- اردو کی حیرت انگیزیاں۔۔
Free Tips Here, On this page you will find educational resources easily available. Unique Teaching ideas and unique and free content for teaching / online teaching materials and many more.
Lafzistan
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
26 January
26 جنوری : یوم جمہوریہRepublic Day
26 جنوری 1950 یعنی یوم جمہوریہ وہ مبارک دن ہے جس دن ہندوستان کا آئین مکمل طور پر نافذ ہوا تھا اور اس نے انگریزوں کی حکومت کے دوران بنائے گئے ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘‘ 1935 کی جگہ لی تھی۔26 نومبر ، 1949 کو ہماری آئین ساز اسمبلی نے آئین کے جس متن کو منظوری دی تھی وہ 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا اور اس کے ساتھ ہمارے ملک میں جمہوریت کی بنیاد پڑی۔ لیکن اگر صحیح منعوں میں پارلیمانی جمہوریت کے آغاز کی بات کریں تووہ تب شروع ہوئی جب 13مئی 1952 کو پارلیمنٹ وجود میں آئی۔
اس دن حکومت اس بات کو دہراتی ہے اور عوام بھی یہ توقع رکھتی ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کو سماجی ، سیاسی اور معاشی انصاف ملے گا۔انھیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اپنے اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہوگی۔سب کو روزگار کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Takrar-e-Lafzi
تکراری الفاظ :۔
- اردو میں تمام اجزائے کلام ( اسم ، صفت ، ضمیر ، فعل ، تمیز فعل ) سوائے حروف عطف اور ربط کے ایک ساتھ مکرر استعمال ہو سکتے ہیں۔ الفاظ کے دہرانےسے ’’ ہر ایک‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ نیز اختلاف زور ، تاکید یا مبالغے کا اظہار ہوتا ہے۔
- کبھی کبھی ہم کسی کام یا چیز کی خوبی بتانے والے لفظ کو ’’ دو دو‘‘ بار کہتے ہیں۔ اس سے بات میں زور پیدا ہوتا ہے۔
- مثال :۔ اب ہم کچھ جملوں سے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
- چھوٹے چھوٹے : ۔ ہمیں چھوٹے چھوٹے لقمے کھانے چاہیے۔
- بڑےبڑے:۔ بڑی چیونٹیاں تو بڑے بڑے دانے اُٹھالیتی ہیں۔
- خوشی خوشی:۔ اول انعام پا کر میں خوشی خوشی گھر لوٹا۔
- دس دس:۔ دس دس شاخوں کو رسّی سے باندھ کر چار گٹّھے بنائیے۔
- ایک ایک :۔ پولیس نے ایک ایک گھر کی تلاشی لی۔
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Paigam
پیغام
’’ ہمارے ہندی کے کچھ دوست اُردو سے اب بھی خائف ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُردو اُن کی دشمن ہے اور وہ تیزی سے ترقی نہیں کرسکے گی۔ اس لیے کہ اُردو ایک کونہ میں گھُسی بیٹھی ہے۔ ہمارے یہ دوست بعض اوقات اُردو کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ میں اُن سے کہوں گا کہ اُردو کو اس طرح گِرا کر ہندی کو ترقی نہیں دے سکتے بلکہ اس طرح وہ ہندی کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوں گے۔‘‘ ۔۔۔ پنڈت جواہر لال نہرو
“Some of our Hindi friends are still afraid of
Urdu. They think that Urdu is their enemy and they will not be able to develop
fast. Because Urdu is stuck in a corner. These friends of ours sometimes deny
the existence of Urdu. I will tell them that they cannot develop Hindi by
dropping Urdu in this way but they will harm Hindi in this way.”
" Pandit Jawahar Lal Nahru
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Young Ones.
