Aqwaal


AreeB TLM























App ke liye Hazir hai.


Areebtlm














#areebtlm #naushadali19881 #Tlmblog #Aqwaal

SurkhDev (Milkyway)

 کہکشاں ’ ملکی وے‘کا سب سے بڑا ستارہ اختتام سے قبل عکس بند۔۔۔۔۔

 کیلیفورنیا: سائنسدانوں نے ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ کے ممکنہ طور پر سب سے بڑے ستارے وی وائی کینس میجرس کی اب تک کی سب سے تفصیلی تصویر کی عکس بند کر لی ہے۔یہ ستارہ تصویر کے مطابق اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

 وی وائی کینس میجرس ایک سرخ ہائپر جائنٹ ہے جسے سرخ دیوبھی کہا جاتا ہے۔ یہ ستاروں کی وہ قسم ہوتی ہے جواتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کا قطرز مین اور سورج کےدرمیان فاصلے سے 10 ہزار گنابڑا ہوسکتا ہے تاہم ان کے اختتامی مراحل کے متعلق سائنسداں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔

ستارے بھی انسانوں کی طرح پیدا ہوتے اور فنا ہوجاتے ہیں تاہم ان کی کمیت، ایندھن خرچ کرنے کے انداز اور نقلی قوت کی بنا پر بھی کوئی ستارہ سرخ دیو تک پہنچتا ہے، کوئی بلیک ہول بن جا تا ہے اور کوئی سپرنووا کی شکل میں پھٹ پڑتا ہے۔ سرخ جائنٹس کی طرح پھول کر بڑے سرخ گولے کی صورت اختیار کرنے کے بجاۓ ہائپر جائنٹس پھول  کربڑے سرخ گولے کی صورت اختیار  کرنے کے بجائے ہائپر جاینٹس پھول کربے ہنگم محرابوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو باہر خارج ہوتی رہتی ہیں۔ اس عمل سے گزرتے ہوئے بھی ستارےبھاری مقدار میں توانائی کا اخراج کرتے رہتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کی سر براہی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے وی وائی کینس میجرس کی خارج ہوتی محرابوں کو عکس بند کیا ہے جو کسی بھی مرتے ہوۓ ہائپر جائنٹ کی اب تک کی سب سے صاف تصویر ہے۔ان خمیدہ محرابوں کو کرنل آرکس کا نام دیا گیا ہے جو پلازما اور گیسوں پرمشتمل بڑے شعلے یا لیٹے ہوتے ہیں قلی قوت کی باعث یہ ٹوٹی ہوئی چوڑی کے ٹکڑوں کی طرح خمیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

ہماری کہکشاں میں مٹھی بھر ہائپر جائنٹس موجود ہیں اور دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ روشن ستارے اور ائن نامی ستاروں کی جھرمٹ میں موجود ہیں ۔لیکن وی وائی کینس میجرس جو زمین سے 3000 نوری سال کے فاصلہ پر موجود ہے، یہ بڑے ستاروں میں ہماری اب تک معلومات کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے محققین کی ٹیم کی جانب سے حاصل کئے گئے نتائج کو کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی240 ویں امیریکن آسٹرونومیکل سوسائٹی کی میٹنگ کے موقع پر پیش کیا گیا۔


#areebtlm #naushadali19881 #milkyway #blog #Inquilabnews

Abbreviations used in India National Education policy 2020

 

ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں استعمال شدہ مخففات

Abbreviations used in India National Education policy 2020

ABC

Academic Bank of Credit

Al

Artificial Intelligence

AC

Autonomous degree-granting College

AEC

Adult Education Centre

API

Application Programming Interface

AYUSH

Ayurveda, Yoga and Naturopathy, Unani, Siddha and

Homeopathy

B. Ed.

Bachelor of Education

BEO

Block Education Officer

BITE

Block Institute of Teacher Education

BOA

Board of Assessment

BOG

Board of Governors

BRC

Block Resource Centre

B.Voc

Bachelor of Vocational Education

CABE

Central Advisory Board of Education

CBCS

Choice Based Credit System

CBSE

Central Board of Secondary Education

 

CIET

Central Institute of Educational Technology

CMP

Career Management and Progression

COA

Council of Architecture

CPD

Continuous Professional Development

CRC

Cluster Resource Centre

CWSN

Children with Special Needs

 

