YUOM-E-AAZADI: CHAND DILCHASP AUR GAIR MAROOF HAQAIQ

 یوم آزادی : چند دلچسپ اور غیر معروف حقائق


#naushadali19881

ہندوستان کی آزادی سے متعلق ۹ غیر معروف واقعات جن سے بہت کم طلبہ واقف ہونگے، بحیثیت طالب علم آپ کا ان کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

 

۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ ء تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       تحریک آزادی ہند کے دوران لاکھوں ہندوستانیوں نے اپنی جائیں قربان کی تھیں مگر بعض کے متعلق ہم بھول چکے ہیں جن میں پیر علی خان ،

کھدی رام بوس، بسر منڈا ، کملا داس اور کملا دیوی چٹوپادھیائے کے نام قابل ذکر ہیں۔

 

۲۴ ۔جنوری۱۹۵۰ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو ’’ وندے ماترم ‘‘ کو قومی گیت کا  درجہ دیا  گیا۔ بنگالی ناول نگار’’ بنکم چندر چٹرجی ‘‘ کا ناول ” آنند مٹھ ۱۸۸۲ء میں  شائع ہوا تھا جس میں انہوں

نے وندے ماترم گیت لکھا تھا۔

 

۱۴ ۔اگست۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو پنڈت جواہر لعل نہرو دیگر لیڈران کیساتھ رات کے گیارہ (۱۱)بجے پارلیمنٹ میں موجود تھے۔بارہ( ۱۲ )بجتے ہی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ،

’’ آدھی رات کو، جب دنیا سوئے گی ، ہندوستان زندگی اور آزادی کیلئے بیدار ہوگا۔“



 

۲۳ ۔جنوری ۲۰۰۴ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کوسپریم کویت نے تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ ابتداء میں شہریوں کو پرچم لہرانے کی آزادی نہیں تھی۔ عدالت نے کہا کہ آئین ہند کی دفعہ ۱۹ (۱) (اے) ہر ہندوستانی کو عزت و احترام کے ساتھ پر چم لہرانے کا حق دیتی ہے۔

 

۱۵ ۔اگست ۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو آزادی کے موقع پر بابائے قوم  مہاتما گاندھی جشن نہیں منا رہے تھے بلکہ ہندو مسلم فسادات کو ختم کرنے کی غرض سے کولکاتا ،مغربی بنگال میں بھوک ہڑتال پر تھے۔

 

۲۰۰ سال تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      .... برطانویوں نے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ اس دوران برطانوی حکومت نے اپنا خزانہ بھرا تھا۔ آزادی کے وقت ہمارے ملک کا شمار انتہائی غریب ممالک میں ہوتا تھا۔

 

 

۲۴۔جنوری ۱۹۵۰ ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو یعنی آزادی کےتین  سال بعد ’’جن گن من ‘‘ قومی ترانے کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ آزادی کے وقت ہمارا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ اہم بات

یہ ہے کہ قومی ترانہ بنگال کے مشہور شاعر’’ رابندرناتھ ٹیگور ‘‘نے ۱۹۱۱ء میں لکھا تھا۔

۷۔اگست ۱۹۰۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کوہندوستان کا پہلا ’’ پارسی باغان اسکوئر‘‘(کولکاتا مغربی بنگال )پر لہرایا گیا تھا۔ تاہم، وہ پرچم آج کے پرچم سے مختلف تھا۔ اس میں میں بھی تین رنگ تھے، زعفرانی، زرد اور سبز ۔زرد پٹی پر ہندی میں ’’ وندے ماترم‘‘ درج تھا۔

 

۴ ۱۔ستمبر۱۹۴۹ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کو ہندی کو پہلی ’’سرکاری زبان‘‘ کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ملک کی کوئی مخصوص سرکاری زبان نہیں ہے۔

 

کلک کریں اورفالوکریں ۔ اریب : ٹی ۔ ایل ۔ ایم

AreeB TLM

کلک کریں اورسبسکرائب کریں ۔اریب : ٹی۔ ایل۔ ایم

YOU TUBE

 DOWNLOAD PDF

Source: National Geographic, Britannica, The Indian Express

 YUOM-E-AAZADI: CHAND DILCHASP AUR GAIR MAROOF HAQAIQ


 

BAS EK AUR "Reels" (Short Videos)

