدیلی آئے گی.N@R@

کوئی اہتمام سے تیار ہوا ہے بہت خوش ہے اور اچھا لگ رہا ہے،آپکی نظروں میں ستائش ہے جو سامنے والا  با آسانی دیکھ بھی سکتا ہے لیکن آپ نے زبان سے تعریف نہیں کرنی۔

 

کسی نے نیا گھر لیا ہے،نفاست سے سجایا ہے اور آپ کے اچھے جملوں کا منتظر ہے لیکن آپ ہیں کہ منہ باندھے بیٹھے ہیں،آپکو اسوقت اپنی ساری حسرتیں یاد آئینگی آپ مارے باندھے چند جملے کہیں گے لیکن کھل کے خوشی میں شریک نہیں ہونا۔

 

کسی نے بہت اچھا کھانا پکایا ہے ،آپ نے سیر ہو کر کھایا ہے ۔لوگ کھل کے داد دے رہے ہیں ،آپ کو دل سے پسند بھی آیا ہے لیکن آپ نے گویا زبان تالو سے چپکا لی ہے اور سراہا بھی تو یوں کہ "وہ جو میری فلاں فلاں کزن ہے وہ بھی اس ترکیب سے بناتی ہے بہت اچھا بنتا ہے"۔دراصل یہ مری ہوئی تعریف آپکو اپنے پاس ہی رکھنی چاہیے تھی۔

 

کسی میں کوئی خوبی ہے،کوئی صلاحیت ہے ،لوگ اسے سرہاتے ہیں،آپ دل ہی دل میں اسکی خوبی کے معترف بھی ہیں لیکن کبھی حوصلہ افزا کلمات منہ سے نہیں نکالتے کہ چھوڑو کہیں سر پہ ہی نہ چڑھ جائے۔

 

آپس میں کچھ مسئلہ ہوا ہے۔غلطی آپکی ہے لیکن آپ رشتے میں بڑے ہیں اسلئے معافی مانگنا تو بہت دور کی بات ہے نہ آپ اسے قبول کریں گے نہ رساؤ سے سلجھانے کے کوشش کریں گے بلکہ اپنے مرتبے کے بل پہ آپکی کوشش ہوگی کہ سارا ملبہ دوسرے پہ گرا دیا جائے 

 

کوئی دولت،طاقت یا مرتبے کی حیثیت سے آپ سے تھوڑا کم ہے،اس کے سامنے آپ کی گردن میں ہمیشہ سریہ رہیگا اور آپ اسے ہمیشہ دل میں کم تر گردانیں اور حقیر لہجہ اپنائیں گے

 

کس کے بچے مطیع اور فرماں دار ہیں ،   نیک ہیں اور اچھی جگہوں پہ پہنچ گئے ہیں آپ کہیں گے کہ اللہ جیسے چاہے جہاں پہنچا دے  بندوں کی کیا استطاعت (چلو بھئی اللہ     کا نام بھی لے لیا اور دوسرے کو بے عزت بھی کر دیا).



 

ٹیکنالوجی کی بدولت آج یہ مناظر سوشل میڈیا پہ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔کسی کو فرینڈ نہیں بنانا،کسی کو نظر انداز کرنا ہے۔کوئی اپنی کامیابی کی خبر ڈالے تو پڑھ کے انجان بن جانا کہ اچھا یہ ہوا تھا اصل میں ہم تو زیادہ فیس بک یوز ہی نہیں کرتے۔کچھ لوگ بیچارے یہ جانے بغیر کہ واٹس ایپ کے میسج پہ انفو دیکھ لی جائے تو پتا چل جاتا ہے کہ پیغام پہنچ گیا اور پڑھ بھی لیا گیا ہے کہتے ہیں ارے پتا ہی نہیں چلا کب آیا آپکا مسیج۔

 