DAE

Department of Atomic Energy

DBT

Department of Biotechnology

DEO

District Education Officer

DIET

District Institute of Education and Training

DIKSHA

Digital Infrastructure for Knowledge Sharing

DSE

Directorate of School Education

 

DST

Department of Science and Technology

ECCE

Early Childhood Care and Education

EEC

Eminent Expert Committee

GCED

Global Citizenship Education

GDP

Gross Domestic Product

GEC

General Education Council

 

GER

Gross Enrolment Ratio

GFR

General Financial Rule

HECI

Higher Education Commission

HEGC

Higher Education Grants Council

HEI

Higher Education Institutions

ICAR

Indian Council of Agricultural Research

ICHR

Indian Council of Historical Research

 

ICMR

Indian Council of Medical Research

ICT

Information and Communication Technology

IDP

Institutional Development Plan

IGNOU

Indira Gandhi National Open University

IIM

Indian Institute of Management Indian Institute of Technology

IIT

Indian Institute of Translation and Interpretation

 

ISL

Indian Sign Language

ITI

Industrial Training Institute

M. Ed.

Master of Education

MBBS

Bachelor of Medicine and Bachelor of Surgery

MERU

Multidisciplinary Education and Research Universities

MHFW

Ministry of Health and Family Welfare

 

MHRD

Ministry of Human Resource Development

MOE

Ministry of Education

MOOC

Massive Open Online Course

MOU

Memorandum of Understanding

 

M. Phil

Master of Philosophy

MWCD

Ministry of Women and Child Development

NAC

National Accreditation Council

NAS

National Achievement Survey

NCC

National Cadet Corps

NCERT

National Council of Educational Research and Training

NCF

National Curriculum Framework

NCFSE

National Curriculum Framework for School Education

 

NCFTE

National Curriculum Framework for Teacher Education

NCIVE

National Committee for the Integration of Vocational Education

NCPF

National Curricular and Pedagogical Framework

ECCE

Early Childhood Care and Education

NCTE

National Council for Teacher Education

NCVET

National Council for Vocational Education and Training

 

NETF

National Educational Technology Forum

NGO

Non-Governmental Organization

NHEQF

National Higher Education Qualifications Framework

NHERC

National Higher Education Regulatory Council

NIOS

 National Institute of Open Schooling

NIT

National Institute of Technology

 

NITI

National Institution for Transforming India

NPE

National Policy on Education

NPST

National Professional Standards for Teachers

NRF

National Research Foundation

 

NSQF

National Skills Qualifications Framework

NSSO

National Sample Survey Office

NTA

National Testing Agency

OBC

Other Backward Classes

ODL

Open and Distance Learning

PARAKH

Performance Assessment, Review and Analysis of

Knowledge for Holistic development

PCI

Pharmacy Council of India

PFMS

Public Financial Management System

Ph .D

Doctor of Philosophy

PSSB

Professional Standard Setting Body

PTR

Pupil Teacher Ratio

R&I

Research and Innovation

RCI

Rehabilitation Council of India

RPWD

Rights of Persons with Disabilities

 

SAS

State Achievement Survey

SC

Scheduled Caste(s)

SCDP

School Complex/Cluster Development Plans

SCERT

State Council of Educational Research and Training

SCF

State Curricular Framework

SCMC

School Complex Management Committee

 

SDG

Sustainable Development Goal

SDP

School Development Plan

SEDG

Socio-Economically Disadvantaged Group

SEZ

Special Education Zone

SIOS

State Institutes of Open Schooling

SMC

School Management Committee

 

SQAAF

School Quality Assessment and Accreditation Framwork

SSA

Sarva Shiksha Abhiyan

SSS

Simple Standard Sanskrit

SSSA

State School Standards Authority

ST

Scheduled Tribe(s)

STEM

Science, Technology, Engineering, and Mathematics

 

STS

Sanskrit Through Sanskrit

SWAYAM

Study Webs of Active Learning for Young Aspiring Minds

ΤΕΙ

Teacher Education Institution

TET

Teacher Eligibility Test

U-DISE

Unified District Information System for Education

UGC

University Grants Commission

 

UNESCO

United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization

UT

Union Territory

VCI

Veterinary Council of India



PDF Download 

(Source: PDF of National Education Policy 2020 at Ministry of Education, India website.)

