Food Safety Guideline

کیا کریں کیا نہ کریں۔ 


تندرستی ہزار نعمت ہے۔

السلام علیکم،

 

محترم والدین،

طلبہ کی صحت، صفائی، نظم و ضبط، حفاظت اور مجموعی نشوونما کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ درج ذیل ہدایات  پر سختی سے عمل کریں:

 

1)      اپنے بچے کو روزانہ اسکول تازہ، گھر کا بنا ہوا، صحت بخش اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ کھانا (ٹفن) دے کر بھیجیں۔

2)      ٹفن میں پیکٹ یا پروسیس شدہ (processed) خوراک، جنک فوڈ، چپس، ویفرز، انسٹنٹ نوڈلز، چاکلیٹ، ٹافیاں، کینڈیز، چیونگم، کیک، پیسٹری، کریم بسکٹ یا کوئی بھی دیگر پیک شدہ اشیاء شامل نہ کریں۔

3)      بچوں کے ساتھ کولڈ ڈرنکس، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات یا پیکٹ والاپھلوں کے جوس نہ بھیجیں۔

4)      اپنے بچوں کو اسکول کے باہر سے چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس، جنک فوڈ یا کوئی بھی پیک شدہ اشیاء خریدنے کے لیے پیسے نہ دیں۔

5)      اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ روزانہ اپنے ساتھ صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی بوتل لے کر جائے۔

6)      اپنے بچے کو صاف، دُھلے ہوئے، استری کیے ہوئے اور مکمل اسکول یونیفارم میں اسکول بھیجیں۔

7)      اپنے بچے کی ذاتی صفائی پر خصوصی توجہ دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بال صاف اور اچھی طرح بنے ہوئے ہوں، ناخن چھوٹے اور صاف ہوں، اور ہاتھ، چہرہ اور دانت صاف ہوں۔

8)      اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ صاف جرابیں اور پالش کیے ہوئے اسکول کے جوتے پہنے۔

9)      اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ روزانہ صبح و شام دانت صاف کرے، اور دانتوں کی اچھی صحت برقرار رکھنے کے لیے

میٹھی اشیاء کا استعمال محدود کرے۔

10)    اگر آپ کے بچے کو بخار، کھانسی، الٹی، اسہال یا کوئی متعدی (infectious) بیماری ہو تو اسے اسکول نہ بھیجیں اور کلاس ٹیچر کو مطلع کرنا یقینی بنائیں۔

11)    روزانہ اسکول ڈائری چیک کریں، اسکول کے نوٹس پڑھیں اور جہاں ضروری ہو وہاں دستخط کریں۔

12)    اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ وقت کا پابند ہو اور روزانہ وقت پر اسکول آئے؛ باقاعدہ حاضری ضروری ہے۔

13)    بچوں کو اسکول کی املاک کا خیال رکھنے، کلاس روم اور اسکول کے احاطے کو صاف رکھنے اور کسی بھی چیز کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی تعلیم دیں۔

14)    بچوں میں نظم و ضبط، اچھے آداب، احترام، دیانتداری اور ذمہ داری کی عادات پیدا کریں، اور انہیں اسکول کے تمام اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت کریں۔

 15)    والدین سے گزارش ہے کہ وہ کلاس ٹیچر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اپنے بچے کی تعلیم، صحت، نظم و ضبط اور مجموعی

نشوونما کے سلسلے میں اسکول کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

نوٹ :    ہمارے طلبہ کے لیے اسکول کا ماحول صحت مند، محفوظ، صاف ستھرا اور نظم و ضبط کا حامل بنانے میں آپ کا مکمل تعاون انتہائی اہم ہے۔

ہمارے تعلیمی بلاک اور تعلیمی یوٹیوب چینل کو فالو کریں ۔ (اریب ۔ ٹی ۔ ایل ۔ ایم )

https://teachingadds.blogspot.com

https://www.youtube.com/@ansariareeb6941

Food Safety Guideline 

 Download PDF

SEMI ENGLISH 9th 10th 1UT 2026










9TH

 9th SCI -I

9th SCI-II

9th Maths-I

9th Maths-2

10TH

10th SCIENCE

10th Maths-I

10th Maths-II

(Coming soon)