کوئی تصویر پسند آئی کوئی تحریر پسند آئی کسی کی بات نے دل پہ دستک دی اور کئی دن جکڑے رکھا لیکن اسکو اس بات کا پتا نہیں چلنے دینا،نہ کمنٹ کرنا ہے نہ لائیک کے بٹن کو شرف بخشنا ہے۔پروفائل اور پیج پہ چپکے چپکے جھانکیں گے،پورا پورا کھنگالیں گے لیکن ملیں گے تو انجان بن جائیں گے ارے اب اتنا وقت کہاں کہ فیس بک پہ بیٹھیں۔خود کو مصروف بھی ظاہر کر دیا اور آپ کو آپ کے نکمّے پن کا احساس بھی دلا دیا یہ جانے بغیر کہ دوسرے لوگوں کی پبلک پوسٹ پہ اُن کے  تبصرے آپ باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔

 

تو دوستو! یہ ہے ہماری انا، ہمارا حسد ، ہمارا زعم جو  الفاظ کی صورت باہر آتا ہے تو زہر میں ڈبوئے نشتر کے طرح لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور کبھی سرد مہر رویوں کا روپ لے کر دوسروں کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔

 

ہماری انا ہی ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہے ۔سب سے مشکل قربانی اپنی انا اور نفس کی قربانی ہے۔آپ کے کہے گئے یا لکھے گئے الفاظ ہی ہیں جو کبھی لوگوں کے دل میں گھر کر جاتے ہیں تو کبھی آپ کو دل سے اُتار دیتے ہیں۔

اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنانے کے لیے بس اپنی انا کی تھوڑی سی قربانی دے دیں۔

 

لوگوں کی کھل کے تعریف کریں، اچھے کاموں میں حوصلہ افزائی کریں۔کامیابیوں پہ کھل کے مبارکباد دیں۔خوشی کے موقعوں پہ خوشی کا اظہار کریں اور تھوڑا سا وقت نکال کر لوگوں کے ساتھ اپنے رویئے اور الفاظ پہ غور و فکر کریں کہ انسان خود اپنا سب سے بڑا محاسب ہے..

 

(نقل وچسپاں )

 

https://teachingadds.blogspot.com

Hasas Fitrat

 حساس فطرت:

ایک بار سابق انڈین الیکشن کمشنر شری ٹی این سیشان، اتر پردیش کے دورے پر روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔

راستے میں، وہ ایک باغ کے قریب رُک گئے۔ باغ کے درختوں پر پرندوں کے بیشمار گھونسلے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خواہش ظاہر کی کہ باغ کے کسی درخت سے کوئی گھونسلا لیتے چلیں، تاکہ میں انہیں گھر میں سجاؤں.

سیشان جی نے اپنے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سے کوئی گھونسلہ اٹھا کر لانے کو کہا۔

پولیس والوں نے ایک لڑکے سے جو قریب ہی ایک گائے چرا رہا تھا، دس روپے دیتے ہوئے کوئی ایک گھونسلہ درخت پر سے لانے کے کو کہا ، لیکن وہ لڑکا گھونسلہ لانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔

ٹی این سیشان نے پولیس والوں سے اس لڑکے کو دس کے بجائے پچاس روپے دینے کو کہا، پھر بھی لڑکا تیار نہیں ہوا۔

لڑکے نے سیشان سے کہا: "جناب! گھونسلے میں پرندوں کے بچے ہیں، جب پرندے شام کو کھانا لیکر لوٹیں گے تو ، انھیں اپنے بچوں کو نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوگا.

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مجھے اس کام کے لیے کتنا معاوضہ دیتے ہیں۔ میں کسی گھونسلے کو توڑ کر نہیں لا سکتا۔"

اس واقعے کا ٹی این سیشان کو زندگی بھر افسوس رہا کہ ایک چرواہا بچہ ایسی سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے اندر بڑی حساسیت رکھتا ہے جبکہ میں اتنا تعلیم یافتہ اور آئی اے ایس ہونے کے بعد بھی اس بچے جیسی سوچ اور احساس اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا.

