Nukta YA Nuqta

 انتخاب: نوشادعلی ریاض احمد

AreeB TLM

عربی میں ایک لفظ ہے نُکتہ۔ یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کا مطلب ہے: باریک بات، رمز کی بات، گہری بات، عقل کی بات۔ لطیفے یا چٹکلے کو بھی اردو میں نُکتہ کہتے ہیں۔ اسی سے نکتہ رَس کی ترکیب ہے یعنی گہری یا باریک بات تک پہنچنے والا، ذہین۔ باریک بات کو سمجھنے والے کو نکتہ سنج یا نکتہ شناس کہتے ہیں۔ نکتہ سنج کی ترکیب کو سخن شناس یا خوش گفتار کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نکتہ داں یعنی باریک بات یا عقل کی بات کو سمجھنے والا۔

نکتہ چیں اور نکتہ چینی میں بھی یہی نکتہ ہے اور نکتہ چیں کا مطلب ہے جو عیب ڈھونڈے۔ نکتہ چینی یعنی خامیاں چُننے کا عمل۔ لیکن یہ چینی اردو کی چینی یعنی شکر نہیں ہے بلکہ یہ فارسی کا چیں (چُننے ولا) اور چینی (چُننے کا عمل) ہے۔ نکتہ چینی اسی لیے سب کو بری لگتی ہے کہ اس میں اردو کی چینی نہیں ہوتی۔ غالب نے کہا:

نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

عربی میں ایک اور لفظ ہے نُقطہ۔ یہ اردو میں بھی مستعمل ہے اور اس کا مطلب ہے وہ باریک نشان جو کاغذ پر قلم رکھنے سے بنتا ہے، جسے ہندی میں بِندی اور انگریزی میں ڈاٹ (dot) کہا جاتا ہے۔ دائرے کے مرکز کو بھی نقطہ کہتے ہیں۔ جو دائرہ پرکار بناتا ہے اس کے وسط کے نشان کو نقطۂ پرکار کہتے ہیں،  اقبال کا مصرع ہے:

نقطۂ پرکارِ حق مردِ خدا کا یقیں

حروف پر جو باریک نشانات لگائے جاتے ہیں ان کا نام بھی نقطہ ہے، مثلاً حرف شین (ش) کے اوپر تین نقطے ہیں لیکن سین (س) پر کوئی نقطہ نہیں۔ جس حرف یا لفظ میں نقطہ ہو اسے منقوط یا منقوطہ کہتے ہیں۔ بغیر نقطے والے حرف یا لفظ کو غیر منقوط یا غیر منقوطہ کہتے ہیں۔ بعضوں نے اپنا زورِ کلام دکھانے کے لیے غیر منقوطہ شاعری بھی کی یعنی ایسی شاعری جس میں نقطے والا کوئی حرف نہیں آتا۔ انشاء اللہ خاں انشا نے صنعتِ غیر منقوطہ میں خاصا کلام کہا ہے، مثلاً ایک شعر دیکھیے:

سلسلہ گر کلام کا وا ہو

سامع دردِ دل کو سودا ہو

اس شعر کے کسی لفظ میں کوئی نقطہ نہیں ہے۔ یہ غیر منقوط ہے۔ جس پر نشانہ لگایا جائے اسے بھی نقطہ کہا جاتا ہے اور اسی سے نقطۂ نظر یا نقطۂ نگاہ کی ترکیب بنی جس کا مطلب ہے نظر کا مرکز یا نشانہ اور مراد ہے دیکھنے کا زاویہ اور سوچنے کا انداز، اندازِ نظر، اندازِ فکر، خیال، رائے۔ لیکن بعض اوقات نکتہ اور نقطہ کو گڈمڈ کر دیا جاتا ہے اور بعض لوگ نقطۂ نظر اور نقطۂ نگاہ کو نکتۂ نظر یا نکتۂ نگاہ لکھتے ہیں جو غلط ہے۔ صحیح ترکیب ہے نقطۂ نظر یا نقطۂ نگاہ۔ نقطۂ عروج اور نقطۂ جوش وغیرہ میں بھی یہی نقطہ ہے اور ایسے مواقع پر نکتہ لکھنا درست نہیں۔

عربی میں نُکتہ کی جمع نِکات (نون کے نیچے زیر) ہے اور اسے نُکات (نون پر پیش) پڑھنا بالکل غلط ہے۔ میر تقی میر کی کتاب کا نام نِکات الشعرا ہے، شیخ مجیب الرحمٰن کے چھے (۶) نِکات تھے، فلاں حکومت کا پنج نِکاتی منصوبہ تھا، ان سب جملوں میں نِکات یعنی نون کے نیچے زیر پڑھنا چاہیے، یہاں نون پر زبر یا پیش پڑھنا صحیح نہیں۔

