Hasas Fitrat

 حساس فطرت:

ایک بار سابق انڈین الیکشن کمشنر شری ٹی این سیشان، اتر پردیش کے دورے پر روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔

راستے میں، وہ ایک باغ کے قریب رُک گئے۔ باغ کے درختوں پر پرندوں کے بیشمار گھونسلے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خواہش ظاہر کی کہ باغ کے کسی درخت سے کوئی گھونسلا لیتے چلیں، تاکہ میں انہیں گھر میں سجاؤں.

سیشان جی نے اپنے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سے کوئی گھونسلہ اٹھا کر لانے کو کہا۔

پولیس والوں نے ایک لڑکے سے جو قریب ہی ایک گائے چرا رہا تھا، دس روپے دیتے ہوئے کوئی ایک گھونسلہ درخت پر سے لانے کے کو کہا ، لیکن وہ لڑکا گھونسلہ لانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔

ٹی این سیشان نے پولیس والوں سے اس لڑکے کو دس کے بجائے پچاس روپے دینے کو کہا، پھر بھی لڑکا تیار نہیں ہوا۔

لڑکے نے سیشان سے کہا: "جناب! گھونسلے میں پرندوں کے بچے ہیں، جب پرندے شام کو کھانا لیکر لوٹیں گے تو ، انھیں اپنے بچوں کو نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوگا.

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مجھے اس کام کے لیے کتنا معاوضہ دیتے ہیں۔ میں کسی گھونسلے کو توڑ کر نہیں لا سکتا۔"

اس واقعے کا ٹی این سیشان کو زندگی بھر افسوس رہا کہ ایک چرواہا بچہ ایسی سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے اندر بڑی حساسیت رکھتا ہے جبکہ میں اتنا تعلیم یافتہ اور آئی اے ایس ہونے کے بعد بھی اس بچے جیسی سوچ اور احساس اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا.

وہ ہمیشہ ہی رنجیدہ رہے کہ ان میں وہ حساس فطرت کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ تعلیم کس نے حاصل کی؟ میں نے یا اس بچے نے؟

انہیں شدت سے احساس رہا کہ اس چھوٹے لڑکے کے سامنے ان کا مؤقف اور آئی اے ایس ہونا بالکل ہیچ ہے۔

گویا ان کا قد اس بچے کے سامنے سرسوں کے دانے کی مانند گھٹ گیا ہے۔

تعلیم ، سماجی مقام اور معاشرتی حیثیت، انسانیت کا معیار نہیں ہے۔ محض بہت سی معلومات جمع کرنے کو علم نہیں کہا جاسکتا! زندگی تبھی خوشگوار ہے جب آپ کی تعلیم: انسانیت کے تئیں حکمت، شفقت اور ذہانت کا پتہ دیتی ہو !!

ماخوذ


Subscribe to my Educational YouTube Channel

AreeB TLM 

CHATTAN (Story)

 آج ہم ایک کہانی پڑھیں گے جو یقیناً غور وفکر اور دعوتِ عمل دے گی۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔  اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔

اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

وہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!!!!

اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رُک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے ولوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔

اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا دکھائی دیا   ۔ اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:

’’حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔‘‘

آپ بھی اپنے گردو نواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!لیکن ہم سیاست دانوں اور اعلی حکام کو گالی گلوچ کے ساتھ کوستے رہتے ہیں. جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ گالی گلوچ مسائل کا حل ہرگز نہیں۔۔۔۔

اگر ہم وه معاشرتی مسائل جن کا حل ہمارے اختیار میں ہے ۔۔۔ وه کرنےسے ممکن ہے کہ کوئی سونے سے بھری تھیلی تو ہمیں نہ ملے.مگر یہ یقینی بات ہے کہ اس عمل سے نیکیوں کی ایک بڑی تھیلی ہمارے نامہ اعمال میں رکھ دی جائے۔۔۔۔

 

تو شکوہ و شکایتیں بند، اور شروع کریں ایسے مسائل کو حل کرنا۔۔۔۔

 

منقول



 

Samundari Toofan

آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ۔۔۔۔۔۔۔ سمندری طو فانوں کے نام کون رکھتا ہے؟

بشکریہ: VOA


بحیرۂ عرب میں بننے والا سمندری طوفان 'تاؤتے' بھارت کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے پیر کی شب ٹکرا گیا ہے جس کے بعد وہاں تباہی کے مناظر ہیں۔ بھارت کی مغربی ریاستوں میں اس طوفان کے سبب اب تک ایک درجن سے زائد افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔


ماہرین ’تاؤتے‘ کو گزشتہ 20 برسوں میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان قرار دے رہے ہیں۔


ماضی میں بھی بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں اس طرح کے طوفان بنتے رہے ہیں اور انہیں باقاعدہ کوئی نہ کوئی نام دیا جاتا رہا ہے۔