وہ ہمیشہ ہی رنجیدہ رہے کہ ان میں وہ حساس فطرت کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ تعلیم کس نے حاصل کی؟ میں نے یا اس بچے نے؟

انہیں شدت سے احساس رہا کہ اس چھوٹے لڑکے کے سامنے ان کا مؤقف اور آئی اے ایس ہونا بالکل ہیچ ہے۔

گویا ان کا قد اس بچے کے سامنے سرسوں کے دانے کی مانند گھٹ گیا ہے۔

تعلیم ، سماجی مقام اور معاشرتی حیثیت، انسانیت کا معیار نہیں ہے۔ محض بہت سی معلومات جمع کرنے کو علم نہیں کہا جاسکتا! زندگی تبھی خوشگوار ہے جب آپ کی تعلیم: انسانیت کے تئیں حکمت، شفقت اور ذہانت کا پتہ دیتی ہو !!

ماخوذ


Subscribe to my Educational YouTube Channel

AreeB TLM 

CHATTAN (Story)

 آج ہم ایک کہانی پڑھیں گے جو یقیناً غور وفکر اور دعوتِ عمل دے گی۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔  اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔

اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

وہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!!!!

اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رُک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے ولوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔

اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا دکھائی دیا   ۔ اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:

’’حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔‘‘

آپ بھی اپنے گردو نواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!لیکن ہم سیاست دانوں اور اعلی حکام کو گالی گلوچ کے ساتھ کوستے رہتے ہیں. جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ گالی گلوچ مسائل کا حل ہرگز نہیں۔۔۔۔

اگر ہم وه معاشرتی مسائل جن کا حل ہمارے اختیار میں ہے ۔۔۔ وه کرنےسے ممکن ہے کہ کوئی سونے سے بھری تھیلی تو ہمیں نہ ملے.مگر یہ یقینی بات ہے کہ اس عمل سے نیکیوں کی ایک بڑی تھیلی ہمارے نامہ اعمال میں رکھ دی جائے۔۔۔۔

 

تو شکوہ و شکایتیں بند، اور شروع کریں ایسے مسائل کو حل کرنا۔۔۔۔

 

منقول



 

Samundari Toofan

آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ۔۔۔۔۔۔۔ سمندری طو فانوں کے نام کون رکھتا ہے؟

بشکریہ: VOA


بحیرۂ عرب میں بننے والا سمندری طوفان 'تاؤتے' بھارت کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے پیر کی شب ٹکرا گیا ہے جس کے بعد وہاں تباہی کے مناظر ہیں۔ بھارت کی مغربی ریاستوں میں اس طوفان کے سبب اب تک ایک درجن سے زائد افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔


ماہرین ’تاؤتے‘ کو گزشتہ 20 برسوں میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان قرار دے رہے ہیں۔


ماضی میں بھی بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں اس طرح کے طوفان بنتے رہے ہیں اور انہیں باقاعدہ کوئی نہ کوئی نام دیا جاتا رہا ہے۔


اس مرتبہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار نے اس طوفان کا نام 'تاؤتے' تجویز کیا تھا۔ سمندر میں طوفان بننے کے بعد میانمار کی باری تھی کہ وہ سائیکلون کا نام دے گا۔


سمندری طوفانوں کے نام کس طرح رکھے جاتے ہیں؟


سمندری طوفانوں کے نام رکھنے کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک پینل ہے جسے پینل اینڈ ٹروپیکل سائیکلون (پی ٹی سی) کہا جاتا ہے۔


اس پینل میں ابتدائی طور پر سات ممالک تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 13 ہو گئی ہے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، عمان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

سن 2004 سے قبل طوفان کے اس طرح کے ناموں کی کوئی روایت نہیں تھی جس طرح آج ان کے نام رکھے جاتے ہیں۔ ماضی میں سمندری طوفانوں کو ان کے نمبر سے یاد رکھا جاتا تھا۔

سن 1999 میں ایک سائیکلون پاکستان کے شہر بدین اور ٹھٹھہ سے ٹکرایا تھا، تب اس کا نام Zero 2-A تھا جو اس سیزن کا بحیرۂ عرب کا دوسرا طوفان تھا۔

بعد ازاں 'پی ٹی سی' میں تمام ممالک کے محکمۂ موسمیات کے درمیان یہ طے پایا کہ طوفانوں کے ایسے نام ہونے چاہئیں جو یاد رکھنے میں آسان ہوں، ادا کرنے میں سہل ہوں۔

