5th Urdu Online Test

AreeBTLM






 5th Urdu Online Test 

Just Touch↓

TEST NO.1

TEST NO. 2

TEST NO.3

TEST NO. 4

CERTIFICATE DOWNLOAD

Peshgi Tayari

 ہم سب کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچے ہر روز اسکول جائیں اور اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کریں۔ بچوں میں تعلیم سے رغبت پیدا کرنے کے لیے سر پرست معلم اور سماج کی حیثیت سے ہمیں مناسب ماحول تیار کرنا چاہیے۔ اس کتاب کی مدد سے آپ بچوں کی پہلی جماعت کی تیاری کروا سکتے ہیں۔ یہ بہت آسان ہے۔ تو آئیے ابچوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور ان کی اسکول کی پیشگی تیاری مکمل کریں تاکہ ان کی آئندہ کی تعلیم آسان ہو اور ان میں تعلیم سے دلچسپی پیدا ہو۔



یہاں سے ڈانلوڈ کریں۔↓

Download 1

Download 2

Sabqa Malumat aur Naya Nisab

 سابقہ معلومات کو ذہن میں تازہ کرنے اور نئے نصاب کا آغاز کرنے کے لئے لائحہ عمل۔۔۔۔۔۔۔۔!!

 

ہماری گفتگو کا جو موضوع ہےان معاملات کا سابقہ تقریباً سبھی اساتذۂ کرام کو پڑتا ہے۔بعداز امتحان تعطیلات گزار کر جب بچے نئے تعلیمی سال میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ فیصد کے علاوہ سبھی کی معلومات اساتذہ کو تازہ کرنی پڑتی ہے اس کے لئے پیشگی تیاری اور برج کورس مرتب کیا جاتا ہےجو طلبہ وطالبات کے لئے بے حد کارآمد ہے اگر اسے رہنمایانہ خطوط پر درست طریقۂ کار کے ذریعے اساتذہ طلبہ تک پہچائیں ایماندارانہ عمل آوری ہو۔بعد ازاں نئے نصاب کی تدریس کو سابقہ علم سے جوڑنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائی یا لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔منصوبہ بندی کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فن تدریس کا سب سے پہلا اصول پڑھانے سے قبل طلبہ کو پڑھنے کے لئے آمادہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔

بچوں کی جماعت اور عمر کے لحاظ سے جماعتی سطح پر ایسی دلچسپ سرگرمیاں لینا طئے کریں جس سے بچوں میں سیکھنے کا جذبہ شوق و ذوق پیدا ہو۔ذوق وشوق کی بیداری کے بغیر یہ کام انجام دینا بہت ہی مشکل ہے۔سابقہ معلومات اور نئی معلومات میں تسلسل پیدا کرنے کے لئےحوصلہ افزاء سوالات اور دلچسپ سرگرمیاں ضروری ہیں کیونکہ یہ معلومات کی تفہیم کو آسان بنانے میں مددگار ہوتی ہیں نیز اس طریقۂ کار کے ذریعے بچوں کی سابقہ معلومات کی مکمل آگہی حاصل ہوتی ہے۔تدریس کو موثر بنانے کے لئے معلومات پیش کرنے کا آغاز طلبہ کی سابقہ معلومات سے کریں۔اساتذہ کےدلچسپ طریقے سے سابقہ معلومات کوپڑھائے جانے والے مواد سے مربوط کرنے سےنفس مضمون کی تفہیم میں دقت پیش نہیں آتی۔

بعض وجوہات کی بناء طلبہ کسی مضمون کی  ، بنیادی معلومات Basic knowledge)) نہ سیکھیں ہوں تب ان کو اس موضوع کی مزید آگے کی ، اعلیAdvance Knowledge معلومات فراہم کرنا بے فیض اور وقت کا زیا ں ہوتا ہے۔بنیادی معلومات کے بغیر اعلی معلومات پیش کرنا بے معنی ہوتا ہے۔طلبہ میں اکتسابی دلچسپی اور تیزی اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب ان کو کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات کا علم ہوتا ہے یاپھر اعلی معلومات کی پیش کشی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کردئ جاتی ہیں۔اگر طلبہ کی بنیادی معلومات اور ان کی علمی سطح کا ادراک کئے بغیر تدریسی فرائض انجام دیئے جائیں گے تو یہ ناقص تدریس ہی کہلائی گی۔ اعلی معلومات کی پیش کشی کے دوران استاد کو اس بات کا علم ضروری ہے کہ پیش کردہ معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے ہم آہنگ اور ان کے معیار کے مطابق ہیں۔ اگر طلبہ کسی مخصوص موضوع و مضمون کی بنیادی معلومات سے ناواقف ہوں تب استاد اعلی معلومات کی فراہمی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کرے تاکہ طلبہ میں نئے معلومات کو حاصل کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہوسکے۔