اس مرتبہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار نے اس طوفان کا نام 'تاؤتے' تجویز کیا تھا۔ سمندر میں طوفان بننے کے بعد میانمار کی باری تھی کہ وہ سائیکلون کا نام دے گا۔


سمندری طوفانوں کے نام کس طرح رکھے جاتے ہیں؟


سمندری طوفانوں کے نام رکھنے کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک پینل ہے جسے پینل اینڈ ٹروپیکل سائیکلون (پی ٹی سی) کہا جاتا ہے۔


اس پینل میں ابتدائی طور پر سات ممالک تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 13 ہو گئی ہے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، عمان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

سن 2004 سے قبل طوفان کے اس طرح کے ناموں کی کوئی روایت نہیں تھی جس طرح آج ان کے نام رکھے جاتے ہیں۔ ماضی میں سمندری طوفانوں کو ان کے نمبر سے یاد رکھا جاتا تھا۔

سن 1999 میں ایک سائیکلون پاکستان کے شہر بدین اور ٹھٹھہ سے ٹکرایا تھا، تب اس کا نام Zero 2-A تھا جو اس سیزن کا بحیرۂ عرب کا دوسرا طوفان تھا۔

بعد ازاں 'پی ٹی سی' میں تمام ممالک کے محکمۂ موسمیات کے درمیان یہ طے پایا کہ طوفانوں کے ایسے نام ہونے چاہئیں جو یاد رکھنے میں آسان ہوں، ادا کرنے میں سہل ہوں۔

پی ٹی سی کے رکن ممالک کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ ہر ملک باری باری سمندری طوفان کو ایک ایک نام دے گا۔ اس طرح 2004 میں ایک فہرست بنائی گئی جو 2020 تک رہی اور اس میں طوفانوں کے جو نام تجویز کیے گئے ان تمام کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان نے اس فہرست میں جن طوفانوں کے نام تجویز کیے تھے ان میں فانوس، نرگس، لیلیٰ، نیلم، نیلوفر، وردہ، تتلی اور بلبل شامل ہیں۔

سن 2020 میں اس فہرست کا مجوزہ آخری نام 'ایمفن' تھا۔ یہ طوفان خلیجِ بنگال میں بنا تھا اور اس کا رخ بھارت کی جانب تھا بعد ازاں پی ٹی سی کے تمام 13 رکن ملکوں نے گزشتہ برس طوفانوں کے ناموں کی ایک نئی فہرست ترتیب دی تھی۔


یاد رہے کہ طوفانوں کے نام رکھنے کے لیے پی ٹی سی میں شامل رکن ملکوں کے انگریزی حروفِ تہجی کی ترتیب سے ان ملکوں کی باری آتی ہے۔ مثلاً 2020 میں بننے والی نئی فہرست کا سب سے پہلا نام بنگلہ دیش کا تجویز کردہ رکھا گیا جو 'نسارگا' تھا۔

بعدازاں بھارت، ایران اور مالدیپ کے ناموں کا نمبر آیا۔ اب میانمار کی باری تھی تو حالیہ طوفان کا نام 'تاؤتے' اسی کا تجویز کردہ ہے۔

اگر مستقبل میں کوئی طوفان آتا ہے تو عمان کا تجویز کردہ نام 'یاس' رکھا جائے گا جس کے بعد پاکستان کے مجوزہ نام 'گلاب' کا نمبر آئے گا۔

انتخاب..



PARACHUTE

  •  آج ہم پیراسوٹ کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ 
  • اس میں کن کن چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟
  • ان کے نام کیا ہوتے ہیں؟
  • سائنسی نقطہ نظر سے کس طرح سے کام کرتا ہے؟

پیراشوٹ میں سب سے اوپر کی طرف ایک چھتری ہوتی ہے، جس میں ڈوری باندھ کر ایک تھیلی لٹکا دی جاتی ہے۔ چھتری میں پیٹی جیسی شے بھی ہوتی ہے جسے "رپ کارڈ" کہا جاتا ہے۔ اس رپ کارڈ کو کھولنے سے چھتری کھل جاتی ہے۔ جسے بھی ہوا میں چھلانگ لگانی ہو اسے چند لمحوں میں 'رپ کارڈ' کھولنا پڑتا ہے۔ رپ کارڈ کو کھینچنے کے فورا بعد ہی پیراشوٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ ہوا میں تیرنا شروع کردیتا ہے۔ چھتری کے ساتھ جو ڈوری ہوتی ہے، اسے کھینچ کر جس سمت میں جانا ہو اس طرف موڑا جاسکتا ہے۔ ایک بار پیراشوٹ کُھلنے کے بعد، جیسے جیسے وہ نیچے آتا ہے، اس کی رفتار پانچ میٹر فی سیکنڈ تک بڑھتی جاتی ہے۔ اگر پیراشوٹ کھولنے میں تھوڑی سے بھی غلطی ہو جائے تو ، چھتری نہیں کھل پاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پیرا شوٹ پہننے والا شخص ایک پتھر کی مانند تیزی سے نیچے گر جاتا ہے او ر یہ بہت ہی خطرناک حالت ہوتی ہے ۔ اس میں جان بھی جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیراشوٹ سے چھلانگ لگانے کے تجربات سترہویں صدی میں شروع ہوئے۔ ابتدا میں ، بلیوں اور کتوں کو مختلف اونچائیوں سے پیراشوٹ  میں رکھ کر زمین پر اتارنے  کےتجربات انجام دیے جاتے تھے۔ انسان نے انیسویں صدی میں پیراشوٹ کو استعمال کرنا سیکھ لیا تھا۔ اس کے ذریعے اس نے زمین پر اترنے کے فن میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ انسان نے اڑتے ہوئے ہوائی جہاز سے پیراشوٹ باندھ کر چھلانگ لگانے کے فن میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی۔