پی ٹی سی کے رکن ممالک کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ ہر ملک باری باری سمندری طوفان کو ایک ایک نام دے گا۔ اس طرح 2004 میں ایک فہرست بنائی گئی جو 2020 تک رہی اور اس میں طوفانوں کے جو نام تجویز کیے گئے ان تمام کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان نے اس فہرست میں جن طوفانوں کے نام تجویز کیے تھے ان میں فانوس، نرگس، لیلیٰ، نیلم، نیلوفر، وردہ، تتلی اور بلبل شامل ہیں۔

سن 2020 میں اس فہرست کا مجوزہ آخری نام 'ایمفن' تھا۔ یہ طوفان خلیجِ بنگال میں بنا تھا اور اس کا رخ بھارت کی جانب تھا بعد ازاں پی ٹی سی کے تمام 13 رکن ملکوں نے گزشتہ برس طوفانوں کے ناموں کی ایک نئی فہرست ترتیب دی تھی۔


یاد رہے کہ طوفانوں کے نام رکھنے کے لیے پی ٹی سی میں شامل رکن ملکوں کے انگریزی حروفِ تہجی کی ترتیب سے ان ملکوں کی باری آتی ہے۔ مثلاً 2020 میں بننے والی نئی فہرست کا سب سے پہلا نام بنگلہ دیش کا تجویز کردہ رکھا گیا جو 'نسارگا' تھا۔

بعدازاں بھارت، ایران اور مالدیپ کے ناموں کا نمبر آیا۔ اب میانمار کی باری تھی تو حالیہ طوفان کا نام 'تاؤتے' اسی کا تجویز کردہ ہے۔

اگر مستقبل میں کوئی طوفان آتا ہے تو عمان کا تجویز کردہ نام 'یاس' رکھا جائے گا جس کے بعد پاکستان کے مجوزہ نام 'گلاب' کا نمبر آئے گا۔

انتخاب..



PARACHUTE

  •  آج ہم پیراسوٹ کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ 
  • اس میں کن کن چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟
  • ان کے نام کیا ہوتے ہیں؟
  • سائنسی نقطہ نظر سے کس طرح سے کام کرتا ہے؟

پیراشوٹ میں سب سے اوپر کی طرف ایک چھتری ہوتی ہے، جس میں ڈوری باندھ کر ایک تھیلی لٹکا دی جاتی ہے۔ چھتری میں پیٹی جیسی شے بھی ہوتی ہے جسے "رپ کارڈ" کہا جاتا ہے۔ اس رپ کارڈ کو کھولنے سے چھتری کھل جاتی ہے۔ جسے بھی ہوا میں چھلانگ لگانی ہو اسے چند لمحوں میں 'رپ کارڈ' کھولنا پڑتا ہے۔ رپ کارڈ کو کھینچنے کے فورا بعد ہی پیراشوٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ ہوا میں تیرنا شروع کردیتا ہے۔ چھتری کے ساتھ جو ڈوری ہوتی ہے، اسے کھینچ کر جس سمت میں جانا ہو اس طرف موڑا جاسکتا ہے۔ ایک بار پیراشوٹ کُھلنے کے بعد، جیسے جیسے وہ نیچے آتا ہے، اس کی رفتار پانچ میٹر فی سیکنڈ تک بڑھتی جاتی ہے۔ اگر پیراشوٹ کھولنے میں تھوڑی سے بھی غلطی ہو جائے تو ، چھتری نہیں کھل پاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پیرا شوٹ پہننے والا شخص ایک پتھر کی مانند تیزی سے نیچے گر جاتا ہے او ر یہ بہت ہی خطرناک حالت ہوتی ہے ۔ اس میں جان بھی جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیراشوٹ سے چھلانگ لگانے کے تجربات سترہویں صدی میں شروع ہوئے۔ ابتدا میں ، بلیوں اور کتوں کو مختلف اونچائیوں سے پیراشوٹ  میں رکھ کر زمین پر اتارنے  کےتجربات انجام دیے جاتے تھے۔ انسان نے انیسویں صدی میں پیراشوٹ کو استعمال کرنا سیکھ لیا تھا۔ اس کے ذریعے اس نے زمین پر اترنے کے فن میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ انسان نے اڑتے ہوئے ہوائی جہاز سے پیراشوٹ باندھ کر چھلانگ لگانے کے فن میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی۔