معلومات کی تفہیم و وضاحت کے دوران معلوم سے نامعلوم کا تعلق جوڑیں۔۔۔۔۔

معلوم سے نامعلوم کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے اساتذہ طلبہ کو جذباتی اور ذہنی طور پر اکتساب کے لئے ابھارسکتے ہیں۔ معلومات کی پیش کش کے وقت اس بات کا خاص خیال رہے کہ پیش کی جانے والی معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے مربوط ہو۔اگریہ ربط ہوگا تب بچے نئی معلومات آسانی سے سیکھیں گے۔

Nisab


تدریس آسان سے مشکل کی طرف ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اساتذہ طلبہ کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر تعلیمی تدریسی وسائل، ٹولس اور دیگر درسی کتابوں کا بھر پور استعمال کریں تاکہ تدریس کو موثر اور دیرپا بنایا جاسکے۔ سبق کی تدریس ہو یا معلومات کی پیش کش استاد اور طالب علم دونوں کی شراکت ضروری ہے۔اساتذہ درسی کتاب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے علم کی منتقلی کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں۔ اساتذہ کتنا پڑھا چکےہیں یہ بات  اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ بچوں نے کتنا سیکھا یہ بات بہت اہم ہے۔نصاب کی تکمیل کتاب کے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اوراق پلٹنے کا نام نہیں ہے بلکہ درسی کتاب میں پوشیدہ علوم کو طالب علم نے کتنا سیکھا یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔سبق کی تدریس میں اساتذہ صرف درسی کتب پر اکتفاء نہ کریں اور درسی کتب کی صحت اور معیار پراعتبارکےساتھ ساتھ اپنے علم اور تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تدریسی فرائض انجام دیں۔

اہم نکات کی مناسب اور وضعی تکرار اہم معلومات کے تعین میں مددگار ہوتی ہے۔ جہاں بھی ضرورت ہو وضاحتی اور تفہیمی خلاصہ پیش کریں۔تفہیم و وضاحت کے لئے جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو تدریسی معاون اشیاء کا استعمال کریں۔تدریسی وتعلیم وسائل کا استعمال طلبہ میں اکتسابی دلچسپی کو پروان چڑھانے کے ساتھ مشکل تصورات کو عام فہم اور آسان بنانا کر پیش کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔اور تادیرذہن میں رہتا ہے ان مٹ نقوش چھوڑتا ہے

سبق کے آخر میں طلبہ کی جانچ اور اعادہ سے ان کے اکتساب کی سطح کا علم ہوتاہے ۔ اختتام پر جانچ اور اعادہ سے اساتذہ کی تدریس کےموثرہونےکا اندازہ ہوتا ہے۔اسی لئے اساتذہ اپنےاختتام پر جانچ اور اعادہ ضرور لیں۔