شروع میں، پیراشوٹ کو سوتی یا لینن نامی کپڑے سے بنایا جاتا تھا۔ اس کے بعد نائلون کے پیراشوٹ بننے لگے۔ اس کے علاوہ کینوس کے موٹے کپڑے کی جگہ نرم ریشمی کپڑا بھی استعمال کیا جانے لگا تاکہ اس کے وزن کو کم کیا جاسکے۔

 پیراشوٹ میں سائنس کا کون سا اصول کار فرماہوتا ہے؟

  پیراشوٹ میں دو قوتیں کام کرتی ہیں، ’کشش ثقل ‘    اور ’ہوا کی رگڑ‘۔ جب کوئی چیز اونچائی سے گرتی ہے تو، زمین کی کشش ثقل اسے نیچے کی طرف کھینچتی ہے، جب کہ ہوا کی رگڑ کے باعث اس چیز کے نیچے گرنے کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ شے جتنی وسیع ہوگی، ہوا کی قوت رگڑ اتنی ہی زیادہ لگے گی۔

پیراشوٹ میں ہوا کے تئیں مزاحمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ نیچے گرنے کے بجائے ہوا میں تیرنے لگتا ہے۔ کشش ثقل کی قوت شے کو زمین کی طرف کھینچتی ہے اور ہوا کی قوت رگڑ زمین پر گرتی ہوئی شے کو ہوا میں تیرنے کی حالت میں بنائے رکھتی ہے۔ لہٰذا پیراشوٹ آہستہ آہستہ نیچے آتا ہے۔

کچھ اور بھی سنو، کسی پیراشوٹ کی تشکیل اس شے کے سائز اور وزن کے مکمل حساب کے بعد ہی کی جاتی ہے۔ بھاری اشیا کے لیے استعمال کیے جانے والے پیراشوٹ موٹے کپڑے سے بنے ہوتے ہیں اور اس کا گھیرا بھی زیادہ رکھا جاتا ہے۔

جنگی طیاروں سے فوجیوں کو اتارنے کے لیے چھوٹے پیراشوٹ بنائے جاتے ہیں، جو وزن کے اعتبار سے ہلکے ہوتے ہیں۔ اس قسم کے چھوٹے پیراشوٹ سے نیچے اترنے والے اور ہوا میں کرتب دکھانے والے لوگوں کو کہیں بھی اترنے اور اپنا توازن قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر اترنا بھی ایک فن ہے۔ اگر اس میں معمولی سی بھی غلطی ہوجائے تو حادثہ پیش آنے کا امکان رہتا ہے۔

ایک پیراشوٹ کی قیمت تقریباً سوالاکھ روپے ہوتی ہے۔


منقول
اب یورپی ممالک میں پیراسوٹ ایک تفریح کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ جس میں آپ پہاڑی علاقے سے گائیڈ کے ساتھ کود کر آپس پاس کے قدرتی مناظر سے لُطف اندو ز ہو سکتے ہیں۔ یقیناً آپ اس کے ساتھ تفریح کرنا چاہو گے!!!
AreeB TLM


Happy Labour Day (AreeB TLM)

ہم یوم مزدور کیوں مناتے ہیں؟؟؟

یوم   مزدور تاریخ کے آئینہ میں

یوں تو ہمارے ملک میں سال بھر درجنوں عالمی دن منائے جاتے ہیں اور کسی بھی عالمی دن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دن جو ہم مناتے ہیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے اور ہر سال اس دن ہمارے اسکول، کالج ، یونیوسٹیاں ،سرکاری دفاتر ، ادارے ، مارکیٹیں اور دکانیں غرض کہ تمام سرکاری ، نیم سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہوتے ہیں۔

 AreebTLM

شدت کی گرمی اور تیز دھوپ میں جلسے جلوس ریلیاں نکالی جاتی ہیں کیونکہ یہ محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ دہقانوں کا دن ہے، معماروں کا دن ہے ،کسانوں کا دن ہے اور مزدوروں کا دن ہے۔ تمام مزدور اس دن فیکٹریوں اور ملوں کو بند کرکے جلوس کی شکل میں سڑک پراُمنڈ آتے ہیں۔ پُر امن جلوس بھی ہوتے ہیں نعرے بازی بھی ہوتی ہے کہیں کہیں توسڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