 میرا نام ریل (Reel) ہے۔

کچھ لوگ مجھے شارٹ ویڈیو کہتے ہیں، کچھ اسٹیٹس، کچھ کلپ، کچھ کانٹینٹ اور کچھ تو محبت سے مجھے’’ بس ایک اور‘‘ بھی کہتے ہیں۔ میں ایک چھوٹی سی چیز ہوں، بہت چھوٹی لیکن میرا اثر اتنا گہرا اور طاقتور ہے کہ میں نے بڑے بڑے لوگوں کی نیند، سکون، پڑھائی، وقت، ڈیٹا، بیٹری اور کئی معاملات میں تو خودداری بھی چھین لی ہے۔ میں جدید دور کی وہ جادوئی بیماری ہوں جو آنکھوں سے شروع ہو کر دماغ تک پہنچتی ہے، پھر سے کر انگلیوں کو حرکت دیتی ہے، اور آخر میں وقت غائب کر دیتی ہے۔ میرے ظہور سے دنیا میں ایک نیا کھیل شروع ہوا، ’’اسکرولنگ‘‘ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کھیل میں ہر عمر کے لوگ گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

میری پیدائش اسمارٹ فون کی دنیا میں ہوئی۔ شروع میں لوگ مجھے معصوم سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے چلو دو منٹ کیلئے کچھ مزے کے ویڈیوز دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن میں دل ہی دل میں ہنستی تھی،  کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ دو منٹ دراصل دو گھنٹے میں بدلنے والے ہیں۔ میں انسان کے دل و دماغ پر ایک خاص طریقے سے قبضہ کرتی ہوں۔

میں کبھی مزاحیہ کلپ بن کر آتی ہوں، کبھی رومانوی ڈائیلاگ کبھی ٹرینڈ نگ گانا، کبھی موٹیویشنل اسپیچ ، کبھی کھانے کی ریسپی اور کبھی کرکٹ ہائی لائٹس، یعنی میں ہر انسان کے مزاج کے مطابق بھیس بدلنے میں ماہر ہوں۔ میری سب سے بڑی چالا کی یہ ہے کہ میں انسان کو ہر بار یہی یقین دلاتی ہوں ” یہ والی آخری ہے‘‘۔ لیکن جیسے ہی وہ ایک ویڈیو ختم کرتا ہے، میں فوراً دوسرا پیش کر دیتی ہوں۔ پھر ایک اور پھر اس کے بعد ایک اور، یوں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ہے۔

سب سے پہلے میں نے طلبہ کو اپنا شکار بنایا۔ کیونکہ یہ معصوم ہوتے ہیں۔ یہ روزانہ قسمیں کھاتے ہیں کہ آج سے پورا فوکس پڑھائی پر! لیکن جیسے ہی کتاب کھلتی ہے، میں فوراً نوٹیفکیشن بن کر ظاہر ہوتی ہوں آپ کیلئے نئی ریل تیار ہے؟ اور پھر ان کا دل پگھل جاتا ہے۔ طلبہ کہتے ہیں بس پانچ منٹ دیکھ کر پڑھنا شروع کرتا ہوں ۔ اب نہیں معلوم کہ دنیا کے کون سے کیلنڈر میں پانچ منٹ، تین گھنٹے کے برابر ہوتے ہیں۔

میری حکومت صرف طلبہ پر نہیں ہے۔ میں نے گھر یلو خواتین کو بھی اپنی دنیا میں خوب مصروف کر رکھا ہے۔ امی جان کہتی ہیں میں تو صرف ایک ریسپی دیکھ رہی تھی ۔ لیکن پھر ایک ریسپی سے سفر شروع ہو کر بریانی، کڑاہی ، میک اپ ٹپس ، کپڑوں کی ڈیزائننگ ، موٹیویشنل بیان ، مزاحیہ کلپس اور بچوں کی شرارتیں تک جا پہنچتا ہے۔ اور آخر میں وہ کہتی ہیں ارے! اتنی دیر ہوگئی ؟“

بچوں کا حال سب سے دلچسپ ہے۔ آج کل کے بچے میری بدولت الف، ب، پ سے پہلے سبسکرائب شیئر اور لائیک سیکھ رہے ہیں۔ میں نے انسانوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مکمل طور پر بدل دیئے ہیں۔ پہلے لوگ صبح اٹھتے تھے، منہ دھوتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، چائے پیتے تھے اور دن کا آغاز کرتے تھے۔ اب ترتیب کچھ یوں ہو گئی ہے آنکھ کھلی ، موبائل پکڑا نوٹیفکیشن دیکھے، ایک ریل، دوسری ریل ، تیسری ریل پھر اچانک یاد آیا کہ ابھی تو بستر سے اٹھنا بھی باقی ہے۔

میں نے دوستی کا انداز بھی بدل دیا۔ پہلے دوست مل کر قہقہے لگاتے تھے، اب دوست ایک ہی جگہ بیٹھے ہوتے ہیں لیکن سب اپنے اپنے موبائل میں مصروف ”میری رنگین دنیا میں کھوئے رہتے ہیں۔“ میں نے رشتوں میں بھی ایک نیا رنگ بھر دیا ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے سے کم اور ریلیز کے ذریعے زیادہ اظہار خیال کرتے ہیں۔