اصل میں عربی میں الفاظ کی جمع صرفی وزن پر بنائی جاتی ہے اور عربی الفاظ کی جمع کے اوزان میں سے ایک وزن ’’فِعال‘‘ (فے کے نیچے زیر) ہے۔ لہٰذا اس وزن پر جتنی بھی جمعیں بنیں گی سب کے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو گا، مثلاً: جَبَل (یعنی پہاڑ) کی جمع جِبال، رَجُل (یعنی مرد) کی جمع رِجال، بَلَد (یعنی شہر) کی جمع بِلاد، خصلت کی جمع خِصال، روضہ (یعنی باغ) کی جمع رِیاض، کریم کی جمع کِرام، جیسے اساتذۂ کِرام یا صحابۂ کِرام۔ اسی طرح نُکتہ کی جمع نِکات۔

نُقطہ کی ایک جمع عربی میں نِقاط ہے (یہ بھی ’’فِعال‘‘ کے وزن پر ہے) اور دوسری نُقَط، یعنی نون پر پیش اور قاف پر زبر کے ساتھ۔ گویا نِقاط اور نُقَط کا لفظی مطلب ہو گا بہت سے نقطے۔ بے نُقَط کے معنی ہیں بغیر نقطوں کے۔ اردو میں محاورہ ہے بے نُقَط سنانا، یعنی فحش گالیاں دینا، مغلظّات بکنا۔ اس بے نقط کی وجہ تسمیہ غالباً یہ ہے کہ بعض لوگ جب گالی لکھتے تھے تو اس پر احتیاطاً نقطے نہیں لگاتے تھے۔

حاصلِ کلام یہ کہ نقطہ کی جمع نِقاط اور نُقَط ہے اور نکتہ کی جمع نِکات۔ نیز یہ کہ صحیح ترکیب نقطۂ نظر ہے۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ ۱۳ مئی ۲۰۲۰ء)

#Urdu #Nuqta aur Nukta

WORKSHEET DOWNLOAD

Nuqtoon Ka khel

نقطوں کا کھیل:۔ ب  پ  ت   

اردو زبان میں ایک ہی حرف پرنقطہ کی تبدیلی یا کمی بیشی سے مکمل طورپر نیا لفظ بن جاتا ہے۔ 

جس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ یہ اردو قواعد کا اہم حصہ ہے۔ جیسے علم ہجا یا املا میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

نقطہ کی تبدیلی سے بننے والے الفاظ کی چند مثالیں درج ذیل میں دی گئی ہیں۔ اس طرح سرگرمی کے لیے ورک شیٹ بھی  منسلک ہے۔ 

مثال : 

جال : ۔ ’’ج‘‘ کے اندر کا نقطہ ہٹانے سے ’’ح‘‘ بن گیا ۔ اور نیا لفظ ’’حال ‘‘ بنا ۔ 

تار:۔ ’’ت‘‘ میں سے ایک نقطہ ہٹانے پر ’’ن‘‘ بن گیا۔ اور نیا لفظ ’’ نار‘‘ بنا۔ 

#Nuqtoon Ka khel #AreeB TLM #naushadali19881




👇Subscribe to my YouTube Channel

AreeB TLM











PDF Coming Soon



Sadey Alfaz & Makhloot Alfaz

 سادے الفاظ اور مخلوط الفاظ:
تعلیمی ویڈوز کے لیے سبسکرائب کریں ۔ 

👆
بالو         ۔۔بھالو
باجی ۔۔ بھاجی
چوری ۔۔ چھوری
باگ ۔۔ بھاگ

باپ ۔۔ بھاپ
بائی ۔۔ بھائی 

پل۔۔ پھل 
بالا۔۔ بھالا

باری ۔۔ بھاری
بول۔۔ بھول

بیل ۔۔بھیل
پول۔۔پھول

پٹ۔۔ پھٹ
پر۔۔ پھر

تالی۔۔ تھالی
تان۔۔ تھان

توڑا۔۔ تھوڑا
جیل۔۔ جھیل

چتری۔۔ چھتری
چال ۔۔ چھال

ٹاٹ۔۔ ٹھاٹ
دو۔۔ دھو

ڈول۔۔ ڈھول
کانا۔۔ کھانا

گہر۔۔گھر
مٹی۔۔ مٹھی

تال۔۔ تھال
بال۔۔بھال

سات۔۔ ساتھ
کڑی۔۔ کھڑی

یہاں کلک کیجیے۔👇


ذخیرہ الفاظ کارڈ کے لیے یہاں کلک کریں۔👇

International Day Of Education

بين الاقوامی یوم تعلیم۔ International Day Of Education

نو عمروں اور نوجوانوں کو مستقبل کے تئیں حساس بنانے کے لیے یہ دن منایا جاتا ہے۔

بين الاقوامی یوم تعلیم ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ 3 دسمبر2018 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24  جنوری کو بین الاقوامی یوم تعلیم منانے کی

