یوم آزادی : چند دلچسپ اور غیر معروف حقائق
ہندوستان کی آزادی سے متعلق ۹ غیر معروف واقعات جن سے بہت کم طلبہ واقف ہونگے، بحیثیت طالب علم آپ کا ان کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ ء تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ تحریک آزادی ہند کے دوران لاکھوں ہندوستانیوں نے
اپنی جائیں قربان کی تھیں مگر بعض کے متعلق ہم بھول چکے ہیں جن میں پیر علی خان ،
کھدی رام بوس، بسر منڈا ، کملا داس اور کملا دیوی چٹوپادھیائے
کے نام قابل ذکر ہیں۔
۲۴ ۔جنوری۱۹۵۰ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کو ’’ وندے ماترم ‘‘ کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا۔ بنگالی ناول نگار’’ بنکم چندر چٹرجی ‘‘ کا
ناول ” آنند مٹھ ۱۸۸۲ء میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں
نے وندے ماترم گیت لکھا تھا۔
۱۴ ۔اگست۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کو پنڈت جواہر لعل نہرو دیگر لیڈران کیساتھ رات کے گیارہ
(۱۱)بجے پارلیمنٹ میں موجود تھے۔بارہ( ۱۲ )بجتے ہی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ،
’’ آدھی رات کو، جب دنیا سوئے گی ، ہندوستان زندگی اور آزادی
کیلئے بیدار ہوگا۔“
۲۳ ۔جنوری ۲۰۰۴ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کوسپریم کویت
نے تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ ابتداء میں شہریوں کو پرچم لہرانے کی آزادی نہیں تھی۔
عدالت نے کہا کہ آئین ہند کی دفعہ ۱۹ (۱) (اے) ہر ہندوستانی کو عزت و احترام کے ساتھ پر چم لہرانے کا
حق دیتی ہے۔
۱۵ ۔اگست ۱۹۴۷ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کو آزادی کے موقع پر بابائے قوم مہاتما گاندھی جشن نہیں منا رہے تھے بلکہ ہندو
مسلم فسادات کو ختم کرنے کی غرض سے کولکاتا ،مغربی بنگال میں بھوک ہڑتال پر تھے۔
۲۰۰ سال تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ .... برطانویوں
نے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ اس دوران برطانوی حکومت نے اپنا خزانہ بھرا تھا۔
آزادی کے وقت ہمارے ملک کا شمار انتہائی غریب ممالک میں ہوتا تھا۔
۲۴۔جنوری ۱۹۵۰ ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کو یعنی آزادی
کےتین سال بعد ’’جن گن من ‘‘ قومی ترانے
کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ آزادی کے وقت ہمارا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ اہم بات
یہ ہے کہ قومی ترانہ بنگال کے مشہور شاعر’’ رابندرناتھ ٹیگور
‘‘نے ۱۹۱۱ء میں لکھا تھا۔
۷۔اگست ۱۹۰۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کوہندوستان کا
پہلا ’’ پارسی باغان اسکوئر‘‘(کولکاتا مغربی بنگال )پر لہرایا گیا تھا۔ تاہم، وہ
پرچم آج کے پرچم سے مختلف تھا۔ اس میں میں بھی تین رنگ تھے، زعفرانی، زرد اور سبز ۔زرد
پٹی پر ہندی میں ’’ وندے ماترم‘‘ درج تھا۔
۴ ۱۔ستمبر۱۹۴۹ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✔ کو ہندی کو پہلی
’’سرکاری زبان‘‘ کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ملک کی کوئی مخصوص سرکاری
زبان نہیں ہے۔
کلک کریں اورفالوکریں ۔ اریب : ٹی ۔ ایل ۔ ایم
کلک کریں اورسبسکرائب کریں ۔اریب : ٹی۔ ایل۔ ایم
Source: National Geographic, Britannica, The Indian
Express