یہ دن 1886میں شکاگو کے مقام پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے احتجاج کا نتیجہ ہے، اس موقع پر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مختلف پروگرام، تقریبات، سیمینارز کانفرنسز اور ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا جس میں ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک اداروں نے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا تھا۔

 عالمی وبا (کورونا)  مزدوروں کی  زندگیوں میں بہت بڑا بحران لے کر آئی  ہے  اور آج لیبر ڈے کے موقع پر ہزار ہا محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، کتنے سارے چھوٹے دھندہ کرنے والے اور روزانہ مزدوری کرنے والے محنت کش لاک ڈاون کی وجہ سے اپنے آبائی وطن واپس لوٹ گئے۔2020 میں کس طرح سے اور کن کن ذرائع کا استعمال کرے اپنے آبائی وطن گئے ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔ اخبارات اور شوشل میڈیا پر اس کے بہت سارے ویڈیو اور خبریں مل جائیں گی۔

  اس سرمایہ دارانہ نظام میں زندگیوں اور معاش کی کوئی ضمانت نہیں ہے، کووڈ 19 نے سرمایہ دارانہ نظام کی اصلیت واضح کر دی ہے

Labour Day

https://t.me/AreeB G.K
Naushad Ali
Naushad Ali


SYNONYMS

مترادفات : 
وہ الفاظ جو معنی میں ایک دوسرےسے ملتے جُلتے ہوں انہیں مترادف (ہم معنی الفاظ) کہا جاتا ہے۔
آپ یہاں سے PDF ڈانلوڈ کرسکتے ہیں↡ 
  1. آسمان ۔۔عرش۔۔فلک۔۔چرخ
  2. آنکھ ۔۔ چشم۔۔ دیدہ۔۔ عین
  3. آدمی ، بشر، انسان
  4. آگ ۔۔ آتش۔۔نار۔۔ اگنی
  5. آواز۔۔ صدا ۔۔ نوا۔۔ ندا
  6. آغاز۔۔ ابتداء۔۔ شروع۔۔ ازل
  7. آفتاب ۔۔ خورشید۔۔ سورج۔۔ مہر۔۔ شمس
  8. اعتماد۔۔ بھروسہ۔۔ تکیہ ۔۔ توکل
  9. انتقام۔۔ بدلہ ۔۔ قصاص۔۔ عوض
  10. بدن۔۔ جسم ۔۔ تن۔۔ جسد
  11. بارش۔۔ باراں۔۔ مینہہ
  12. پھل ۔۔ ثمر۔۔ میوہ
  13. پتھر۔۔ سنگ۔۔ حجر ۔۔ سل
  14. تاب ۔۔ طاقت۔۔ روشنی
  15. تلوار۔۔ تیغ ۔۔ شمشیر۔۔ سیف
  16. جنت۔۔ خُلد۔۔ بہشت۔۔ ارم
  17. جنگل۔۔ دشت۔۔ بیاباں۔۔ صحرا
  18. جان ۔۔ روح۔۔ دم۔۔زندگی
  19. چاند۔۔ ماہ ۔۔ مہتاب۔۔ قمر۔۔ بدر
  20. چراغ۔۔ دیا۔۔ بتی
  21. چمڑا۔۔ چرم ۔۔ کھال
  22. حکمت۔۔ فلسفہ۔۔ سائنس
  23. دل ۔۔ قلب۔۔ ضمیر۔۔ من
  24. دن ۔۔ روز۔۔ یوم ۔۔ نہار
  25. درخت۔۔ پیڑ۔۔ بوٹا۔۔ شجر۔۔ جھاڑ