YUOM-E-AAZADI: CHAND DILCHASP AUR GAIR MAROOF HAQAIQ

 یوم آزادی : چند دلچسپ اور غیر معروف حقائق


#naushadali19881

ہندوستان کی آزادی سے متعلق ۹ غیر معروف واقعات جن سے بہت کم طلبہ واقف ہونگے، بحیثیت طالب علم آپ کا ان کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

 

۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ ء تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       تحریک آزادی ہند کے دوران لاکھوں ہندوستانیوں نے اپنی جائیں قربان کی تھیں مگر بعض کے متعلق ہم بھول چکے ہیں جن میں پیر علی خان ،

کھدی رام بوس، بسر منڈا ، کملا داس اور کملا دیوی چٹوپادھیائے کے نام قابل ذکر ہیں۔

 

۲۴ ۔جنوری۱۹۵۰ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو ’’ وندے ماترم ‘‘ کو قومی گیت کا  درجہ دیا  گیا۔ بنگالی ناول نگار’’ بنکم چندر چٹرجی ‘‘ کا ناول ” آنند مٹھ ۱۸۸۲ء میں  شائع ہوا تھا جس میں انہوں

نے وندے ماترم گیت لکھا تھا۔

 

۱۴ ۔اگست۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو پنڈت جواہر لعل نہرو دیگر لیڈران کیساتھ رات کے گیارہ (۱۱)بجے پارلیمنٹ میں موجود تھے۔بارہ( ۱۲ )بجتے ہی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ،

’’ آدھی رات کو، جب دنیا سوئے گی ، ہندوستان زندگی اور آزادی کیلئے بیدار ہوگا۔“



 

۲۳ ۔جنوری ۲۰۰۴ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کوسپریم کویت نے تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ ابتداء میں شہریوں کو پرچم لہرانے کی آزادی نہیں تھی۔ عدالت نے کہا کہ آئین ہند کی دفعہ ۱۹ (۱) (اے) ہر ہندوستانی کو عزت و احترام کے ساتھ پر چم لہرانے کا حق دیتی ہے۔

 

۱۵ ۔اگست ۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو آزادی کے موقع پر بابائے قوم  مہاتما گاندھی جشن نہیں منا رہے تھے بلکہ ہندو مسلم فسادات کو ختم کرنے کی غرض سے کولکاتا ،مغربی بنگال میں بھوک ہڑتال پر تھے۔

 

۲۰۰ سال تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      .... برطانویوں نے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ اس دوران برطانوی حکومت نے اپنا خزانہ بھرا تھا۔ آزادی کے وقت ہمارے ملک کا شمار انتہائی غریب ممالک میں ہوتا تھا۔

 

 

۲۴۔جنوری ۱۹۵۰ ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو یعنی آزادی کےتین  سال بعد ’’جن گن من ‘‘ قومی ترانے کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ آزادی کے وقت ہمارا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ اہم بات

یہ ہے کہ قومی ترانہ بنگال کے مشہور شاعر’’ رابندرناتھ ٹیگور ‘‘نے ۱۹۱۱ء میں لکھا تھا۔

۷۔اگست ۱۹۰۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کوہندوستان کا پہلا ’’ پارسی باغان اسکوئر‘‘(کولکاتا مغربی بنگال )پر لہرایا گیا تھا۔ تاہم، وہ پرچم آج کے پرچم سے مختلف تھا۔ اس میں میں بھی تین رنگ تھے، زعفرانی، زرد اور سبز ۔زرد پٹی پر ہندی میں ’’ وندے ماترم‘‘ درج تھا۔

 

۴ ۱۔ستمبر۱۹۴۹ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو ہندی کو پہلی ’’سرکاری زبان‘‘ کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ملک کی کوئی مخصوص سرکاری زبان نہیں ہے۔

 

کلک کریں اورفالوکریں ۔ اریب : ٹی ۔ ایل ۔ ایم

AreeB TLM

کلک کریں اورسبسکرائب کریں ۔اریب : ٹی۔ ایل۔ ایم

YOU TUBE

 DOWNLOAD PDF

Source: National Geographic, Britannica, The Indian Express

 YUOM-E-AAZADI: CHAND DILCHASP AUR GAIR MAROOF HAQAIQ