لیکن مجھے ماننا پڑے گا کہ میں صرف نقصان ہی نہیں پہنچاتی۔ بعض دفعہ فائدہ بھی دیتی ہوں۔ میری دنیا میں تعلیمی تخلیقی او ی تخلیقی اور سائنسی ویڈیوز بھی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر افراد مجھے ساتھی نہیں ، نشہ

بنا لیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں اتنی خطرناک نہیں،

جتنا انسان کا میرا بے قابو استعمال ہے۔

مضمون نگار، جے ایم سی ٹی پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں کمپیوٹر انجینئر نگ کی طالبہ ہیں۔

 شیخ فرحت مشتاق

#Taleemi Inquilab

Areeb TLM


9th FIRST UNIT TEST 2026

 

9th I UNIT TEST 2026

FOR New Paper Typing  

Only 

WHATS APP - 8149718482

Per page A4 - 50 Rs. Only

Follow kar lo update k liye👇

Subscribe - AreeB TLM 👈Click 

Subject

Password – AreeBTLM

Urdu

Download

Hindi

Download

Marathi

Download

English

Download

Maths – 1

Download

Maths -2

Download

Sci-1

Download

Sci – 1&2

Download

History

Download

Geography

Download

#9th FIRST UNIT TEST 2026


10TH 1UT 2026 PDF

 

FOR New Paper Typing  

Only 

WHATS APP - 8149718482

Per page A4 - 50 Rs. Only

Subscribe - AreeB TLM 👈Click 


Subject


Urdu

Download

English

Download

Hindi

Download

Marathi

Download

Maths-1

Download

Maths-2

Download

Science

Download

Social Science

Download

Subscribe

AreeBTLM



AreeBTLM
9th FIRST UNIT TEST 

CLICK HERE

Nuqtey Ki Kami Beshi

 اردو زبان میں ایک ہی حرف پرنقطہ کی تبدیلی یا کمی بیشی سے مکمل طورپر نیا لفظ بن جاتا ہے۔ 

جس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ یہ اردو قواعد کا اہم حصہ ہے۔ جیسے علم ہجا یا املا میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

نقطہ کی تبدیلی سے بننے والے الفاظ کی چند مثالیں درج ذیل میں دی گئی ہیں۔ اس طرح سرگرمی کے لیے ورک شیٹ بھی  منسلک ہے۔ 





























YouTube Vedio 

Nukta YA Nuqta

 انتخاب: نوشادعلی ریاض احمد

AreeB TLM

عربی میں ایک لفظ ہے نُکتہ۔ یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کا مطلب ہے: باریک بات، رمز کی بات، گہری بات، عقل کی بات۔ لطیفے یا چٹکلے کو بھی اردو میں نُکتہ کہتے ہیں۔ اسی سے نکتہ رَس کی ترکیب ہے یعنی گہری یا باریک بات تک پہنچنے والا، ذہین۔ باریک بات کو سمجھنے والے کو نکتہ سنج یا نکتہ شناس کہتے ہیں۔ نکتہ سنج کی ترکیب کو سخن شناس یا خوش گفتار کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نکتہ داں یعنی باریک بات یا عقل کی بات کو سمجھنے والا۔

نکتہ چیں اور نکتہ چینی میں بھی یہی نکتہ ہے اور نکتہ چیں کا مطلب ہے جو عیب ڈھونڈے۔ نکتہ چینی یعنی خامیاں چُننے کا عمل۔ لیکن یہ چینی اردو کی چینی یعنی شکر نہیں ہے بلکہ یہ فارسی کا چیں (چُننے ولا) اور چینی (چُننے کا عمل) ہے۔ نکتہ چینی اسی لیے سب کو بری لگتی ہے کہ اس میں اردو کی چینی نہیں ہوتی۔ غالب نے کہا:

نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

عربی میں ایک اور لفظ ہے نُقطہ۔ یہ اردو میں بھی مستعمل ہے اور اس کا مطلب ہے وہ باریک نشان جو کاغذ پر قلم رکھنے سے بنتا ہے، جسے ہندی میں بِندی اور انگریزی میں ڈاٹ (dot) کہا جاتا ہے۔ دائرے کے مرکز کو بھی نقطہ کہتے ہیں۔ جو دائرہ پرکار بناتا ہے اس کے وسط کے نشان کو نقطۂ پرکار کہتے ہیں،  اقبال کا مصرع ہے:

نقطۂ پرکارِ حق مردِ خدا کا یقیں

حروف پر جو باریک نشانات لگائے جاتے ہیں ان کا نام بھی نقطہ ہے، مثلاً حرف شین (ش) کے اوپر تین نقطے ہیں لیکن سین (س) پر کوئی نقطہ نہیں۔ جس حرف یا لفظ میں نقطہ ہو اسے منقوط یا منقوطہ کہتے ہیں۔ بغیر نقطے والے حرف یا لفظ کو غیر منقوط یا غیر منقوطہ کہتے ہیں۔ بعضوں نے اپنا زورِ کلام دکھانے کے لیے غیر منقوطہ شاعری بھی کی یعنی ایسی شاعری جس میں نقطے والا کوئی حرف نہیں آتا۔ انشاء اللہ خاں انشا نے صنعتِ غیر منقوطہ میں خاصا کلام کہا ہے، مثلاً ایک شعر دیکھیے:

سلسلہ گر کلام کا وا ہو

سامع دردِ دل کو سودا ہو

اس شعر کے کسی لفظ میں کوئی نقطہ نہیں ہے۔ یہ غیر منقوط ہے۔ جس پر نشانہ لگایا جائے اسے بھی نقطہ کہا جاتا ہے اور اسی سے نقطۂ نظر یا نقطۂ نگاہ کی ترکیب بنی جس کا مطلب ہے نظر کا مرکز یا نشانہ اور مراد ہے دیکھنے کا زاویہ اور سوچنے کا انداز، اندازِ نظر، اندازِ فکر، خیال، رائے۔ لیکن بعض اوقات نکتہ اور نقطہ کو گڈمڈ کر دیا جاتا ہے اور بعض لوگ نقطۂ نظر اور نقطۂ نگاہ کو نکتۂ نظر یا نکتۂ نگاہ لکھتے ہیں جو غلط ہے۔ صحیح ترکیب ہے نقطۂ نظر یا نقطۂ نگاہ۔ نقطۂ عروج اور نقطۂ جوش وغیرہ میں بھی یہی نقطہ ہے اور ایسے مواقع پر نکتہ لکھنا درست نہیں۔

عربی میں نُکتہ کی جمع نِکات (نون کے نیچے زیر) ہے اور اسے نُکات (نون پر پیش) پڑھنا بالکل غلط ہے۔ میر تقی میر کی کتاب کا نام نِکات الشعرا ہے، شیخ مجیب الرحمٰن کے چھے (۶) نِکات تھے، فلاں حکومت کا پنج نِکاتی منصوبہ تھا، ان سب جملوں میں نِکات یعنی نون کے نیچے زیر پڑھنا چاہیے، یہاں نون پر زبر یا پیش پڑھنا صحیح نہیں۔

اصل میں عربی میں الفاظ کی جمع صرفی وزن پر بنائی جاتی ہے اور عربی الفاظ کی جمع کے اوزان میں سے ایک وزن ’’فِعال‘‘ (فے کے نیچے زیر) ہے۔ لہٰذا اس وزن پر جتنی بھی جمعیں بنیں گی سب کے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو گا، مثلاً: جَبَل (یعنی پہاڑ) کی جمع جِبال، رَجُل (یعنی مرد) کی جمع رِجال، بَلَد (یعنی شہر) کی جمع بِلاد، خصلت کی جمع خِصال، روضہ (یعنی باغ) کی جمع رِیاض، کریم کی جمع کِرام، جیسے اساتذۂ کِرام یا صحابۂ کِرام۔ اسی طرح نُکتہ کی جمع نِکات۔

نُقطہ کی ایک جمع عربی میں نِقاط ہے (یہ بھی ’’فِعال‘‘ کے وزن پر ہے) اور دوسری نُقَط، یعنی نون پر پیش اور قاف پر زبر کے ساتھ۔ گویا نِقاط اور نُقَط کا لفظی مطلب ہو گا بہت سے نقطے۔ بے نُقَط کے معنی ہیں بغیر نقطوں کے۔ اردو میں محاورہ ہے بے نُقَط سنانا، یعنی فحش گالیاں دینا، مغلظّات بکنا۔ اس بے نقط کی وجہ تسمیہ غالباً یہ ہے کہ بعض لوگ جب گالی لکھتے تھے تو اس پر احتیاطاً نقطے نہیں لگاتے تھے۔

حاصلِ کلام یہ کہ نقطہ کی جمع نِقاط اور نُقَط ہے اور نکتہ کی جمع نِکات۔ نیز یہ کہ صحیح ترکیب نقطۂ نظر ہے۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ ۱۳ مئی ۲۰۲۰ء)

#Urdu #Nuqta aur Nukta

WORKSHEET DOWNLOAD