 #AreeBTLM #Naushadali19881 

Chand ki Doori

 chand ki doori

چاند کی دُوری اور اس کے اثرات:

کائنات کے وجود سے لے کر اب تک چاند زمین سے بہت دور جا چکا ہے اور ایک وقت آئے گا جب یہ غائب  ہوجائے گایا بہت چھوٹا ہوجائے گا ۔ جو زمینی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

چاند زمین سے دور ہو جاتا ہے ۔ یا آپ نظام شمسی سے باہر چلے جاتے ہیں تو سب سے پہلے لوگ یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ آپ کا چہرہ چاند جیسا خوبصورت ہے ۔ چاند سے متعلق تمام تہوارختم ہوجائیں گے۔اگر چاند غائب یا چھوٹا ہوجاتا ہے تو تہوار کس سیارے کو دیکھ کر منایا جائے گا ۔ پورا چاند نہیں ہوگا، کوئی چاند گرہن نہیں۔ لیکن چاند کے جانے کا زمین پر کیا اثر ہوگا ؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ؟۔ آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔

 ہر قسم کے چاند گرہن ختم ہو جائیں گے۔۔۔۔۔

 سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ چاند ہر سال زمین سے 1.5 انچ دور ہو رہا ہے ۔ بالآخر ایک وقت آئے گا جب زمین کا قدرتی سیٹلائٹ بہت دور چلا جلائے گا ۔ اس کا نقصان یہ ہوگا کہ انسان ہر طرح کے چاند گرہن کے نظارے سے محروم ہوجائے گا کیونکہ یہ اتنا چھوٹا نظر آئےگا کہ سورج کو پوری طرح ڈھانپ نہیں سکے گا ۔

 اس کام کومکمل ہونے میں 60 کروڑ سال لگیں گے ۔

 ناسا کے گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کے قمری سائنسدان رچرڈ وونڈرک نے 2017 ء میں کہا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سورج گرہن کی تعداد میں کمی آئے گی۔اب سے تقریبا 200 ملین ( 60 کروڑ ) سال بعد ، زمین آخری بارمکمل سورج گرہن کی خوبصورتی کا تجربہ کرے گی ۔ کیونکہ چاند سورج اور زمین کے درمیان کبھی نہیں آئے گا۔

 راتیں بہت تاریک ہوں گی ، روشنی نہیں ہوگی۔

 جوں جوں چاند زمین سے دور جاتا رہے گا ، راتیں تاریک ہوتی جائیں گی ۔ کیونکہ چاند، سورج کی روشنی سے  چمکتا ہے ۔ اس کے نور سے راتوں میں زمین پر سکون بخش روشنی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو رات میں چاند کی روشنی کا لطف ختم ہوسکتا ہے ۔ وینس نظام شمسی کا سب سے روشن سیارہ ہے لیکن جب پورے چاند کی رات ہوتی ہے تو چاند اس سے دو ہزار گناز یادہ چمکتا ہے ۔

 زمین کا جھکاؤ بگڑ جائے گا اور کشش ثقل حرکت کرے گی۔

 چاند کی وجہ سے زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری کے جھکاؤ پر ٹکی ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے موسم میں تبدیلی اوقات میں خوفناک حد تک تبد یلی آسکتی ہے، آرہی ہے ۔ دونوں سیاروں کے درمیان کشش ثقل کی ایک کشش ہے ۔ دراصل 300 ملین سال پہلے چاند زمین کے بہت قریب تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ دور چلا گیا ۔ اس وقت چاند ہماری زمین سے تقریبا 3 لاکھ 84 ہزار4 سوکلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ جس کی وجہ سے زمین پر بہت سی چیز میں بہتر ہورہی ہیں ۔اس نے ہزاروں سالوں سے ہماری زمین کو کنٹرول کیا ہے ۔

 سمندر سے اٹھنے والی لہر میں کم یا ختم ہو جائیں گی۔

 سمندر کی خوبصورتی اس کی لہروں میں پنہاں ہیں ۔ چاند کے جاتے ہی سمندر کی لہریں ختم ہو جائیں گی ۔ یا اسکی تشکیل اور قد کم ہو جائےگا ۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ جیسے ہی چاند غائب ہوگا یا دور ہو جائے گا ، سمندر سے اٹھنے والی لہریں نصف اونچائی پر ہوں گی ۔ اس سے کم از کم سرفنگ کا کھیل تو خراب ہو جائےگا ۔