سبق کا آغاز جس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح سبق کا اختتام بھی اہم ہوتا ہے۔ بہتر اختتامیہ طلبہ کے ذہنوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقش بنادیتا ہے سبق کے اختتام پر اساتذہ تھوڑا تجسس باقی رکھیں تاکہ طلبہ میں خود اکتسابی ،تحقیق اور تجسس پیدا ہو سکے۔ طلبہ کو تحقیق اور جستجو کی جانب مائل رکھیں اس سے طلبہ میں خوداعتمادی پروان چڑھے گی ،وہ خودآموزی کر سکیں گے۔ کلاس میں اساتذہ بغیر کسی منظّم منصوبہ بندی کےتیزرفتاری سے اسباق اور نصاب کی تکمیل میں مصروف رہتے ہیں۔اسباق و نصاب کی تکمیل کے دوران وہ اکثربھول جاتے ہیں کہ جو معلومات وہ طلبہ کو فراہم کر رہے ہیں کیا طلبہ کے ذہن انھیں محفوظ بھی کررہے ہیں یا نہیں۔سبق کی تدریس اورمعلومات کو پیش کرنے کے فن سے اساتذہ کا آگاہ ہونا بےحدضروری ہے۔استاد خواہ کتنا ہی قابل ہو اگر وہ معلومات اور سبق کی پیش کش کے فن سے واقف نہ ہوتب وہ طلبہ میں تعلیمی معیار کے گراوٹ اور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔درس و تدریس کی کامیابی کا انحصار خواہ وہ کوئی بھی مضمون ہواساتذہ کی معلومات (سبق) کی پیش کش پر ہوتا ہے۔سبق طلبہ کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتا ہے اگر استاد اس کو دلچسپ اور دل پذیر بناکر پیش کرے۔پیش کش جس قدر موثرہوگی اکتساب کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہوگا۔تدریس موثر بنانے اور اکتساب میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تدریس کے فنی اصولوں پر اساتذہ کو کاربند ہونے کی سخت ضرورت ہے۔جب اساتذہ فنی اصولوں کی باریکیوں کو سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں گے تب درس و تدریس ان کے لئے نہایت سہل اور دلچسپ سرگرمی بن جائے گی۔اساتذہ یہ بات اپنے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیں کہ درس و تدریس صرف پڑھانے کا نہیں بلکہ پڑھنے کا بھی نام ہے اور یہ عمل تا حیات جاری وساری رہنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!




(ماخوذ)


#Sabqa Malumat aur Naya Nisab

Mutalliq Alfaz

 متعلق الفاظ:

دائرے میں دیے ہوئے ’’   لفظ ‘‘ سے تعلق رکھنے والے الفاظ  لکھ کر سرگرمی مکمل کیجیے۔ 

جیسے ’’ باغ ‘‘  سے تعلق رکھنے والے الفاظ : مالی ، پھول ، پودے ، بُلبُل ، جھولے ، بھونرے ، پتنگے ، بیلیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔

Mutalliq Alfaz#

AreeBTLM

یہاں سے آپ پی ڈی ایف فائل ڈانلوڈ کریں ۔⇩
                                   Download

Global Warming

 Global Warming  

آپ کو کیا لگتا ہے یہ ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔

گلوبل وارمنگ روکنے کے لیے چاند کی مٹی سے مدد لی جائے گی۔

 

سائنسدانوں کے مطابق اگر چاند کی مٹی یا دھول کو زمین اور سورج کے درمیان حائل کردیا جائے تو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو روکا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن: جیسے جیسے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور آب و ہوا کی تبدیلی بڑے پیمانے پر تباہ کاریوں کا سبب بن رہی ہے، سائنس دانوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے نئے نئے حل سامنے لا رہے ہیں، جن میں کچھ واقعتاً بہت دلچسپ ہیں۔

 حال ہی میں سائنس دانوں نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی مٹی یا دھول کو زمین اور سورج کے درمیان حائل کر دیا جائے تو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا عمل نہ صرف رُک جائے گا بلکہ اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سورج کی حرارت کے زمین تک پہنچنے کا ایک سے دوفی صد کا راستہ روک دیا جائے تو کرہ ارض کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی ہو جائے گی۔

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیات کے سائنسداں اس وقت ایسے اقدامات پر زور دے رہے ہیں جس سے زمین کے درجہ حرارت میں تقریباً ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ درجے کی کمی سے زمین کا درجہ حرارت گر کر اس سطح پر چلا جائے گا جب صنعتی ترقی کا آغاز ہوا تھا۔ اس دور کے موسم ماحول دوست تھے اور موسم سے منسلک وہ قدرتی آفات کم کم ہی آتی تھیں جنہوں نے اب گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے اور آئے روز کہیں خشک سالی، کہیں شدید بارش اور سیلاب اور کہیں سمندری طوفان تباہیاں پھیلا رہے ہیں۔