شروع میں، پیراشوٹ کو سوتی یا لینن نامی کپڑے سے بنایا جاتا تھا۔ اس کے بعد نائلون کے پیراشوٹ بننے لگے۔ اس کے علاوہ کینوس کے موٹے کپڑے کی جگہ نرم ریشمی کپڑا بھی استعمال کیا جانے لگا تاکہ اس کے وزن کو کم کیا جاسکے۔

 پیراشوٹ میں سائنس کا کون سا اصول کار فرماہوتا ہے؟

  پیراشوٹ میں دو قوتیں کام کرتی ہیں، ’کشش ثقل ‘    اور ’ہوا کی رگڑ‘۔ جب کوئی چیز اونچائی سے گرتی ہے تو، زمین کی کشش ثقل اسے نیچے کی طرف کھینچتی ہے، جب کہ ہوا کی رگڑ کے باعث اس چیز کے نیچے گرنے کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ شے جتنی وسیع ہوگی، ہوا کی قوت رگڑ اتنی ہی زیادہ لگے گی۔

پیراشوٹ میں ہوا کے تئیں مزاحمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ نیچے گرنے کے بجائے ہوا میں تیرنے لگتا ہے۔ کشش ثقل کی قوت شے کو زمین کی طرف کھینچتی ہے اور ہوا کی قوت رگڑ زمین پر گرتی ہوئی شے کو ہوا میں تیرنے کی حالت میں بنائے رکھتی ہے۔ لہٰذا پیراشوٹ آہستہ آہستہ نیچے آتا ہے۔

کچھ اور بھی سنو، کسی پیراشوٹ کی تشکیل اس شے کے سائز اور وزن کے مکمل حساب کے بعد ہی کی جاتی ہے۔ بھاری اشیا کے لیے استعمال کیے جانے والے پیراشوٹ موٹے کپڑے سے بنے ہوتے ہیں اور اس کا گھیرا بھی زیادہ رکھا جاتا ہے۔

جنگی طیاروں سے فوجیوں کو اتارنے کے لیے چھوٹے پیراشوٹ بنائے جاتے ہیں، جو وزن کے اعتبار سے ہلکے ہوتے ہیں۔ اس قسم کے چھوٹے پیراشوٹ سے نیچے اترنے والے اور ہوا میں کرتب دکھانے والے لوگوں کو کہیں بھی اترنے اور اپنا توازن قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر اترنا بھی ایک فن ہے۔ اگر اس میں معمولی سی بھی غلطی ہوجائے تو حادثہ پیش آنے کا امکان رہتا ہے۔

ایک پیراشوٹ کی قیمت تقریباً سوالاکھ روپے ہوتی ہے۔


منقول
اب یورپی ممالک میں پیراسوٹ ایک تفریح کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ جس میں آپ پہاڑی علاقے سے گائیڈ کے ساتھ کود کر آپس پاس کے قدرتی مناظر سے لُطف اندو ز ہو سکتے ہیں۔ یقیناً آپ اس کے ساتھ تفریح کرنا چاہو گے!!!
AreeB TLM


Happy Labour Day (AreeB TLM)

ہم یوم مزدور کیوں مناتے ہیں؟؟؟

یوم   مزدور تاریخ کے آئینہ میں

یوں تو ہمارے ملک میں سال بھر درجنوں عالمی دن منائے جاتے ہیں اور کسی بھی عالمی دن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دن جو ہم مناتے ہیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے اور ہر سال اس دن ہمارے اسکول، کالج ، یونیوسٹیاں ،سرکاری دفاتر ، ادارے ، مارکیٹیں اور دکانیں غرض کہ تمام سرکاری ، نیم سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہوتے ہیں۔