  26. دُکھ۔۔ رنج۔۔ الم۔۔ غم
  27. دہائی۔۔ دس۔۔ عشرہ
  28. دولت۔۔ مال ۔۔ زر
  29. راستہ ۔۔ راہ ۔۔رہ۔۔ جادہ۔۔ راہگذر
  30. رحم۔۔ دیا۔۔ ترس۔۔ مروّت
  31. زندگی۔۔ حیات۔۔ زیست
  32. رحلت۔۔ فوت۔۔ موت۔۔ انتقال
  33. رونا۔۔ گریہ۔۔ نوح۔۔ آہ زاری
  34. باغ۔۔ چمن۔۔ گلزار۔۔ گلشن۔۔ گلستاں
  35. بیوی۔۔ زوجہ۔۔ اہلیہ۔۔ منکوحہ
  36. بادل ۔۔ ابر۔۔ سحاب۔۔ گھٹا
  37. پانی۔۔ آب۔۔ جل۔۔ ماء
  38. پاک ۔۔ صاف۔۔ مبّرہ
  39. پیالہ۔۔ ساغر۔۔ جام
  40. طور۔۔ کوہ۔۔ پہاڑ
  41. طور۔۔ اسلوب۔۔ انداز۔۔ ڈھنگ
  42. ظلم ۔۔ جفا۔۔ جور
  43. عزّت۔۔ وقار۔۔ آن۔۔ آبرو
  44. کلید۔۔ کنجی۔۔ چابی
  45. قلم ۔۔ پین
  46. لالچ۔۔ حرص۔۔ طمع
  47. غریب۔۔ نادار۔۔ محتاج۔۔ مفلس
  48. غلام۔۔ خادم۔۔ بندہ۔۔ ملازم
  49. فتح۔۔ نصرت۔۔ فوز۔۔ کامیابی۔۔ کامرانی
  50. فرش۔۔ چٹائی ۔۔ بستر
  51. فتنہ۔۔ فساد۔۔ قضیہ۔۔ بکھیڑا
  52. حکیم ۔۔ طبیب ۔۔ مسیحا۔۔ چارہ گر
  53. حیا۔۔ لاج ۔۔ غیرت۔۔ شرم
  54. خیرات۔۔ سخاوت۔۔ دان
  55. خط۔۔ رقعہ۔۔ نامہ
  56. خواب۔۔ سپنا۔۔ خیال
  57. دنیا۔۔ عالم۔۔ جہان
  58. فخر۔۔ ناز۔۔ شرف
  59. عاشق۔۔ فدائی۔۔ جاں نثار
  60. فعل ۔۔ عمل ۔۔ کام
  61. فکر۔۔ سوچ۔۔ تدبیر
  62. فہم ۔۔ دانائی ۔۔ شعور
  63. قابو۔۔ قبضہ۔۔ اختیار
  64. قاعدہ۔۔ دستور۔۔ آئین۔۔ قانون
  65. کوشش۔۔ جہد۔۔سعی
  66. لحد۔۔ قبر۔۔ گور۔۔ تربت
  67. لحاظ۔۔ ادب۔۔ خیال
  68. لمحہ۔۔ پل۔۔ دقیقہ
  69. گھر۔۔ مکان۔۔ خانہ
  70. زمین۔۔ارض۔۔ دھرتی
  71. ستارے ۔۔ انجم۔۔ ثاقب
  72. سانپ ۔۔ افعی۔۔ مار
  73. شور۔۔ غوغا۔۔ آواز
  74. صورت۔۔ چہرہ۔۔رُخ
  75. گرہن۔۔ کسوف ۔۔ خسوف
  76. گُن۔۔ہنر۔۔ خوبی۔۔ جوہر
  77. گناہ۔ جرم۔۔ پاپ۔۔ خطا
  78. گروہ۔۔ جماعت۔۔ حلقہ
  79. گھوڑا۔۔اسپ۔۔ راہوار
  80. موت۔۔ وقت۔۔ زمانہ۔۔عصر
  81. موتی۔۔ گوہر۔۔ لعل
  82. نقصان۔۔ زیاں۔۔ ضرر
  83. نیک۔۔ صالح۔۔ پارسا
  84. واقعہ۔۔ داستان۔۔ حکایت
  85. ہمیشہ۔۔ مدام۔۔ سدا
  86. قسمت۔۔ نصیب۔۔ بھاگ۔۔ تقدیر
  87. ہاتھ۔۔دست۔۔ ید
  88. عورت۔۔نساء۔۔ زن۔۔ جورو۔۔ خانم
  89. کسان۔۔ دہقان۔۔ کاشت کار
  90. انجان۔۔ نا آشنا۔۔ اجنبی۔۔ بیگانہ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
نوشاد علی ریاض احمد۔۔۔
https://teachingadds.blogspot.com