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Urdu As a Subject Of Teaching
اردو بہ حیثیتِ مضمونِ تدریس
مضامین کی اہمیت ان کی ضرورت پر موقوف ہوتی ہے۔
ایک: ضرورت برائے زندگی۔
دو: ضرورت برائے تعلیم۔
تین: ضرورت برائے ملازمت یا کاروبار۔
ان میں ہر ضرورت عام بھی ہوسکتی ہے اور خاص بھی۔ اس لحاظ سے چھ ضرورتیں ہوجاتی ہیں۔
۔۔ عام زندگی کے لیے ۔۔ خاص زندگی کے لیے ۔۔ عام تعلیم کے لیے
خاص تعلیم کے لیے ۔۔ عام ملازمت یا کاروبار کے لیے ۔۔ خاص قسم کی ملازمت یا کاروبار کے لیے۔
مضامینِ تدریس پر اثرانداز ہونے والے مندرجہ ذیل اسباب ہیں:۔
ایک :۔ منازلِ تدریس
دو:۔ امتحان
تین:۔ وقت نامہ
چار:۔ نِصاب
پانچ:۔ اُستاد
چھ:۔ دوسرے مضامین سے تعلق
سات:۔ سرکاری اہمیت
آٹھ:۔ اَربابِ اقتدار کی نظر میں وقعت
نو:۔ عام دل چسپی
دس :۔ طریقِ تعلیم
اُردو ایک زبان ہے اور زبان کی تدریس میں زبان پر زیادہ زور ہونا چاہیے، لیکن زبان بہ حیثیت زبان کوئی ایسا موضوع نہیں کہ اسے دوسرے مضامین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ زبان کی اہمیت جہاں اور خوبیوں پر موقوف ہے وہیں یہ بھی بنیادی امر ہے کہ وہ زبان کہاں تک تمام علمی مضامین کے مسائل خوبی کے ساتھ ادا کرسکتی ہے۔ تدریس میں اس قسم کی اہمیت دکھانے کا اہتمام زبان کے سلسلے میں بہت مفید چیز ہے۔ یہی دوسری زبان سے ربط اور اشتراک کی ایک اعلا صورت ہے۔ اُردو کے نصاب میں دوسرے علوم و فنون کے مسائل کا تذکرہ ہو تو یہ ربط بہت مستحکم ہوگا۔
# Tadrees-e-Zaban-e-Urdu
Urdu as a Teaching Subject:
Subscribe to My Educational YouTube Channel
Click Here👇
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Teaching Of Mother Tongue
مادری زبان سِکھانے کے اغراض و مقاصد:۔
مادری زبان سِکھانے سے پہلے اس کے اغراض و مقاصد کا تعیّن ضروری ہے۔
اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر معلم کو اس کی تدریس کے لیے اغراض و مقاصد نہ معلوم ہوں تو اس کی تعلیم وتدریس بے مقصد ، خام اور فضول ثابت ہوگی۔ مادری زبان ایک فطری زبان ہے۔
بقول خواجہ غلام السیدین: ــ بچہ اِسے اپنی ماں کے دودھ کے ساتھ پیتا ہے۔
اغراض و مقاصد:۔
ایک ۔۔ بچوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اُبھارنا۔۔ بچہ اپنے خیالات کا بہتر اظہار صرف اپنی مادری زبان ہی میں کر سکتا ہے۔
دو۔۔ طلباء کو ذہنی اور دماغی طور پر آزاد کرنا۔۔ مادری زبان کے ذریعہ بچہ اپنی زندگی کے متعلق آزادی سے سوچ سکتا ہے اور آزادی سے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔
تین۔۔ ادبی وثقافتی ورثہ کی ترسیل۔۔
چار۔۔ تہذیب و تمدّن ، فنون لطیفہ اور تجارت و صنعت کی طرف بچوں کو مائل کرنا اور اُن کی خوبصورتی اور ترقی میں اضافہ اور تکمیل۔
پانچ ۔۔ بچوں کے حسین و جمیل اور عمدہ تصورات و تفکرات۔ فائن سینٹی مینٹ کو بڑھاوا دینا۔
چھ۔۔ طلباء میں نجی ، انفرادی ، سماجی اور قومی زندگی سے دلچسپی پیدا کرانا۔
سات۔۔ مادری زبان کے ذریعے دوسری زبان کے علوم و فنون کو حاصل کرنا یا سمجھنا۔
آٹھ۔۔ بولنا، پڑھنا، لکھنا ، تحریر و تقریر میں صلاحیت، قواعد پر عبور، زبان میں سلاست و سادگی، قوتِ مشاہدہ ، فکر ونظر کی نشو ونما اور خیالات کا بہتر اظہار۔
نو۔۔ ایک اچھا شہری بنانے کے علاوہ عمدہ لیڈر شپ کی تربیت اور انفرادی صلاحیتوں کا مالک بنانا۔
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Mushtarik Alfaz Mukammal
مشترک الفاظ
ہم معنی ایسے الفاظ جو ایک ساتھ لکھیں یا بولیں جاتے ہیں مشترک الفاظ کہلاتے ہیں۔