 AreebTLM

شدت کی گرمی اور تیز دھوپ میں جلسے جلوس ریلیاں نکالی جاتی ہیں کیونکہ یہ محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ دہقانوں کا دن ہے، معماروں کا دن ہے ،کسانوں کا دن ہے اور مزدوروں کا دن ہے۔ تمام مزدور اس دن فیکٹریوں اور ملوں کو بند کرکے جلوس کی شکل میں سڑک پراُمنڈ آتے ہیں۔ پُر امن جلوس بھی ہوتے ہیں نعرے بازی بھی ہوتی ہے کہیں کہیں توسڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

یہ دن 1886میں شکاگو کے مقام پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے احتجاج کا نتیجہ ہے، اس موقع پر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مختلف پروگرام، تقریبات، سیمینارز کانفرنسز اور ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا جس میں ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک اداروں نے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا تھا۔

 عالمی وبا (کورونا)  مزدوروں کی  زندگیوں میں بہت بڑا بحران لے کر آئی  ہے  اور آج لیبر ڈے کے موقع پر ہزار ہا محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، کتنے سارے چھوٹے دھندہ کرنے والے اور روزانہ مزدوری کرنے والے محنت کش لاک ڈاون کی وجہ سے اپنے آبائی وطن واپس لوٹ گئے۔2020 میں کس طرح سے اور کن کن ذرائع کا استعمال کرے اپنے آبائی وطن گئے ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔ اخبارات اور شوشل میڈیا پر اس کے بہت سارے ویڈیو اور خبریں مل جائیں گی۔

  اس سرمایہ دارانہ نظام میں زندگیوں اور معاش کی کوئی ضمانت نہیں ہے، کووڈ 19 نے سرمایہ دارانہ نظام کی اصلیت واضح کر دی ہے