رات کی مخلوق کی زندگی متاثر ہوگی۔

 رات کے جانوروں کی زندگی پر بڑا اثر پڑے گا ۔ کیڑے کالائف سائیکل ، جولاکھوں سالوں سے تیار ہورہا ہے ، خراب ہو جائے گا ۔ وہ چاند کی طاقت اور ستاروں کی روشنی پر سفر کرتا ہے ۔ نئے پیدا ہونے والے کچھوے چاند کی روشنی کی مدد سے اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں ، وہ بھٹک جائیں گے ۔

 کون سا موسم کب آئے گا کوئی نہیں جانتا۔

 چاند کے دور جانے سے موسم میں تبدیلی آسکتی ہے یا  رُک سکتی ہے ۔ موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے زمین پر جانوروں کی بہت ہی نسلیں ختم ہو جائیں گی ۔ ۔

#Areebtlm #naushadali19881#Inquilab


The moon moves away from the earth.  Or if you go outside the solar system, people will first stop saying that your face is as beautiful as the moon.  All the festivals related to the moon will end. If the moon disappears or becomes smaller then the festival will be celebrated by looking at which planet.  There will be no full moon, no lunar eclipse.  But what effect will the moon have on the earth?  Have you thought  Let us tell you?  All types of lunar eclipses will end Scientists have confirmed that the moon is moving 1.5 inches away from the earth every year.  Eventually, a time will come when the Earth's natural satellite will go too far.  The disadvantage of this is that man will lose sight of all kinds of lunar eclipses because they will appear so small that they will not be able to cover the sun completely.  This work will take 600 million years to complete.  Richard Wonderk, a lunar scientist at NASA's Goddard Space Flight Center, said in 2017 that the number of solar eclipses would decrease over time.  Will experience.  because the moon will never come between the sun and the earth.  The nights will be very dark, there will be no light as the moon goes away from the earth, and the nights will get dark.  Because the moon shines with the light of the sun.  Its light illuminates the earth at night.  If this happens then the enjoyment of moonlight at night may be lost.  Venus is the brightest planet in the solar system, but the moon when it is full moon nights is 4 kilometers away.  Due to this many things are getting better on the earth. It has controlled our earth for thousands of years.  The beauty of the sea lies in its waves.  As soon as the moon goes down, the waves of the sea will disappear.  Or its shape and height will be reduced.  Scientists estimate that as soon as the moon disappears, the waves rising from the sea will be at half the height.  At the very least, the surfing game will get worse.  The life of nocturnal creatures will be affected. The life of nocturnal animals will be greatly affected.  The Insect Life cycle, which has been evolving for millions of years, will break down.  He travels on the power of the moon and the light of the stars.  Newborn turtles find their way with the help of moonlight, they will get lost.  No one knows which season will come when the moon goes away. The weather may change or stop.  Climate change will wipe out many species of animals on earth.  

Mumbai (News)

 ممبئی ڈوب رہی ہے۔۔۔۔نیوز

Mumbai (News):

