Urdu Ke Kuch Judwan Alfaz

 انتخاب:

اُردو کے کچھ جُڑواں الفاظ

دیگر زبانوں کی طرح اُردو میں بھی بہت سے ہم شکل، ہم صوت اور جڑواں الفاظ ہیں جو قاری کو مخمصوں میں ڈالے رکھتے ہیں۔ ان کی مشابہ اَشکال قاری کے لیے اِشکال کاموجب ہیں ۔ چند الفاظ کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں

~       سرِ وَرَق ،        سر وَرَق :

سرِ ورق کا مطلب کسی بھی صفحہ کی اوپر والی یا پہلی سطر ہے ۔ اس کے بر عکس ’’سر وَرَق‘‘ کسی کتاب کا پہلا صفحہ یا ٹائیٹل ہوتا ہے ۔

~      سَیر     ،        سِیر      ،        سِیَر :

عموماََ گھومنا پھرنا سَیر ہے ۔ آسودہ حالی بھی اسی معنی میں ہے، مثلاََ سَیر ہوکر کھانا کھانا وغیرہ۔ سِیر وزن کا پیمانہ ہے جبکہ فارسی میں لہسن کو بھی سِیر کہتے ہیں۔ سِیَر سیرت کی جمع ہے جیسے سِیَر صحابہ وغیرہ۔

~       لاش     ،        نعش :

دونوں کا مطلب "مردہ جسم" ہے۔ لاش فارسی اور اردو میں مستعمل ہے، جبکہ نعش عربی کا لفظ ہے۔ سات ستاروں کے جھرمٹ جن میں تین ستارے نعش کی مانند اور چار جنازہ اٹھانے والے نظر آتے ہیں کو بَنات النعش کہتے ہیں۔

بَنات ،بنت کی جمع بمعنی بیٹیاں ہیں جو ایک جنازہ اٹھائے نظر آتی ہیں۔ اسے دب اکبر اور عقد ثریا بھی کہتے ہیں۔ اب یہاں کسی اکبر اور ثریا کے عقد کا مغالطہ پالنا مناسب نہ ہوگا ۔

~       گُل      ،       گِل      ،       گَل :

سب جانتے ہیں کہ گُل کا مطلب پھول ہے اور یہ فارسی کا لفظ ہے، تاہم گُل کا ایک معنی چراغ کا بجھانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ چراغ اور سگریٹ وغیرہ کا جلا ہوا سرا بھی گُل کہلاتا ہے۔ دلدل ،گارا ،کیچڑ اورنرم گیلی مٹی کو گِل کہتے ہیں۔ آب وگِل سے مراد گندھی ہوئی مٹی (قالب انسانی ) ہے۔ بقول علامہ اقبال:

؎          اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ

     نالندہ تیرے عُود کا ہر تار ازل سے

مٹی کی لپائی کرنے والے اوزار کو اسی نسبت سے "گِل مالہ" کہتے تھے جو بگڑ کر "گڑمالہ" ہو چکا ہے۔

اسی طرح گَل  سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنیٰ برباد ہونا، گل سڑ جانا، بوسیدہ ہونا کے ہیں۔ گَل، "گالی" ، "گال" اور "گلے" کے مخفف کے طور پر بھی مستعمل ہے۔

~      حاجی   ،        ہاجی :

مخصوص ایام میں بیت اللہ کی زیارت اور مناسک ادا کرنے والا حاجی ہے۔ یہ ہائے حُطی سے لکھا جاتا ہے۔ ایک ضرب المثل ہے، "من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو"، ہائے ہوَز سے لکھا جانے والے "ہاجی" کا معنی ہَجو لکھنے اور کہنے والا ہے۔ میر تقی میر اپنے کسی حریف کا تیا پائنچہ یوں کرتے ہیں ۔

؎         قبلہ کہتے کہتے ہاجی ہوگیا

   پاسِ ظاہر چھوڑ پاجی ہوگیا

علاوہ ازیں الفاظ کے ہجے کرنے والا بھی ہاجی کہلاتا ہے۔

~      سَحَر     ،        سِحر :

صبح کو سَحَر کہتے ہیں اور سِحر کے معانی جادو کے ہیں۔

~       اِعراب         ،        اَعراب :

الفاظ کے تلفظ کی وضاحت کے لیے استعمال ہونے والی حرکات "زیر، زبر، پیش" کو اِعراب جبکہ عرب کے باشندوں کو اَعراب کہتے ہیں-

~       بندر     ،        بندر    ،        بندر گاہ :