Labour Day

https://t.me/AreeB G.K
Naushad Ali
Naushad Ali


SYNONYMS

مترادفات : 
وہ الفاظ جو معنی میں ایک دوسرےسے ملتے جُلتے ہوں انہیں مترادف (ہم معنی الفاظ) کہا جاتا ہے۔
آپ یہاں سے PDF ڈانلوڈ کرسکتے ہیں↡ 
  1. آسمان ۔۔عرش۔۔فلک۔۔چرخ
  2. آنکھ ۔۔ چشم۔۔ دیدہ۔۔ عین
  3. آدمی ، بشر، انسان
  4. آگ ۔۔ آتش۔۔نار۔۔ اگنی
  5. آواز۔۔ صدا ۔۔ نوا۔۔ ندا
  6. آغاز۔۔ ابتداء۔۔ شروع۔۔ ازل
  7. آفتاب ۔۔ خورشید۔۔ سورج۔۔ مہر۔۔ شمس
  8. اعتماد۔۔ بھروسہ۔۔ تکیہ ۔۔ توکل
  9. انتقام۔۔ بدلہ ۔۔ قصاص۔۔ عوض
  10. بدن۔۔ جسم ۔۔ تن۔۔ جسد
  11. بارش۔۔ باراں۔۔ مینہہ
  12. پھل ۔۔ ثمر۔۔ میوہ
  13. پتھر۔۔ سنگ۔۔ حجر ۔۔ سل
  14. تاب ۔۔ طاقت۔۔ روشنی
  15. تلوار۔۔ تیغ ۔۔ شمشیر۔۔ سیف
  16. جنت۔۔ خُلد۔۔ بہشت۔۔ ارم
  17. جنگل۔۔ دشت۔۔ بیاباں۔۔ صحرا
  18. جان ۔۔ روح۔۔ دم۔۔زندگی
  19. چاند۔۔ ماہ ۔۔ مہتاب۔۔ قمر۔۔ بدر
  20. چراغ۔۔ دیا۔۔ بتی
  21. چمڑا۔۔ چرم ۔۔ کھال
  22. حکمت۔۔ فلسفہ۔۔ سائنس
  23. دل ۔۔ قلب۔۔ ضمیر۔۔ من
  24. دن ۔۔ روز۔۔ یوم ۔۔ نہار
  25. درخت۔۔ پیڑ۔۔ بوٹا۔۔ شجر۔۔ جھاڑ
  26. دُکھ۔۔ رنج۔۔ الم۔۔ غم
  27. دہائی۔۔ دس۔۔ عشرہ
  28. دولت۔۔ مال ۔۔ زر
  29. راستہ ۔۔ راہ ۔۔رہ۔۔ جادہ۔۔ راہگذر
  30. رحم۔۔ دیا۔۔ ترس۔۔ مروّت
  31. زندگی۔۔ حیات۔۔ زیست
  32. رحلت۔۔ فوت۔۔ موت۔۔ انتقال
  33. رونا۔۔ گریہ۔۔ نوح۔۔ آہ زاری
  34. باغ۔۔ چمن۔۔ گلزار۔۔ گلشن۔۔ گلستاں
  35. بیوی۔۔ زوجہ۔۔ اہلیہ۔۔ منکوحہ
  36. بادل ۔۔ ابر۔۔ سحاب۔۔ گھٹا
  37. پانی۔۔ آب۔۔ جل۔۔ ماء
  38. پاک ۔۔ صاف۔۔ مبّرہ
  39. پیالہ۔۔ ساغر۔۔ جام
  40. طور۔۔ کوہ۔۔ پہاڑ
  41. طور۔۔ اسلوب۔۔ انداز۔۔ ڈھنگ
  42. ظلم ۔۔ جفا۔۔ جور
  43. عزّت۔۔ وقار۔۔ آن۔۔ آبرو
  44. کلید۔۔ کنجی۔۔ چابی
  45. قلم ۔۔ پین
  46. لالچ۔۔ حرص۔۔ طمع
  47. غریب۔۔ نادار۔۔ محتاج۔۔ مفلس
  48. غلام۔۔ خادم۔۔ بندہ۔۔ ملازم
  49. فتح۔۔ نصرت۔۔ فوز۔۔ کامیابی۔۔ کامرانی
  50. فرش۔۔ چٹائی ۔۔ بستر
  51. فتنہ۔۔ فساد۔۔ قضیہ۔۔ بکھیڑا
  52. حکیم ۔۔ طبیب ۔۔ مسیحا۔۔ چارہ گر
  53. حیا۔۔ لاج ۔۔ غیرت۔۔ شرم
  54. خیرات۔۔ سخاوت۔۔ دان
  55. خط۔۔ رقعہ۔۔ نامہ
  56. خواب۔۔ سپنا۔۔ خیال
  57. دنیا۔۔ عالم۔۔ جہان
  58. فخر۔۔ ناز۔۔ شرف
  59. عاشق۔۔ فدائی۔۔ جاں نثار
  60. فعل ۔۔ عمل ۔۔ کام
  61. فکر۔۔ سوچ۔۔ تدبیر
  62. فہم ۔۔ دانائی ۔۔ شعور
  63. قابو۔۔ قبضہ۔۔ اختیار
  64. قاعدہ۔۔ دستور۔۔ آئین۔۔ قانون
  65. کوشش۔۔ جہد۔۔سعی
  66. لحد۔۔ قبر۔۔ گور۔۔ تربت
  67. لحاظ۔۔ ادب۔۔ خیال
  68. لمحہ۔۔ پل۔۔ دقیقہ
  69. گھر۔۔ مکان۔۔ خانہ
  70. زمین۔۔ارض۔۔ دھرتی
  71. ستارے ۔۔ انجم۔۔ ثاقب
  72. سانپ ۔۔ افعی۔۔ مار
  73. شور۔۔ غوغا۔۔ آواز
  74. صورت۔۔ چہرہ۔۔رُخ
  75. گرہن۔۔ کسوف ۔۔ خسوف
  76. گُن۔۔ہنر۔۔ خوبی۔۔ جوہر
  77. گناہ۔ جرم۔۔ پاپ۔۔ خطا
  78. گروہ۔۔ جماعت۔۔ حلقہ
  79. گھوڑا۔۔اسپ۔۔ راہوار
  80. موت۔۔ وقت۔۔ زمانہ۔۔عصر
  81. موتی۔۔ گوہر۔۔ لعل
  82. نقصان۔۔ زیاں۔۔ ضرر
  83. نیک۔۔ صالح۔۔ پارسا
  84. واقعہ۔۔ داستان۔۔ حکایت
  85. ہمیشہ۔۔ مدام۔۔ سدا
  86. قسمت۔۔ نصیب۔۔ بھاگ۔۔ تقدیر
  87. ہاتھ۔۔دست۔۔ ید
  88. عورت۔۔نساء۔۔ زن۔۔ جورو۔۔ خانم
  89. کسان۔۔ دہقان۔۔ کاشت کار
  90. انجان۔۔ نا آشنا۔۔ اجنبی۔۔ بیگانہ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
نوشاد علی ریاض احمد۔۔۔
https://teachingadds.blogspot.com