Lafzistan

  • اردو کی حیرت انگیزیاں۔۔
اردو  زبان میں ایسے کئی الفاظ موجود ہیں جن کو دائیں سے بائیں لکھا اور پڑھا جائے تو ایک لفظ اور اُسی لفظ کو بائیں سے دائیں جانب لکھا یا پڑھا جائے تو ایک نیا لفظ بن جاتا ہے۔ بچوں کے لیے یہ انتہائی کارآمد اور بہترین ذہنی آزمائش ہے۔
مثال:
ایک۔کیا۔۔۔انیس۔سینا۔۔۔اویس۔سیوا۔۔۔انور۔رونا۔۔۔اناج۔جانا۔۔۔اریب۔بیرا۔۔۔اوس۔سوا۔۔۔ارم۔مرا۔۔۔الگ۔اگلا۔۔۔بارش۔شراب۔۔۔بیج۔جیب۔۔۔بات۔تاب۔۔۔بابر۔رباب۔۔۔بابرا۔ارباب۔۔۔بل۔لب۔۔۔بار۔راب۔۔۔بٹ۔ٹب۔۔۔بک۔کب۔۔۔پان۔ناپ۔۔۔تاریخ۔خیرات۔۔۔تب۔بت۔۔۔تم۔مت۔۔۔ترازو۔وزارت۔۔۔تار۔رات۔۔۔جب۔بج۔۔۔جال۔لاج۔۔۔جرح۔حرج۔۔۔چین۔نیچ۔۔۔چوس۔سوچ۔۔۔حور۔روح۔۔۔دال۔لاد۔۔۔در۔رد۔۔۔درس۔سرد۔۔۔دم۔مد۔۔۔رانا۔انار۔۔۔راز۔زار۔۔۔روز۔زور۔۔۔ریت۔تیر۔۔۔ریشم۔مشیر۔۔۔رش۔شر۔۔۔روس۔سور۔۔۔رن۔نر۔۔۔ران۔نار۔۔۔راہ۔ہار۔۔۔روڈ۔ڈور۔۔۔روم۔مور۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سر۔رس۔۔۔ساکن۔نکاس۔۔۔سیر۔ریس۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سب۔بس۔۔۔شور۔روش۔۔۔شوخ۔خوش۔۔۔شام۔ماش۔۔۔شک۔کش۔۔۔طرف۔فرط۔۔۔طول۔لوط۔۔۔عرش۔شرع۔۔۔فرح۔حرف۔۔۔قد۔دق۔۔۔قمر۔رمق۔۔۔کپ۔پک۔۔۔کون۔نوک۔۔۔کر۔رک۔۔۔گول۔لوگ۔۔۔گم۔مگ۔۔۔لاش۔شال۔۔۔لات۔تال۔۔۔لاگ۔گال۔۔۔لیکن۔نکیل۔۔۔ماما۔امام۔۔۔مرچ۔چرم۔۔۔موچ۔چوم۔۔۔مار۔رام۔۔۔من۔نم۔۔۔نام۔مان۔۔۔نچ ۔چن۔۔۔ناک۔کان۔۔۔نس۔سن۔۔۔نگ۔گن۔۔۔نار۔ران۔۔۔وہ۔ہو۔۔۔ہجو۔وجہ۔۔۔ہم۔مہ۔۔۔ہے۔یہ۔۔۔یک۔کی ۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ


26 January

 26 جنوری : یوم جمہوریہRepublic Day

26 جنوری 1950 یعنی یوم جمہوریہ وہ مبارک دن ہے جس دن ہندوستان کا آئین مکمل طور پر نافذ ہوا تھا  اور اس نے انگریزوں  کی حکومت کے دوران بنائے گئے ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘‘  1935 کی جگہ لی تھی۔26 نومبر ، 1949 کو ہماری آئین ساز اسمبلی نے آئین کے جس متن کو منظوری دی تھی وہ 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا  اور اس کے ساتھ ہمارے ملک میں جمہوریت کی بنیاد پڑی۔ لیکن اگر صحیح منعوں میں پارلیمانی جمہوریت کے آغاز کی بات کریں تووہ تب شروع ہوئی جب  13مئی  1952 کو پارلیمنٹ  وجود میں آئی۔



اس دن حکومت اس بات کو دہراتی ہے  اور عوام بھی یہ توقع رکھتی ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کو سماجی ، سیاسی  اور معاشی انصاف ملے گا۔انھیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اپنے اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہوگی۔سب کو روزگار کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔  

Takrar-e-Lafzi

 تکراری الفاظ :۔

  • اردو میں تمام اجزائے کلام ( اسم ، صفت ، ضمیر ، فعل ، تمیز فعل ) سوائے حروف عطف اور ربط کے ایک ساتھ مکرر استعمال ہو سکتے ہیں۔ الفاظ کے دہرانےسے ’’ ہر ایک‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ نیز اختلاف زور ، تاکید یا مبالغے کا اظہار ہوتا ہے۔
  • کبھی کبھی ہم کسی کام یا چیز کی خوبی بتانے والے لفظ کو ’’ دو دو‘‘ بار کہتے ہیں۔ اس سے بات میں زور پیدا ہوتا ہے۔
  • مثال :۔ اب ہم کچھ جملوں سے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
  1. چھوٹے چھوٹے : ۔ ہمیں چھوٹے چھوٹے لقمے کھانے چاہیے۔
  2. بڑےبڑے:۔   بڑی چیونٹیاں تو بڑے بڑے دانے اُٹھالیتی ہیں۔
  3. خوشی خوشی:۔   اول انعام پا کر میں خوشی خوشی گھر لوٹا۔
  4. دس دس:۔  دس دس شاخوں کو رسّی سے باندھ کر چار گٹّھے بنائیے۔
  5. ایک ایک :۔  پولیس نے ایک ایک گھر کی تلاشی لی۔

Paigam

پیغام 

’’ ہمارے ہندی کے کچھ دوست اُردو سے اب بھی خائف ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُردو اُن کی دشمن ہے اور وہ تیزی سے ترقی نہیں کرسکے گی۔ اس لیے کہ اُردو ایک کونہ میں گھُسی بیٹھی ہے۔ ہمارے یہ دوست بعض اوقات اُردو کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ میں اُن سے کہوں گا کہ اُردو کو اس طرح گِرا کر ہندی کو ترقی نہیں دے سکتے بلکہ اس طرح وہ ہندی کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوں گے۔‘‘   ۔۔۔  پنڈت جواہر لال نہرو  



“Some of our Hindi friends are still afraid of Urdu. They think that Urdu is their enemy and they will not be able to develop fast. Because Urdu is stuck in a corner. These friends of ours sometimes deny the existence of Urdu. I will tell them that they cannot develop Hindi by dropping Urdu in this way but they will harm Hindi in this way.”