بندر فارسی الاصل لفظ ہے اورعربی میں ایک دخیل لفظ کے طور پر مستعمل ہے۔ اس کا استعمال ترکی زبان میں بھی پایا جاتا ہے، مگر تارید و تہنید کی مسافت میں چارلس ڈارون کی روح پھڑ پھڑائی اور یہ بے چارا اردو میں آتے آتے monkey کی شکل اختیار کر گیا، حالانکہ فارسی میں اس کا مطلب سمندر کے کنارے واقع تجارتی مرکز یا منڈی کا ہے۔ ایسا مرکز جس سے روزگار وابستہ ہو۔ دور جدید میں یہی sea port ہے۔ اب جب بندر ہی سمندری اڈے کے لیے کافی تو اس کو بندرگاہ کیوں کہتے ہیں اور بندر گاہ میں بندر کیونکر آیا۔ فارسی میں "گاہ" کا مطلب جگہ یا مقام ہے۔

سمندری اڈے کے لیے "بندر" کا لفظ کافی ہے، مگر گاہ کا لفظ خواہ مخواہ ہی مستعمل ہوگیا اور اب اس اصطلاح کا جزوِ لا ینفک ہے۔ اکیلا "بندر" کہیں تو "مذکر" ہو گا جبکہ بندر گاہ مونث ہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ عربی میں بندر کے معنی قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور منظم کے ہیں اور عرب کے لوگ بچوں کا نام "بندر" شوق سے رکھتے ہیں۔

ایک مشہور سعودی سفارت کار کا نام "بندر بن سلطان" تھا۔ قدیم عربی میں میخ ٹھونکنے والی ہتھوڑی کو بھی بندر کہا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ عربی میں "بندر نامی جانور" کو ’’ قرد‘‘ کہتے ہیں۔

~       مُلک     ،        مِلک     ،        مَلَک     ،        مَلِک :

ریاست و سلطنت کو مُلک (جمع ممالک) اور ملکیت کو مِلک کہا جاتا ہے ۔ مَلَک فرشتے کو کہتے ہیں جس کی جمع ملائکہ ہے جبکہ مَلِک (جمع ملوک) کا معنی سردار یا چیف ہے۔

~       مُسلِم   ،        مُسلَّم   :

اسلام قبول کرکے اس کے مطابق زندگی گزارنے والا مُسلِم یعنی مسلمان ہے۔

؎         ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جبکہ مُسلَّم   بر وزن مکمل کا مطلب سالم، پورا تسلیم شدہ کا ہے۔ مُسلَّم بمعنی مکمل کے متعلق اک شعر ملاحظہ ہو،

؎         میں جو کھا لیتا ہوں دو مرغ مُسلَّم ہر روز

     وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

~      عنبر    ،        امبر :

عنبر ایک قیمتی خوشبودار مادہ ہے جو سمندروں سے حاصل ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین اسے عنبر نامی اور کچھ اسے وہیل مچھلی کا فضلہ یا قے ثابت کرتے ہیں۔ اصل میں یہ مخصوص مچھلی جب ایک خاص قسم کی سمندری جڑی بوٹی کھائے اور بد ہضمی سے قے یا فضلہ کرے تو یہ مادہ سمندر کی تہہ پر آجاتا ہے، اس سے نہایت قیمتی خوشبو تیار ہوتی ہے اور مقوی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کا ایک کلو لاکھوں روپے کا ہوتا ہے۔

دوسرا ہندی کا لفظ امبر بمعنی آسمان ہیں۔ جیسے مشہور گانے "نیلے نیلے امبر پہ چاند جب آئے" میں مذکور ہے۔

~       عُود      ،        عَود :

عُود ایک خوشبودار درخت ہے اور اس کی خوشبو کو بھی عُود کہتے ہیں۔ ’’عُود ِ ہندی‘‘ غالب کے خطوط پر مبنی کتا ب کا نام بھی ہے۔ عُود کی لکڑی کو خوشبو کی غرض سے جلایا جاتا ہے۔ تبھی تو قتیل شفائی کو بڑی دور کی سوجھی کہ :

  ؎          برنگِ عُود ملے گی اسے میری خوشبو  

        وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے

اس کے برعکس "عَود" کا مطلب واپس آنا، لَوٹنا، پلٹنا اور دوبارہ رواج پانا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بات حافظے میں عَود آئی ہے یا کوئی بیماری عَود کر آگئی ہے۔

ہم شکل الفاظ پر کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇

 ہم شکل الفاظ:


شکریہ۔۔۔آپ کے کمنٹس کا انتظار۔۔۔۔۔۔

#Urdu Ke Kuch Judwan Alfaz

AreeB TLM


The Ocean Cleanup Mission

 انتخاب: نوشاد علی ریاض احمد۔

The Ocean Cleanup Mission

کائنات میں بے شمار کہکشائیں ہیں ۔ جن میں سے ہمارا نظام شمسی آکاش گنگا کے کنارے پر ہے۔ زمین اس نظام شمسی کے 9 سیاروں میں سے ایک ہے۔ جہاں 84 لاکھ اقسام کی انواع ہیں۔ یعنی انسانوں سمیت جاندار۔ علم کے ذرائع خواہ افسانوی تحریریں ہوں یا جدید سائنس، دونوں قسم کے دانش وروں کا خیال ہے کہ کائنات میں زمین ہی واحد سیارہ ہے جہاں زندگی ہے۔ آسمان، ہوا، آگ،پانی اورزمین پانچوں عناصر کا مجموعہ ہے۔

زمین کا 70 فیصد پانی ہے، صرف 30 فیصد زمین ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس دنیا میں کروڑوں لوگ پینے کے پانی کو ترستے ہیں۔ بعض مقامات پر صاف پانی بے کار بہہ رہا ہے تو بعض مقامات پر جانداروں کو بھی آلودہ پانی نہیں ملتا۔ انسان ہو یا جانور سب کو پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر کوئی پانی کو صاف رکھنے کے لیے کوششیں نہیں کرتا، واقعی کوشش کبھی نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کی تنظیموں اور بعض این جی اوز کا اندازہ ہے کہ سمندر میں کچرا مسلسل بڑھ رہا ہے، یہ کچرا انسانی بستیوں سےنکل کر دریاؤں کے ذریعے سمندر میں چلا جاتا ہے۔

اوشین کلین اپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ زمین پر پانی صاف رہےبارش کے موسم میں دریا کچرے سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں ایک موثر تنظیم دی اوشین کلین اپ موجود ہے۔ جو دریاؤں، تالابوں اور ساحلوں کو مختلف تکنیکوں کے ذریعے صاف کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دی اوشین کلین اپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پلاسٹک کی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ دریا ہیں۔ وہ شریانیں ہیں جو زمین سے سمندر تک فضلہ لے جاتی ہیں۔ دنیا کے 1000 ندیوں سے پھیل رہا ہے 80 فیصد ریکور پلاسٹک۔۔۔۔

دی اوشین کلین اپ کی تحقیق کے مطابق، 1000 ندیاں تقریباً 80 فیصد ریکور آلودگی کے ذمہ دار ہیں۔ اگر چہ دنیا میں ہزاروں ندیاں بہتی ہیں۔ لیکن کچھ ندیا ں ایسی بھی ہیں ۔جن سے بڑی مقدار میں گندگی سمندر تک پہنچتی ہے۔ اوشین کلین اپ اپنے خصوصی انٹرسیپٹرز کی مدد سے ندیوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔دی اوشین کلین اپ کی تحقیق کے مطابق، 1000 ندیاں تقریباً 80 فیصد ریکور آلودگی کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ دنیا میں ہزاروں ندیا ہتے ہیں۔ لیکن کچھ ندیا ایسی بھی ہیں ۔جن سے بڑی مقدار میں گندگی سمندر تک پہنچتی ہے۔ اوشین کلین اپ اپنے خصوصی انٹرسیپٹرز کی مدد سے ندیوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

The Ocean Cleanup

اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے مئی 2023 کے آخر میں ریو لاس وکاس، گوئٹے مالا میں جانچ کے لیے ایک انٹرسیپٹر بیریکیڈ نصب کیا ہے۔ ان کا انٹرسیپٹر بیریکیڈ میں دو بوم ہوتے ہیں : پہلا آپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹیم ۔ ایک اپ اسٹریم دباؤ بنا کر کچرے دو ہیں: ا کو کھینچتا ہے۔ جب کہ دوسرا کچرے کو پانی سے چھلنی کی طرح الگ کرتا ہے۔ پلاسٹک نکالنے کے لیے یہ سب سے موزوں اور موثر حل سمجھا جاتا ہے۔