Lafzistan

  • اردو کی حیرت انگیزیاں۔۔
اردو  زبان میں ایسے کئی الفاظ موجود ہیں جن کو دائیں سے بائیں لکھا اور پڑھا جائے تو ایک لفظ اور اُسی لفظ کو بائیں سے دائیں جانب لکھا یا پڑھا جائے تو ایک نیا لفظ بن جاتا ہے۔ بچوں کے لیے یہ انتہائی کارآمد اور بہترین ذہنی آزمائش ہے۔
مثال:
ایک۔کیا۔۔۔انیس۔سینا۔۔۔اویس۔سیوا۔۔۔انور۔رونا۔۔۔اناج۔جانا۔۔۔اریب۔بیرا۔۔۔اوس۔سوا۔۔۔ارم۔مرا۔۔۔الگ۔اگلا۔۔۔بارش۔شراب۔۔۔بیج۔جیب۔۔۔بات۔تاب۔۔۔بابر۔رباب۔۔۔بابرا۔ارباب۔۔۔بل۔لب۔۔۔بار۔راب۔۔۔بٹ۔ٹب۔۔۔بک۔کب۔۔۔پان۔ناپ۔۔۔تاریخ۔خیرات۔۔۔تب۔بت۔۔۔تم۔مت۔۔۔ترازو۔وزارت۔۔۔تار۔رات۔۔۔جب۔بج۔۔۔جال۔لاج۔۔۔جرح۔حرج۔۔۔چین۔نیچ۔۔۔چوس۔سوچ۔۔۔حور۔روح۔۔۔دال۔لاد۔۔۔در۔رد۔۔۔درس۔سرد۔۔۔دم۔مد۔۔۔رانا۔انار۔۔۔راز۔زار۔۔۔روز۔زور۔۔۔ریت۔تیر۔۔۔ریشم۔مشیر۔۔۔رش۔شر۔۔۔روس۔سور۔۔۔رن۔نر۔۔۔ران۔نار۔۔۔راہ۔ہار۔۔۔روڈ۔ڈور۔۔۔روم۔مور۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سر۔رس۔۔۔ساکن۔نکاس۔۔۔سیر۔ریس۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سب۔بس۔۔۔شور۔روش۔۔۔شوخ۔خوش۔۔۔شام۔ماش۔۔۔شک۔کش۔۔۔طرف۔فرط۔۔۔طول۔لوط۔۔۔عرش۔شرع۔۔۔فرح۔حرف۔۔۔قد۔دق۔۔۔قمر۔رمق۔۔۔کپ۔پک۔۔۔کون۔نوک۔۔۔کر۔رک۔۔۔گول۔لوگ۔۔۔گم۔مگ۔۔۔لاش۔شال۔۔۔لات۔تال۔۔۔لاگ۔گال۔۔۔لیکن۔نکیل۔۔۔ماما۔امام۔۔۔مرچ۔چرم۔۔۔موچ۔چوم۔۔۔مار۔رام۔۔۔من۔نم۔۔۔نام۔مان۔۔۔نچ ۔چن۔۔۔ناک۔کان۔۔۔نس۔سن۔۔۔نگ۔گن۔۔۔نار۔ران۔۔۔وہ۔ہو۔۔۔ہجو۔وجہ۔۔۔ہم۔مہ۔۔۔ہے۔یہ۔۔۔یک۔کی ۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