آپ یہاں سے PDFڈانلوڈ کر سکتے ہیں۔↡
Subscribe To My Educational You tube Channel
👇 Click Here
#AreeB TLM
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Principles of Language Teaching
اسلام علیکم دوستوں۔
تدریس ِزبان ایک فن ہے۔ جس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ چند اصول وضع کیے گئے ہیں۔ کامیاب مدرس کے لیے ان اصولوں پر کار بند ہونا ناگزیر ہے۔زبان کی تدریس کے لیے بنیادی طور پر دو قسم کے اصول ہیں۔ کُلّی اور جُزوی۔ کُلّی اصول جُزوی اصول سے زیادہ اہم ہیں۔
کلّیات کی مختلف صورتیں ہیں۔
الف: رہنما اُصول
تدریس ِزبان کے لیے ضروری ہے کہ
۔۔۔ مقصدِ تدریس کا تعین کیا جائے۔
۔۔۔ طلباء کی فطرت اور ماحول کا مطالعہ کیا جائے۔
۔۔۔ مقصد کے مطابق نصاب ِ زبان کا تعین کیا جائے۔
۔۔۔ مدّتِ تدریس اور وقت نامہ کے لحاظ سے زبان کی تقسیم کی جائے۔
۔۔۔ اسباق کی نوعیت کو پہلے سے جانچ لیا جائے۔
۔۔۔ سبق کے متعلق پہلے سے اشارات تیار کر لیے جائیں۔
ب: بنیادی اُصول
بنیادی اُصول وہ ہیں جن پر تدریسِ زبان کا اساسی انحصار ہے۔ ان اصولوں کا اثر تدریسِ زبان کے سلسلے میں ہمہ گیر ہے۔
۔۔۔ طلباء کے عمل اور ان کی ذاتی سعی پر زیادہ زور دیا جائے۔
۔۔۔ تدریسِ عمل کو روز مرّہ زندگی سے خاص طور پر مربوط کیا جائے۔
۔۔۔ جہاں تک ہو سکے مقرونیت یعنی اشیائے محسوسہ ، نمونوں ، تصویروں ، خاکوں ، واقعات اورمثالوں کے ذریعے موضوع تدریس کا تصور طلباء کو ذہن نشین کرایا جائے۔
۔۔۔ تدریسِ زبان کے ہر اقدام میں زبان پر توجہ مرکوز رہے۔
۔۔۔ اجتماعیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع پیدا کیے جائیں کہ مل کر جماعت کام کرے۔
۔۔۔ انفرادیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع مہیا کئے جائیں کہ طلباء انفرادی طور پر عمل پیرا ہوں۔
ج: اقدامی اُصول
۔۔۔ معلوم سے نامعلوم کی طرف۔
۔۔۔ آسان سے مشکل کی طرف۔
۔۔۔ غیر معیّن اور غیر واضح سے معیّن اور واضح کی طرف۔
۔۔۔ مقرون سے مُجّرد کی طرف۔
۔۔۔ خاص سے عام کی طرف۔
۔۔۔ منطقی تدبیر اور نفسیاتی ترتیب کا لحاظ۔
د: تدبیری اُصول
تدبیری اُصول وہ ہیں جن سے تدریس کو مؤثر ، واضح اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تدابیر میں سوالات ، جوابات ، توضیحات ، گھر کام ، درسی کُتب ، خاموش مطالعہ ، کُتب خانہ ، قصہ گوئی ، تمثیل اور سمعی و بصیری تدابیر ، مثلاً گراموفون ، فلم ، ریڈیو ، موبائیل ، انٹرنیٹ ، یوٹیوب ، تعلیمی ایپس وغیرہ شامل ہیں۔
#Tadris -e- Zaban -e- Urdu
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Ism-e-Jama
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Jama ul Jama
جمع الجمع:۔
بعض اوقات اسم کی جمع بنا کر پھر اُس کی جمع بنا لیتے ہیں اُسے جمع الجمع
کہتے ہیں۔
#Jama ul Jama #Areebtlm #naushadali19881
| Top queries | Clicks | Impressions | Position |
|---|---|---|---|
| jama ul jama in urdu |
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Awaz (Sounds)
: اردو میں صوتی الفاظ
Subscribe To my YouTube channel
https://www.youtube.com/@ansariareeb6941
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.
Ye Noongunna Laga Kar Jama Banana.
This is Naushad Ali Riyaz Ahmed. (Student of life ) I have born & brought up in Malegaon. I have done my schooling in Malegaon. I am a Learner, content writer, blogger , youtuber and DTP operator.




























