8 ممالک میں 15 انٹرسیپٹر زلگائے گئے ہیں، 2025 تک بڑی مہم

اوشین کلین اپ کے پاس اس وقت 8 ممالک میں 15 انٹرسیپٹرز لگائے گئے ہیں۔ کی حمایت کرنے Ocean Cleanup The    کے بارے میں مزید جانے کے لیے Theoceancleanup.com  پر جا سکتے ہیں۔ Ocean Cleanup رکھنے والے میں دلچسپی رکھنے واےسمندر کے پانی کو صاف رکھنے کے لیے اس تنظیم کا مقصد 2025 تک 1000 ندیوں پرانٹرسیپٹر سسٹم نصب کرنا ہے۔

بشکریہ :۔۔۔بھارت ایکسپریس

https://x.com/gigadgets_/status/1715216016626917761?t=ccIXrBxpzFCoHhmOrhgK0g&s=09

5th (IT) IDEAL EDUCATIONAL MOVEMENT



گذشتہ تیس سالوں سے آئیڈیل ایجوکیشنل موومنٹ' ممبئی اور اطراف کی اردو میڈیم اسکولوں کے طلباء کے لیے گورنمنٹ  اسکالرشپ امتحان برائے پنجم و ہشتم و دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے مفت کلاسیس کا انتظام کررہا ہے۔ ان سالوں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبا مستفید ہوئے ہیں۔ ان کلاسیس میں بچوں کو پیپرس میں آنے والے سوالوں کے پیٹرن پر  اسائینمنٹ دیے جاتے ہیں۔ یہ اسائینمنٹ(Assignments) سوالیہ پرچوں کی شکل میں ہوتے ہیں جنھیں اساتذہ کرام  کلاس میں حل کراتے ہیں۔

ان اسائینمنٹ سے  مہاراشٹر کے تمام طلبا فائدہ اٹھا سکیں، اس کے پیشِ نظر اب اسے گوگل کوئز فارم کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر اسائینمنٹ میں 15 سے 20 سوال ہونگے.۔طلبا صحیح متبادل کا انتخاب کریں گے۔

ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر صدر

ڈاکٹر شیخ عبداللہ نائب صدر 

Class 5th Intelligent Test

ٹیسٹ نمبر پر کلک کریں۔

Test No. 1 

Test No. 2

Test No.3

Test No.4

Test No.5

Test No.6

Test No.7

Test No.8

Test No.9

Test No.10

Test No.11

Test No.12

Test No.13

Test No.14

Test No.15




Bharat ka sab se Saf Dehat

 بھارت کاسب سے صاف ستھرا دیہات: مالِن نانگ (Mawlynnong)

میگھالیہ ریاست کا ایک چھوٹا سا گاؤں مالن نانگ بھارت کاسب سے صاف ستھرا دیہات کے نام سے مشہور ہے۔ یہ چھوٹا سا گاؤں بھارت۔ بنگلہ دیش سرحد پر میگھالیہ کی راجدھانی سے تقریباً ۹۰ کلو میٹرفاصلے پر واقع ہے۔ کھاسی قبائل سے تعلق رکھنے والے تقریباً سو (۱۰۰) خاندان یہاں بسے ہوئے ہیں۔ ان کا اہم پیشہ زراعت ہے اور یہاں کی اہم فصل سپاری ہے۔

اپنے گاؤں کو صاف رکھنے کے لیے یہاں کا ہر فرد احتیاط برتتاہے۔ اس کے لیے بہت سارے لوگ کوشش کرتے ہیں۔ گاؤں کو بڑی عمر کے لوگ اور بچے گاؤں کو روزانہ صاف کرتے ہیں۔ روزانہ اسکول جانے سے قبل بچے اپنی سڑک کو صاف کرتے جاتے ہیں۔ ہر سنیچر کو تمام لوگ صفائی کے لیے مزید محنت کرتے ہیں جیسے: اسکول کی صفائی وغیرہ۔ اس گاؤں کے ہر گھر کے سامنے بانس سے بنی ٹوکریاں کچرہ ڈالنے کے لیے رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ درختوں کے سوکھے پتے ، گرے ہوئے وغیرہ کو جمع کرکے اس ٹوکری میں ڈالتے ہیں۔ بعد میں اس کچرے کو زمین میں دفن کر کے اس سے کھا د تیار کرتے ہیں۔ گاؤں کا دیگر کچرا گاؤں کے باہر لے جا کر اسے جلایا جاتا ہے۔

https://teachingadds.blogspot.com



 اس گاؤں میں کسی کو بھی پلاسٹک کی تھیلی کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کے لوگوں کو سگریٹ بیڑی نوشی کرنے کی ممانعت ہے۔ گاؤں کے ہر گھر میں بیت الخلاء ہے اور اس کا استعمال کرنا ہر گاؤں والے پر فرض ہے۔ اگر صفائی سے متعلق اصولوں کی کسی نے خلاف ورزی کی تو اس پر سخت جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔

 اس گاؤں کے لوگ نہ صرف گاؤں کو صاف ستھرا رکھتے ہیں بلکہ اسے خوبصورت بنانے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ یہاں کے ہر درخت کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اور ہر گھر کے اطراف دلکش پھولوں کا صحن باغ ہے۔ بارش کے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ہر گھر کے دروازے پر پانی کی ٹا نکیاں رکھی ہوئی ہیں۔

اس گاؤں کے لوگوں نے گاؤں کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کے لیے از خود خوب محنت کی۔ اس کے پس پردہ کوئی نام نمود اور انعام کا لالچ نہیں تھا۔ اس کے باوجود سن ۲۰۰۳ء میں ایک سیاحت سےتعلق رکھنے والے رسالے/ ماہنامے نے مالن نانگ کوایشیا کا سب سے صاف ستھرا دیہات ‘ ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اس گاؤں کی شہرت بڑھ گئی۔ ہزاروں سیاح یہ گاؤں دیکھے پہنچے ہیں۔ اور اب وہاں بہت ساری ہوٹلیں قائم ہو گئی ہیں۔

 سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر یہ خدشہ تھا کہ کہیں گاؤں کی صاف ستھری خاصیت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ لیکن ابھی تک ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ ریاست بھر میں اس گاؤں سے لوگ ترغیب پا کر اپنے اپنے گاؤں کو صاف ستھرا رکھنے لگے ہیں۔ اس گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں کا ہر فرد خواہ وہ عورت ہی کیوں نہ ہو خواندہ ہے۔

انتخاب:۔ نوشاد علی ریاض احمد

https://teachingadds.blogspot.com

#naushadali 



Geoffrey Everest Hinton

 انتخاب : نوشاد علی ریاض احمد۔

Geoffrey Everest Hinton (پیدائش 6 دسمبر 1947)

 ایک برطانوی-کینیڈین کمپیوٹر سائنس دان اور علمی ماہر نفسیات ہیں، جو مصنوعی اعصابی نیٹ ورکس پر اپنے کام کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ 2013 سے 2023 تک، انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کے خطرات کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مئی 2023 میں عوامی طور پر گوگل سے علیحدگی کا اعلان کرنے سے پہلے گوگل (گوگل برین) اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے لیے کام کرنے میں اپنا وقت صرف کیا۔2017 میں، اس نے ٹورنٹو میں ویکٹر انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ طور پر قائم کیے اور چیف سائنسی مشیر بن گئے۔

AreeBTLM


ڈیوڈ رومیل ہارٹ اور رونالڈ جے ولیمز کے ساتھ، ہنٹن 1986 میں شائع ہونے والے ایک انتہائی حوالہ شدہ مقالے کے شریک مصنف تھے جس نے ملٹی لیئر نیورل نیٹ ورکس کی تربیت کے لیے بیک پروپیگیشن الگورتھم کو مقبول بنایا، حالانکہ وہ اس نقطہ نظر کی تجویز کرنے والے پہلے نہیں تھے۔  ہنٹن کو گہری اور گیرائی سے  سیکھنے والی کمیونٹی میں ایک سرکردہ شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امیج نیٹ چیلنج 2012کے لیے ان کے طالب علم الیکس کرزیوسکی اور الیا سوٹسکیور کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا گیا الیکس نیٹ کا ڈرامائی تصویری شناخت کا سنگ میل کمپیوٹر ویژن کے میدان میں ایک پیش رفت تھی۔

ہنٹن نے 2018 کا ٹورنگ ایوارڈ حاصل کیا، جسے اکثر "کمپیوٹنگ کا نوبل انعام" کہا جاتا ہے، یوشوا بینجیو اور یان لیکون کے ساتھ مل کر، گہری  تعلیم DEEP EDUCARIONپر ان کے کام کے لیے انہیں بعض اوقات "گڈ فادرز آف ڈیپ لرننگ" کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اور انہوں نے مل کر عوامی گفتگو جاری رکھی ہے۔

مئی 2023 میں، ہنٹن نے "اے آئی کے خطرات کے بارے میں آزادانہ طور پر بات کرنے" کے قابل ہونے کے لیے گوگل سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔

تعلیم:

ہنٹن کی تعلیم برسٹل کے کلفٹن کالج اور کنگز کالج، کیمبرج میں ہوئی۔ مختلف مضامین جیسے قدرتی علوم، فن کی تاریخ، اور فلسفہ کے درمیان بار بار اپنی ڈگری کو تبدیل کرنے کے بعد، اس نے بالآخر 1970 میں تجرباتی نفسیات میں بیچلر آف آرٹس کے ساتھ گریجویشن کیا۔ انہوں نے ایڈنبرا یونیورسٹی میں اپنا مطالعہ جاری رکھا جہاں انہیں کرسٹوفر لانگوئٹ-ہِگنز کی زیر نگرانی تحقیق کے لیے 1978 میں مصنوعی ذہانت میں پی ایچ ڈی سے نوازا گیا۔

کرئیر اور ریسرچ:

اپنی پی ایچ ڈی کے بعد، ہنٹن نے یونیورسٹی آف سسیکس Sussexمیں کام کیا اور، برطانیہ میں فنڈنگ حاصل کرنے میں دشواری کے بعد،  یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو اور کارنیگی میلن یونیورسٹی۔ وہ یونیورسٹی کالج لندن میں گیٹسبی چیریٹیبل فاؤنڈیشن کمپیوٹیشنل نیورو سائنس یونٹ کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ وہ اس وقت ٹورنٹو یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے شعبہ میں پروفیسر ہیں۔

ان کے پاس مشین لرننگ میں کینیڈا ریسرچ چیئر ہے اور وہ اس وقت کینیڈین انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ ریسرچ میں لرننگ ان مشینز اینڈ برینز پروگرام کے مشیر ہیں۔ ہنٹن نے 2012 میں تعلیمی پلیٹ فارم کورسیرا پر نیورل نیٹ ورکس پر مفت آن لائن کورس پڑھایا۔ انہوں نے مارچ 2013 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی جب ان کی کمپنی DNNresearch Inc. کو حاصل کیا گیا، اور اس وقت وہ "اپنا وقت اپنی یونیورسٹی کی تحقیق اور گوگل میں اپنے کام کے درمیان تقسیم کرنے" کا منصوبہ بنا رہے تھے۔   

ہنٹن کی تحقیق مشین لرننگ، میموری، پرسیپشن، اور سمبل پروسیسنگ کے لیے نیورل نیٹ ورک استعمال کرنے کے طریقوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے 200 سے زیادہ  مرتبہ نظرثانی شدہ اشاعتیں لکھی یا شریک تحریر کیں۔ نیورل انفارمیشن پروسیسنگ سسٹمز (NeurIPS) پر کانفرنس میں انھوں نے نیورل نیٹ ورکس کے لیے ایک نیا سیکھنے کا الگورتھم متعارف کرایا جسے وہ "فارورڈ-فارورڈ" الگورتھم کہتے ہیں۔ نئے الگورتھم کا خیال یہ ہے کہ بیک پروپیگیشن کے روایتی فارورڈ بیک ورڈ پاسز کو دو فارورڈ پاسز سے تبدیل کیا جائے، ایک مثبت (یعنی حقیقی) ڈیٹا کے ساتھ اور دوسرا منفی ڈیٹا کے ساتھ جو مکمل طور پر نیٹ ورک کے ذریعے تیار کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ ہنٹن UC سان ڈیاگو میں پوسٹ ڈاک تھا، ڈیوڈ ای رومیل ہارٹ اور ہنٹن اور رونالڈ جے ولیمز نے بیک پروپیگیشن الگورتھم کو ملٹی لیئر نیورل نیٹ ورکس پر لاگو کیا۔ ان کے تجربات سے معلوم ہوا کہ ایسے نیٹ ورک ڈیٹا کی مفید اندرونی نمائندگی سیکھ سکتے ہیں۔ 2018 کے ایک انٹرویو میں،  ہنٹن نے کہا کہ “David E. Rumelhart کو بیک پروپیگیشن کا بنیادی خیال آیا، اس لیے یہ ان کی ایجاد ہے"۔ اگرچہ بیک پروپیگیشن کو مقبول بنانے میں یہ کام اہم تھا، لیکن یہ طریقہ تجویز کرنے والا پہلا کام نہیں تھا۔ ریورس موڈ خودکار تفریق، جس میں بیک پروپیگیشن ایک خاص معاملہ ہے، 1970 میں Seppo Linnainmaa نے تجویز کیا تھا، اور Paul Werbos نے اسے 1974 میں نیورل نیٹ ورکس کو تربیت دینے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