سائنسداں کہتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کا سبب کاربن گیسیں ہیں جو کارخانوں کی چمنیوں ، گاڑیوں کے سائلنسروں اور گھروں کے آتش دانوں سے نکل رہی ہیں۔ انسان کی لائی ہوئی ترقی اب اس کیلئے بربادی کا باعث بن رہی ہے۔ سائنسداں کاربن کیسوں کا اخراج صفر کی سطح پر لانے پر اصرار کرتے ہیں لیکن ۲۰۰  برسوں میں کو نکلے اور معدنی ایندھن جلا کر حاصل ہونے والی ترقی کوکسی متبادل بند و بست پر لانا آسان نہیں ہے۔ اس کیلئے کثیر سرمایہ، وقت اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصے سے ماہرین کی توجہ کسی ایسے قابل عمل طریقے کی تلاش پر مرکوز ہے جوستا بھی ہو۔ جس کیلئے ان کی نظریں خلا پر جمی ہیں۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ جب آسمان پر بادل چھا جاتے ہیں تو زمین پر قدرے خنکی محسوس ہونے لگتی ہے کیونکہ بادل کی نہیں سورج کی حرارت کے ایک بڑے حصے کو زمین پر جانے سے روک دیتی ہیں اور حرارت کی لہریں واپس خلا میں پلٹ جاتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک بڑا واقعہ ۱۹۹۱ء میں فلپائن کے آتش فشاں ماؤنٹ پیناٹو بو کے پھٹنے سے پیش آیا تھا جس سے نکلنے والے گرد و غبار نے فضا کے ایک حصے کو ڈھانپ لیا تھا جس سے سورج سے زمین پر آنے والی حرارت کی لہروں کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں زمین کے شمالی نصف حصے میں ایک سال تک درجہ حرارت معمول سے تقریبا آدھا ڈگری کم رہا تھا۔ زمین اور سورج کے درمیان چاند کی دھول اور مٹی کے تہہ بچھانے سے قبل کئی سائنسداں اس پہلو پر بھی سوچ بچار کرتے رہے ہیں کہ خلا میں بڑے بڑے آئینے نصب کر دیے جائیں جو زمین کی طرف آنے والی سورج کی حرارت کو واپس پلٹ دیں۔ خلا میں بے شمار سیاروں کا گردو غبار گردش کر رہا ہے۔ ماہرین فلکیات نے کمپیوٹر پر بنائے گئے ماڈلز کے ذریعے مختلف سیاروں کی گرد کا مطالعہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس مقصد کے لیے سب سے اچھا انتخاب چاند کی مٹی ہے جو سب سے زیادہ حرارت روکتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر اس مٹی کو زمین اور سورج کے درمیان ایک ایسے مقام پر بکھیر دیا جائے جہاں زمین اور چاند کی کشش کی قوت برابر ہو تو وہ مٹی وہاں مستقلاً موجود رہے گی اور سورج کی حرارت کی اتنی مقدار روک سکے گی جس کا تعین ماہرین کریں گے۔


Do Chashmi Hey (Vocabulary)

 Do Chashmi Hey (Vocabulary) 

دو چشمی(ھ) والے الفاظ :۔ 

اردو زبان کئی زبانوں کا مجموعہ ہے ۔ اردو کے بنیادی حروف ہجّا عربی سے مستعار ہیں،عربی حروف ہجّا میں اہلِ فارس کے چند اضافوں کے بعد اہلِ ہند نے بھی ان میں اپنی ضرورت کی بنا پر چند حروف کا اضافہ کیا ہے۔ اس طرح اردو کے جو حروف ہجّا وجود میں آئے وہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔ انھیں مرکب حروف یا مخلوط حروف بھی کہا جاتا ہے۔ 

AreeBTLM

























Zakhir - e - Alfaz

 ذخیرۂ الفاظ: اردو حروف تہجی:۔❤❤

ہم اپنی نسل نو کے لیے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مگر ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ان کو وسائل مہیا نہیں کرتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی مصور کو رنگ دیے بغیرہ یہ کہیں کہ ہمیں ایک خوبصورت سی تصویر بنا دو۔ بھلا رنگوں کے بغیر تصویر کس طرح بن  سکتی ہے؟ بالکل اسی طرح الفاظ کے بغیر تحریر یا تقریر کیسے بن سکتی ہے؟۔ الفاظ کا ذخیرہ ہو تو تحریر یا تقریر بنتی ہے اور ان الفاظ کے استعمال میں کمال حاصل ہو تو الفاظ سے تصویر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ہم اپنے طلباء سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں وسائل نہ دیں تو وہ ہماری امیدیں پر پورا نہیں اتر سکیں گے مثلا ہم طلباء میں تحریر وتقریر کی قابلیت اور دسترس چاہتے ہیں تو انہیں وسائل دینا بھی ان کا حق ہے۔۔۔۔

                        












 




























































Subscribe - AreeB TLM

#Zakhir - e - Alfaz #Naushadali19881 #AreeBTLM #Urdu