ممبئی ، ( اسٹاف رپورٹر ) : دنیا کے مختلف ممالک سے متعلق کئے جار ہے ایک مطالعہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ممبئی شہر ہر سال 2 ملی میٹر کی رفتار سے ڈوب رہا ہے ممبئی کے زمین میں دھنسنے کا جو فوری اثر عوام پر پڑے گا وہ یہ ہے کہ اگر شہری انتظامیہ اور دیگر ایجنسیوں نے فوری طور پر کوئی اقدام نہیں کیا تو برسات کے دوران مختلف علاقوں میں برسات کا پانی بھرنے کے معاملات میں اضافہ ہوگا ۔ ٫ 3 طرف سے سمندر سے گھرے ممبئی جیسے شہر کیلئے دہرا مسئلہ یہ ہے کہ زمین دھنسنے کے علاوہ دنیا بھر میں گرمی میں جو اضافہ ہورہا ہے ، جسے گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے ، اس میں بڑے بڑے برف کے تو دے نہایت تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمندر کی سطح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ممبئی کے ڈوبنے کی حقیقت’’ان۔ایس اے آر ( انفارمیٹک سینتھیٹک اپرچر راڈر ) تکنیک کے ذریعہ 2015 سے 2020 کے دوران دنیا کے 99 ممالک پر کئے گئے مطالعہ میں سامنے آئی ہے ۔ جبکہ اس دوران آئی آئی ٹی ۔ بامبے نے اس موضوع پر ایک دیگر مطالعہ کیا جس پر ماہرین کا تبصرہ نہیں آیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبئی میں بائیکلہ ، قلابہ ، چرچ گیٹ ، کالبادیوی ، کرلا ، اندھیری ( مشرق ) ، ملنڈ ، ناہور( مشرق ) ، دادر ، وڈالا شہر کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت زیادہ تیزی سے دھنس رہے ہیں ۔ ساتھ ہی تاردیو  بھانڈوپ ، ٹرامبے اور گوونڈی کے کچھ حصوں کا بھی یہی حال ہے جبکہ گھاٹ کوپر ۔ مانخوردلنک روڈ کے کنارے پر بے ترتیبی سے بسنے والی گھنی آبادی والی جھوپڑ پٹیاں جو سائن ۔ پنویل ایکسپریس وے تک پہنچتی ہیں بھی تیزی سے عمودی طور پر زمین میں دھنس رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ مذکورہ دونوں مطالعوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ زمین سے پانی نکالنے ، کان کنی ، قدرتی طور پر جہاں پانی ہے ان حصوں کو پاٹ کر ان مقامات کو زمین میں تبدیل کر کے مختلف کاموں میں لانے ، مختلف انفرااسٹرکچر پروجیکٹوں ، انتہائی اونچیجلد اقدامات نہیں کئے گئے تو برسات میں پانی بھرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگا عمارتوں کی تعمیرات اور ماحولیات میں تبدیلیوں جیسی وجوہات کی بنیاد پر زمین عمودی طور پر دھنس رہی ہے یا نہیں اور اگر دھنس رہی ہے تو اس کی رفتار کیا ہے ۔ ماہرین کا دعوی ہے کہ لینڈ سبسیڈائزنگ یعنی زمین دھنسنے کا عمل اگر ایک مرتبہ ہو گیا تو زمین کے اس حصہ کو دوبارہ اس کی اصل حالت پر نہیں لایا جاسکتا ۔ زمین دھنسنے کا عمل  میں کئی ہزار سے کئی لاکھ کلومیٹر کے رقبہ میں ہوسکتا ہے۔اگرچہ ممبئی کے دھنسنے کی رفتار مغربی ایشیا کے کئی ملکوں کی بہ نسبت کم ہے لیکن سطح سمندر میں تیزی سے اضافہ اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شدید برسات کی وجہ سے اس کی رفتار آنے والے وقت میں بڑھ سکتی ہے ۔


मुंबई, (स्टाफ रिपोर्टर) : जागतिक तापमानवाढीमुळे मुंबई शहर वर्षाकाठी 2 मि.मी.च्या वेगाने बुडत असल्याचा दावा जगाच्या विविध भागात करण्यात येत असून त्याचा परिणाम लोकांवर होत आहे. प्रशासन व इतर यंत्रणांनी तातडीने कार्यवाही न केल्यास पावसाळ्यात विविध भागात पावसाचे पाणी साचण्याच्या घटना वाढतील.  “तीन बाजूंनी महासागरांनी वेढलेल्या मुंबईसारख्या शहरासाठी दुहेरी समस्या म्हणजे भूस्खलनाव्यतिरिक्त जागतिक तापमानवाढ, ज्याला ग्लोबल वॉर्मिंग म्हणतात, मोठ्या बर्फाच्या ढिगाऱ्यांच्या रूपात खूप वेगाने वितळत आहे. त्यामुळे समुद्राची पातळी खालावली आहे. देखील वेगाने वाढत आहे.  NSAR (Informative Synthetic Aperture Radar) तंत्राचा वापर करून 2015 ते 2020 दरम्यान जगातील 99 देशांच्या अभ्यासात मुंबई बुडण्याचे वास्तव समोर आले आहे.  तर आय.आय.टी.  बॉम्बेने या विषयावर आणखी एक अभ्यास केला, ज्यावर तज्ञांनी भाष्य केले नाही, त्यात असे आढळून आले की मुंबई, बैकला, कलाबा, चर्च गेट, काळबादिवी, कार्ला, अंधेरी (पूर्व), मिलंड, नाहोर(पूर्व), दादर, वडाळा शहराच्या इतर भागांपेक्षा वेगाने बुडत आहेत.  तारदेव भांडुप, ट्रॉम्बे आणि गोंडीच्या काही भागांतही हेच आहे, तर घाट कूपरच्या काही भागांत.  मानखुर्दलिंक रोडलगतच्या दाट लोकवस्तीच्या झोपडपट्ट्यांच्या खुणा.  पनवेल द्रुतगती मार्गापर्यंत पोहोचून तोही वेगाने जमिनीत उभा आहे.  हे लक्षात घेतले पाहिजे की वरील दोन्ही अभ्यासांमध्ये असे आढळून आले आहे की जमिनीतून पाणी काढणे, खाणकाम, नैसर्गिकरित्या पाणी असलेल्या भागांमध्ये खोदकाम करणे आणि विविध कामांसाठी, विविध पायाभूत सुविधांच्या प्रकल्पांसाठी या ठिकाणांचे जमिनीत रूपांतर करणे, खूप जास्त आहे.लवकर कारवाई न केल्यास पावसाळ्यात पूर येण्याच्या घटनांमध्ये इमारतींचे बांधकाम आणि पर्यावरणात होणारे बदल, पृथ्वी उभी बुडत आहे की नाही आणि तसे असल्यास त्याचा वेग काय आहे यासारख्या कारणांमुळे वाढेल.  तज्ज्ञांचा दावा आहे की एकदा जमीन अनुदानाची प्रक्रिया झाली की, जमिनीचा हा भाग मूळ स्थितीत आणता येणार नाही.  अनेक हजार ते अनेक लाख किलोमीटर परिसरात भूस्खलन होऊ शकते.मुंबईत भूस्खलनाचे प्रमाण पश्चिम आशियातील अनेक देशांच्या तुलनेत कमी असले तरी जागतिक तापमानवाढीमुळे समुद्राच्या पातळीत झपाट्याने वाढ होत असल्याने आणि अतिवृष्टीमुळे भूस्खलन होत आहे. भविष्यात त्याचा वेग वाढू शकतो.