اسی عرصے کے دوران، ہنٹن نے ڈیوڈ ایکلے اور ٹیری سیجنوسکی کے ساتھ مل کر بولٹزمین مشینیں ایجاد کیں۔ نیورل نیٹ ورک کی تحقیق میں ان کی دیگر شراکتوں میں تقسیم شدہ نمائندگی، ٹائم ڈیلی نیورل نیٹ ورک، ماہرین کا مرکب، ہیلم ہولٹز مشینیں اور ماہرین کی مصنوعات شامل ہیں۔ 2007 میں، ہنٹن نے ایک غیر زیر نگرانی لرننگ پیپر کی تصنیف کی جس کا عنوان تھا Unsupervised learning of image transformations۔ جیفری ہنٹن کی تحقیق کا ایک قابل رسائی تعارف ستمبر 1992 اور اکتوبر 1993 میں سائنٹیفک امریکن میں ان کے مضامین میں پایا جا سکتا ہے۔

بالترتیب اکتوبر اور نومبر 2017 میں، ہنٹن نے کیپسول نیورل نیٹ ورکس کے موضوع پر دو کھلے رسائی کے تحقیقی مقالے شائع کیے،  جو کہ ہنٹن کے مطابق، "آخر میں ایسی چیز ہیں جو اچھی طرح سے کام کرتی ہے"۔

مئی 2023 میں، ہنٹن نے عوامی طور پر گوگل سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ کہہ کر اپنے فیصلے کی وضاحت کی کہ وہ "اے آئی کے خطرات کے بارے میں آزادانہ طور پر بات کرنا چاہتے ہیں۔" اور مزید کہا کہ ان کا ایک حصہ اب اپنی زندگی کے کام پر پچھتاوا ہے۔

ان کے گروپ کے قابل ذکر سابق پی ایچ ڈی طلباء اور پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین میں پیٹر دیان، سیم روئیس، میکس ویلنگ،  رچرڈ زیمل،  برینڈن فری، ریڈفورڈ ایم نیل،وغیرہ شامل ہیں۔



بشکریہ : ویکی پیڈیا۔گوگل





Geoffrey Everest Hinton#


Iqbal Quiz

 Iqbal Quiz

اقبال کوئیز کے لیے لنک پر کلک کیجیے۔ ↓

IQBAL QUIZ

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال

AreeB TLM


Subscribe to my educational YouTube Channel

Click Here 👉 AreeBTLM




8th Urdu Online Test Series

 

AreeBTLM

8th Urdu Online Test Series 

اردو زبان میں ایک ہی معنی والے کئی لفظ ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی آپ کی معلومات والے لفظ جملوں میں نہیں ہونے کی وجہ سے آپ کو پریشانی  محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے ایک ہی معنی و مفہوم کے کئی مختلف الفاظ کا علم آپ کو ہونا ضروری ہے  اس سے آپ کو مطلب کا مفہوم سمجھ میں آئے گا۔

تمام ٹیسٹ نمبر سے نیچے دئیے گئے ہیں ۔

               ↓

Test No 1

Test No 2

Test No 3

TEST NO 4


TEST NO 5


TEST NO . 6

الفاظ کے مجموعے کے لیے ایک لفظ ٹیسٹ نمبر7

TEST NO.7

محاورے 

TEST NO.8

کہاوتیں

Test no . 9

سرٹیفکیٹ کے لیے یہاں کلک کریں۔👇

CERTIFICATE DOWNLOAD


NMMS ALL PAPERS PDF👇

Download 


Subscribe My Educational You tube Channel 

👉        Click Here For YOUTUBE


5th Urdu Online Test

AreeBTLM






 5th Urdu Online Test 

Just Touch↓

TEST NO.1

TEST NO. 2

TEST NO.3

TEST NO. 4

CERTIFICATE DOWNLOAD

Peshgi Tayari

 ہم سب کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچے ہر روز اسکول جائیں اور اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کریں۔ بچوں میں تعلیم سے رغبت پیدا کرنے کے لیے سر پرست معلم اور سماج کی حیثیت سے ہمیں مناسب ماحول تیار کرنا چاہیے۔ اس کتاب کی مدد سے آپ بچوں کی پہلی جماعت کی تیاری کروا سکتے ہیں۔ یہ بہت آسان ہے۔ تو آئیے ابچوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور ان کی اسکول کی پیشگی تیاری مکمل کریں تاکہ ان کی آئندہ کی تعلیم آسان ہو اور ان میں تعلیم سے دلچسپی پیدا ہو۔



یہاں سے ڈانلوڈ کریں۔↓

Download 1

Download 2

Sabqa Malumat aur Naya Nisab

 سابقہ معلومات کو ذہن میں تازہ کرنے اور نئے نصاب کا آغاز کرنے کے لئے لائحہ عمل۔۔۔۔۔۔۔۔!!