 تجویز منظور کی تھی۔

 اس سلسلے میں پہلا یوم تعلیم 24 جنوری 2019ء کو منایا گیا تھا۔

 اسے منانے کا مقصد تعلیم کے ذریعے نوعمروں اور نوجوانوں کو موجودہ حالات سے روشناس کروانا اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس دن تعلیمی اداروں میں مختلف قسم کی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔



چند دلچسپ حقائق

یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں دنیا کی مجموعی آبادی میں سے 90فیصد افراد نے ابتدائی تعلیم جبکہ 66فیصد افراد نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی تھی۔

2022ء میں دنیا بھر میں 235 ملین افراد نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔

2020ء تک دنیا بھر میں 600 ملین سے زائد طلبہ اعلی تعلیم کیلئے یونیورسٹیوں میں داخلہ لے چکے ہوں گے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تعلیمی ادارے، خاص طور پر یونیورسٹیاں ہندوستان میں ہیں۔

یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں 781 ملین غیر تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔

وکی پیڈیا کے مطابق جنوبی ایشیاء، مغربی ایشیاء اور افریقہ میں صحارا ریگستان کے قریب آباد علاقوں میں 75فیصد نوجوان غیر تعلیم یافتہ ہیں۔

سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ افراد ہندوستان میں ہیں۔ ہمارے ملک کی 25 فیصد آبادی غیر تعلیم یافتہ ہے۔

۵۰ سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں خواندگی کی شرح 86فیصد سے زائد ہے۔

مردوں میں خواندگی کی شرح 90 فیصد جبکہ خواتین میں 82فیصد ہے۔

دنیا کی 496ملین خواتین غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ ( یونیسکو ڈیٹا 2022ء)

2023ء میں تعلیم کے زمرے میں سب سے مشہور ملک جنوبی کوریا تھا۔

دنیا میں 93 ملین اساتذہ ہیں جن میں سے 60 فیصد خواتین ہیں۔

اٹلی میں واقع بولونیا یونیورسٹی کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔

یونیسکو نے امریکہ کو معیاری تعلیم کا اعلیٰ مرکز قرار دیا ہے۔ 

@Inquilab#Thanks

#International Day Of Education

Subscribe - AreeB TLM

2nd SEMESTER 9th (E)

 For New Paper Typing  Only WHATS APP - 8149718482

Per page A4 - 50 Rs. Only

Subscribe - AreeB TLM 👈Click Here


9th Papers Download 

9th Subjects

Click & Download

Computer

Download

English

Download

Geography

Download

Hindi

Download

History

Download

Marathi

Download

Maths-I

Download

Maths-II

Download

Science -I

Download

Science - II

Download

2nd Semester 8th (E)

 2nd Semester 8th (E) 

5th TO 7th  👈 Click Here

Subscribe - AreeB TLM 👈Click Here


For New Paper Typing  Only WHATS APP - 8149718482
Per page A4 - 50 Rs. Only


8th

AreeB TLM

Computer

Download

English

Download

Geography

Download

Hindi

Download

History

Download

Marathi

Download

Maths

Download

Science

Download

5th Scholarship Assessment PDF

 

5th Scholarship Assessment

AreeB TLM

Urdu #01

Download

Urdu #02

Download

Urdu #03

Download

Urdu #04

Download

Urdu #05

Download

 


5th Scholarship Assessment

AreeB TLM

Maths #01

Download

Maths #02

Download

Maths #03

Download

Maths #04

Download

Maths #05

Download


5th Scholarship Assessment

AreeB TLM

English#01

Download

English #02

Download

English #03

Download

English #04

Download

English #05

Download

 

5th Scholarship Assessment

AreeB TLM

Mental Ability #01

Download

Mental Ability #02

Download

Mental Ability #03

Download

Mental Ability #04

Download

Mental Ability #05

Download