#Mumbai news #Areebtlm # Naushadali19881

Inquilab - 14/06/2022



Kastur "BA" Gandhi

کستوربا گاندھی: 

1869 ء کوموہن داس کرم چندگاندھی کی اہلیہ کستوربا گاندھی پیدا ہوئی تھیں۔انہیں‘‘ با ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا ۔ 1883 ء میں کستور با کی شادی گاندھی جی سے کی گئی تھی جب یہ دونوں کم سن تھے ۔ کستور با گاندھی گجرات میں ویشنو خاندان میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کو ۴ ؍اولادیں تھیں ۔ کستور با گاندھی اپنے شوہر گاندھی جی کے ساتھ ہمیشہ رہیں اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا ۔  انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ انگریزوں کے خلاف سیاسی احتجاج میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا ۔ ۱۸۹۷ ء میں انہوں نے گاندھی جی کے ساتھ جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا ۔ ڈربن کے فینکس باز آبادکاری کے  احتجاج میں وہ پیش پیش تھیں ۔ ۱۹۱۳ ء میں ہندوستانی مزدوروں کے کام کرنے کی شرائط کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں گرفتار کیا گیا اوران پر مقدمہ قائم کر کے انہیں ۳ ؍ماہ کی سخت دی گئی تھی۔اس کے بعد جب وہ ہندوستان آئیں تو اپنے شوہر کے ساتھ ہر مقام پر گرفتاری دی ۔۱۹۱۵ ء میں جب گاندھی جی وطن لوٹے اور انہوں نے نیل کی کھیتی کیخلاف احتجاج کیا تو اس وقت کستور با گاندھی بھی ان کے ساتھ تھیں ۔ وہ ایک باصلاحیت نظم وضبط والی تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ وہ دیگر خواتین اور بچوں کو بھی تعلیم دیتی تھیں ۔کستور با کو پیدائشی کھانسی کا مرض تھا ۔ ان کے شوہر نے ان کے ذہن میں ایک ہی بات نقش کر دی تھی کہ ایک کے بعد دوسری پر یشانیاں آئیں گی تو اس پر صبر سے کام لیں گی ۔‘  بھارت چھوڑ وتحریک‘ کے دوران گرفتاری اور سابرمتی آشرم کی زندگی کی وجہ سے وہ زیادہ بیمار ہوگئیں ۔ کستور با کی پیدائشی کھانسی اور سوزش نمونیا میں تبدیل ہوگئی ۔جنوری ۱۹۴۴ ء میں کستور باکو دل کے ۲ ؍دورے پڑے۔اس دوران کستور باکو آیورویدک ڈاکٹر سے علاج کرانے کیلئے کہا گیا ۔ علاج میں تاخیر ہونے کے بعد انگریز حکومت نے گاندھی جی کو اجازت دی کہ وہ ان کا علاج دیسی ڈاکٹر سے کرائیں۔اس علاج سے انہیں معمولی افاقہ ہوا اور ۱۹۴۴ ء کے فروری میں وہ اپنے برآمدے میں بھی آئیں اور وہیل چیئر پر بیٹھ کر لوگوں سے چند باتیں کیں۔ان کی تیمار داری کرنے والے اکثر ان سے کہا کرتے تھے کہ وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گی جس پر با کہتیں کہ میرا وقت پورا ہو گیا ہے ۔ اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد ۲۲ فروری ۱۹۴۴ ء کوکستور بانے آخری سانس لی اور گاندھی جی کے بازوؤں میں دم توڑ دیا ۔ اس وقت یہ دونوں میاں بیوی جیل ہی میں قید تھے ۔