" Pandit Jawahar Lal Nahru
 

Young Ones.

 

















FOR PDF Click👇


FOR YOUTUBE VIDEOS 👉⏩        CLICK


Urdu As a Subject Of Teaching


 اردو     بہ حیثیتِ مضمونِ تدریس



مضامین کی اہمیت ان کی ضرورت پر موقوف ہوتی ہے۔

ایک:  ضرورت برائے زندگی۔

دو:  ضرورت برائے تعلیم۔

تین:  ضرورت برائے ملازمت یا کاروبار۔

ان میں ہر ضرورت عام بھی ہوسکتی ہے اور خاص بھی۔ اس لحاظ سے چھ ضرورتیں ہوجاتی ہیں۔

۔۔ عام زندگی کے لیے    ۔۔ خاص زندگی کے لیے         ۔۔ عام تعلیم کے لیے

 خاص تعلیم کے لیے    ۔۔ عام ملازمت یا کاروبار کے لیے    ۔۔ خاص قسم کی ملازمت یا کاروبار کے لیے۔

مضامینِ تدریس پر اثرانداز ہونے والے مندرجہ ذیل اسباب ہیں:۔

ایک :۔  منازلِ تدریس

دو:۔  امتحان

تین:۔  وقت نامہ

چار:۔  نِصاب

پانچ:۔  اُستاد

چھ:۔  دوسرے مضامین سے تعلق

سات:۔  سرکاری اہمیت

آٹھ:۔  اَربابِ اقتدار کی نظر میں وقعت

نو:۔  عام دل چسپی

دس :۔  طریقِ تعلیم

اُردو ایک زبان ہے اور زبان کی تدریس میں زبان پر زیادہ زور ہونا چاہیے، لیکن زبان بہ حیثیت زبان کوئی ایسا موضوع نہیں کہ اسے دوسرے مضامین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ زبان کی اہمیت جہاں اور خوبیوں پر موقوف ہے وہیں یہ بھی بنیادی امر ہے کہ وہ زبان کہاں تک تمام علمی مضامین کے مسائل خوبی کے ساتھ ادا کرسکتی ہے۔ تدریس میں اس قسم کی اہمیت دکھانے کا اہتمام زبان کے سلسلے میں بہت مفید چیز ہے۔ یہی دوسری زبان سے ربط اور اشتراک کی ایک اعلا صورت ہے۔ اُردو کے نصاب میں دوسرے علوم و فنون کے مسائل کا تذکرہ ہو تو یہ ربط بہت مستحکم ہوگا۔

# Tadrees-e-Zaban-e-Urdu

Urdu as a Teaching Subject:


Subscribe to My Educational YouTube Channel 

Click Here👇

AreeB TLM


Teaching Of Mother Tongue

 مادری زبان سِکھانے کے اغراض و مقاصد:۔

مادری زبان سِکھانے سے پہلے اس کے اغراض و مقاصد کا تعیّن ضروری ہے۔

اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر معلم کو اس کی تدریس کے لیے اغراض و مقاصد نہ معلوم ہوں تو اس کی تعلیم وتدریس بے مقصد ، خام اور فضول ثابت ہوگی۔ مادری زبان ایک فطری زبان ہے۔

بقول خواجہ غلام السیدین: ــ بچہ اِسے اپنی ماں کے دودھ کے ساتھ پیتا ہے۔

اغراض و مقاصد:۔

ایک ۔۔ بچوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اُبھارنا۔۔ بچہ اپنے خیالات کا بہتر اظہار صرف اپنی مادری زبان ہی میں کر سکتا ہے۔

دو۔۔ طلباء کو ذہنی اور دماغی طور پر آزاد کرنا۔۔ مادری زبان کے ذریعہ بچہ اپنی زندگی کے متعلق آزادی سے سوچ سکتا ہے اور آزادی سے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔

تین۔۔  ادبی وثقافتی ورثہ کی ترسیل۔۔

چار۔۔  تہذیب و تمدّن ، فنون لطیفہ اور تجارت و صنعت کی طرف بچوں کو مائل کرنا اور اُن کی خوبصورتی اور ترقی میں اضافہ اور تکمیل۔

پانچ ۔۔  بچوں کے حسین و جمیل اور عمدہ تصورات و تفکرات۔ فائن سینٹی مینٹ کو بڑھاوا دینا۔

چھ۔۔  طلباء میں نجی ، انفرادی ، سماجی اور قومی زندگی سے دلچسپی پیدا کرانا۔

سات۔۔  مادری زبان کے ذریعے دوسری زبان کے علوم و فنون کو حاصل کرنا یا سمجھنا۔

آٹھ۔۔  بولنا، پڑھنا، لکھنا ، تحریر و تقریر میں صلاحیت، قواعد پر عبور، زبان میں سلاست و سادگی، قوتِ مشاہدہ ، فکر ونظر کی نشو ونما اور خیالات کا بہتر اظہار۔