Kasturba Gandhi, the wife of Mohandas Karam Chand Gandhi, was born in 1869... She was addressed as "Ba". Kasturba was married to Gandhiji in 1833 when they were both young. Kasturba Gandhi was born into a Vishnu family in Gujarat and had two children. Kasturba Gandhi always stayed with her husband Gandhiji and supported him at every step. She, along with her husband, also took an active part in political protests against the British. In 1897, he traveled to South Africa with Gandhiji. She was at the forefront of protests against the resettlement of Phoenix in Durban.

She was arrested in 1913 for protesting against the working conditions of Indian workers and was given a three-month rigorous trial Arrested. When Gandhiji returned home in 1915 and protested against indigo cultivation, Kasturba Gandhi was also with him. She was a talented, disciplined, educated woman. She also taught other women and children. Kasturba had a congenital cough. Her husband had imprinted the same thing in her mind that if one Problem came after another, she would work on it patiently.

Kasturba's congenital cough and inflammation turned into pneumonia. In January 1944 Kasturba suffered two heart attacks. After the delay in treatment, the British government allowed Gandhiji to seek treatment from a local doctor. She used to tell him that she would get well soon, to which he would say that my time was up. A few days after this incident, on February 22 1944 Kasturba breathed his last and died in Gandhiji's arms. The couple was in jail at the time.

https://teachingadds.blogspot.com

Telegram Link

Https://t.me/AreeBTLM

Naushad Ali

YouTube Link

https://www.youtube.com/@ansariareeb691



Abraham Lincoln

 ابراہام لنکن کا مشغلہ:

تقریباً ۲۰۰ ؍سال قبل ابراہام نامی ایک مشہور شخصیت ہو گزری ہے۔ وہ امریکہ کے صدر تھے۔ بچپن میں اور بڑے ہونے کے بعد بھی لنکن نے بہت سارے مشغلے پال رکھے تھے۔

انھیں جانور بہت پسند تھے۔ بچپن میں وہ ایک دفعہ دوستوں کے ساتھ باغ کی سیر کو گئے۔کچھ دیر پہلے ہی طوفان آکر چلا گیا تھا۔ باغ میں انھیں دو پرندوں کے بچے نظر آئے۔ لنکن نے سارے باغ کی چھان مار کر ان پرندوں کا گھونسلا تلاش کیا۔ اس کام پر ان کے دوستوں نے ان کا مذاق اُڑایا لیکن لنکن نے صرف یہ کہا، ’’ ان دوبچوں کو اگر ان کی والدہ کے پاس نہیں چھوڑ آتا تو مجھے رات بھر نیند نہیں آتی۔‘‘

    جب ان کے دوست صرف مذاق کے طور پر جانوروں کو ستاتے تب لنکن انھیں فوری روک دیتے۔بڑے ہونے کے بعد انھیں ایک گمشدہ کتّا ملا ۔ ان کے بچوں کو وہ کتّا بہت پسند آیا۔ اس کے مالک کے آنے تک لنکن کے بچوں نے اس کی دیکھ بھال کی۔ اس کے بعد لنکن کو دوسرا کتّا ملا انھوں نے اس کا نام ’’ فیڈرو ‘‘ رکھا۔

    لنکن کو بلّیاں بھی بہت پسند تھیں۔ ایک دفعہ جب گھر کے تمام لوگ رات کا کھانا کھارہے تھے تب بلی کو کھلانے لگے۔ ان کی بیوی ان پر بہت غصّہ ہوئیں لیکن انھوں نے بلی کو کھلانا نہیں چھوڑا۔

اپنے بچوں کے لیے انھوں نے دو بکرے خرید کر لائے۔ ان بکروں کو گھر میں کہیں بھی گھومنے پھرنے کی اجازت تھی۔ لنکن کے پاس گھوڑے بھی تھے۔ ایک دفعہ اصطبل میں آگ لگ گئی، تب گھوڑوں کو بچانے کے لیے وہ تقریباً    آگ ہی میں کود پڑے۔ نوجوانی میں لنکن کوکشتی اور میدانی کھیل بہت پسند تھے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ کھیلوں سے دلچسپی کی وجہ سے لنکن کی شخصیت رعب دار بن گئی۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے مخالفین سے کبھی نہیں ڈرتے تھے۔ صدر ببنے کے بعد انھوں نے امریکہ سے غلامی کے رواج کو ختم کیا۔

    لنکن کو اچھا گانا نہیں آتا تھا لیکن انھیں موسیقی سے دلچسپی تھی۔ موسیقی سے انھیں بڑا سکون ملتا تھا۔ ایک دفعہ ان کے ملاقاتیوں نے ان کی پسند کا ایک گیت گایا۔ جب دس سال بعد ان لوگوں سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی گیت گانے کی فرمائش کی۔ لنکن وہ گیت کبھی نہیں بھوٗلے۔

    لطیفہ سنانا لنکن کا ایک اور مشغلہ تھا۔ اس کی وجہ سے انھیں شہرت تو ملی اس کے علاوہ انھوں نے اپنی جوانی کے اکیلے پن کو دور کیا۔ وہ اپنے لمبے قد اور بے ہنگم ڈیل ڈول سے پہلے پہل بہت شرم محسوس کرتے تھے۔



    لنکن کے بہت سارے مشغلوں میں سے ایک سب سے پسندیدہ مشغلہ مطالعہ کا تھا۔ وہ لمبے عرصے تک اسکول میں کسی سے کتاب مستعار لے کر پڑھا کرتے تھے۔ ان کو سب سے زیادہ علم کتابوں کی پڑھائی سے حاصل ہوا ۔ صدر بننے کے بعد لنکن کو اپنے مطالعے سے بڑی مدد حاصل ہوئی۔ ان کے بہت سارے تصورات کسی نہ کسی کتاب سے اخذ کیے ہوئے تھے۔ جب جب انھیں کسی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا تب تب انھوں نے اس کا حل کتابوں میں تلاش کیا۔ تناؤ کو دور کرنے لیے وہ کتابوں کی مدد لیا کرتے۔

آپ بھی اپنا مشغلہ بتائیے کمنٹس میں۔۔۔☺ جس کو مکمل کرنے میں آپ کی دلچسپی ہے۔۔۔۔

شکریہ۔۔۔

https://teachingadds.blogspot.com


Class 11 Practice Paper

 You can download now 

FREE FREE FREE

❤❤❤

Urdu → PDF Download

Science 1 → PDF Download

Science 2 → PDF Download

SP → PDF Download

Sociology → PDF Download

Psychology → PDF Download

Math → PDF Download

History → PDF Download

English→ PDF Download

Economics → PDF Download

Bookkeeping → PDF Download

Biology → PDF Download



Learning Out Come

تعارف:۔

  بچہ اپنے گھر ، خاندان اور ماحول سے زبان کے تجربات و تصورات لے کر اسکول میں داخل ہوتا ہے ۔ لیکن با قاعدہ طور پر وہ حروف کی شناخت، لفظوں کے معنی اور ان کے استعمال سے اسکول میں متعارف ہوتا ہے ۔ چونکہ اس عمر میں حروف شناسی مشکل کام ہے اس لیے کہ رسم خط کے نشانات اور ان نشانات سے جڑی آوازوں کو جاننا اور سمجھنا آسان نہیں ہوتا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ زبان سیکھنے کی شروعات معنی سے ہو اور اس کے لیے کہانی کا سہارا لیا جاۓ ۔ یعنی زبان سکھانے کے مقصد کو کہانی سے پورا کیا جاۓ ۔ چونکہ کہانی میں لطف اندوزی اور دلچسپی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے کہانی کا وسیلہ زبان سکھانے میں زیادہ کارگر اور مؤثر ثابت ہوسکتا ہے ۔



PDF ←Download

Naushad Ali