نو۔۔  ایک اچھا شہری بنانے کے علاوہ عمدہ لیڈر شپ کی تربیت اور انفرادی صلاحیتوں کا مالک بنانا۔


Mushtarik Alfaz Mukammal

 مشترک الفاظ

ہم معنی ایسے الفاظ جو ایک ساتھ لکھیں یا بولیں جاتے ہیں مشترک الفاظ کہلاتے ہیں۔

آپ یہاں سے PDFڈانلوڈ کر سکتے ہیں۔↡

Download

Subscribe To My Educational You tube Channel 

👇   Click Here

AreeB TLM






#AreeB TLM

Principles of Language Teaching

اسلام علیکم دوستوں۔ 

تدریس ِزبان ایک فن ہے۔ جس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ چند اصول وضع کیے گئے ہیں۔ کامیاب مدرس کے لیے ان اصولوں پر کار بند ہونا ناگزیر ہے۔زبان کی تدریس کے لیے بنیادی طور پر دو قسم کے اصول ہیں۔ کُلّی اور جُزوی۔ کُلّی اصول جُزوی اصول سے زیادہ اہم ہیں۔

کلّیات کی مختلف صورتیں ہیں۔

الف: رہنما اُصول

               تدریس ِزبان کے لیے ضروری ہے کہ

۔۔۔ مقصدِ تدریس کا تعین کیا جائے۔

۔۔۔ طلباء کی فطرت اور ماحول کا مطالعہ کیا جائے۔

۔۔۔  مقصد کے مطابق نصاب ِ زبان کا تعین کیا جائے۔

۔۔۔  مدّتِ تدریس اور وقت نامہ کے لحاظ سے زبان کی تقسیم کی جائے۔

۔۔۔  اسباق کی نوعیت کو پہلے سے جانچ لیا جائے۔

۔۔۔  سبق کے متعلق پہلے سے اشارات تیار کر لیے جائیں۔

ب: بنیادی اُصول

بنیادی اُصول وہ ہیں جن پر تدریسِ زبان کا اساسی انحصار ہے۔ ان اصولوں کا اثر تدریسِ زبان کے سلسلے میں ہمہ گیر ہے۔

۔۔۔  طلباء کے عمل اور ان کی ذاتی سعی پر زیادہ زور دیا جائے۔

۔۔۔  تدریسِ عمل کو روز مرّہ زندگی سے خاص طور پر مربوط کیا جائے۔

۔۔۔  جہاں تک ہو سکے مقرونیت یعنی اشیائے محسوسہ ، نمونوں ، تصویروں ، خاکوں ، واقعات اورمثالوں کے ذریعے موضوع تدریس کا تصور طلباء کو ذہن نشین کرایا جائے۔

۔۔۔  تدریسِ زبان کے ہر اقدام میں زبان پر توجہ مرکوز رہے۔

۔۔۔  اجتماعیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع پیدا کیے جائیں کہ مل کر جماعت کام کرے۔

۔۔۔  انفرادیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع مہیا کئے جائیں کہ طلباء انفرادی طور پر عمل پیرا ہوں۔

ج: اقدامی اُصول

۔۔۔  معلوم سے نامعلوم کی طرف۔

۔۔۔  آسان سے مشکل کی طرف۔

۔۔۔  غیر معیّن اور غیر واضح سے معیّن اور واضح کی طرف۔

۔۔۔  مقرون سے مُجّرد کی طرف۔

۔۔۔  خاص سے عام کی طرف۔

۔۔۔  منطقی تدبیر اور نفسیاتی ترتیب کا لحاظ۔

د: تدبیری اُصول

تدبیری اُصول وہ ہیں جن سے تدریس کو مؤثر ، واضح اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تدابیر میں سوالات ، جوابات ، توضیحات ، گھر کام ، درسی کُتب ، خاموش مطالعہ ، کُتب خانہ ، قصہ گوئی ، تمثیل اور سمعی و بصیری تدابیر ، مثلاً گراموفون ، فلم ، ریڈیو ، موبائیل ، انٹرنیٹ ، یوٹیوب ، تعلیمی ایپس وغیرہ شامل ہیں۔

#Tadris -e- Zaban -e- Urdu

Ism-e-Jama

ISME - JAMA اسم جمع:۔

وہ اسم جو اشخاص یا چیزوں کا مجموعی نام ہو ’’  اسمِ جمع ‘‘ کہلاتے ہیں۔












Jama ul Jama

 جمع الجمع:۔

بعض اوقات اسم کی جمع بنا کر پھر اُس کی جمع بنا لیتے ہیں اُسے جمع الجمع 

کہتے ہیں۔











#Jama ul Jama #Areebtlm #naushadali19881

Top queriesClicksImpressionsPosition
jama ul jama in urdu