 

ہماری گفتگو کا جو موضوع ہےان معاملات کا سابقہ تقریباً سبھی اساتذۂ کرام کو پڑتا ہے۔بعداز امتحان تعطیلات گزار کر جب بچے نئے تعلیمی سال میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ فیصد کے علاوہ سبھی کی معلومات اساتذہ کو تازہ کرنی پڑتی ہے اس کے لئے پیشگی تیاری اور برج کورس مرتب کیا جاتا ہےجو طلبہ وطالبات کے لئے بے حد کارآمد ہے اگر اسے رہنمایانہ خطوط پر درست طریقۂ کار کے ذریعے اساتذہ طلبہ تک پہچائیں ایماندارانہ عمل آوری ہو۔بعد ازاں نئے نصاب کی تدریس کو سابقہ علم سے جوڑنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائی یا لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔منصوبہ بندی کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فن تدریس کا سب سے پہلا اصول پڑھانے سے قبل طلبہ کو پڑھنے کے لئے آمادہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔

بچوں کی جماعت اور عمر کے لحاظ سے جماعتی سطح پر ایسی دلچسپ سرگرمیاں لینا طئے کریں جس سے بچوں میں سیکھنے کا جذبہ شوق و ذوق پیدا ہو۔ذوق وشوق کی بیداری کے بغیر یہ کام انجام دینا بہت ہی مشکل ہے۔سابقہ معلومات اور نئی معلومات میں تسلسل پیدا کرنے کے لئےحوصلہ افزاء سوالات اور دلچسپ سرگرمیاں ضروری ہیں کیونکہ یہ معلومات کی تفہیم کو آسان بنانے میں مددگار ہوتی ہیں نیز اس طریقۂ کار کے ذریعے بچوں کی سابقہ معلومات کی مکمل آگہی حاصل ہوتی ہے۔تدریس کو موثر بنانے کے لئے معلومات پیش کرنے کا آغاز طلبہ کی سابقہ معلومات سے کریں۔اساتذہ کےدلچسپ طریقے سے سابقہ معلومات کوپڑھائے جانے والے مواد سے مربوط کرنے سےنفس مضمون کی تفہیم میں دقت پیش نہیں آتی۔

بعض وجوہات کی بناء طلبہ کسی مضمون کی  ، بنیادی معلومات Basic knowledge)) نہ سیکھیں ہوں تب ان کو اس موضوع کی مزید آگے کی ، اعلیAdvance Knowledge معلومات فراہم کرنا بے فیض اور وقت کا زیا ں ہوتا ہے۔بنیادی معلومات کے بغیر اعلی معلومات پیش کرنا بے معنی ہوتا ہے۔طلبہ میں اکتسابی دلچسپی اور تیزی اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب ان کو کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات کا علم ہوتا ہے یاپھر اعلی معلومات کی پیش کشی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کردئ جاتی ہیں۔اگر طلبہ کی بنیادی معلومات اور ان کی علمی سطح کا ادراک کئے بغیر تدریسی فرائض انجام دیئے جائیں گے تو یہ ناقص تدریس ہی کہلائی گی۔ اعلی معلومات کی پیش کشی کے دوران استاد کو اس بات کا علم ضروری ہے کہ پیش کردہ معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے ہم آہنگ اور ان کے معیار کے مطابق ہیں۔ اگر طلبہ کسی مخصوص موضوع و مضمون کی بنیادی معلومات سے ناواقف ہوں تب استاد اعلی معلومات کی فراہمی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کرے تاکہ طلبہ میں نئے معلومات کو حاصل کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہوسکے۔

معلومات کی تفہیم و وضاحت کے دوران معلوم سے نامعلوم کا تعلق جوڑیں۔۔۔۔۔

معلوم سے نامعلوم کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے اساتذہ طلبہ کو جذباتی اور ذہنی طور پر اکتساب کے لئے ابھارسکتے ہیں۔ معلومات کی پیش کش کے وقت اس بات کا خاص خیال رہے کہ پیش کی جانے والی معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے مربوط ہو۔اگریہ ربط ہوگا تب بچے نئی معلومات آسانی سے سیکھیں گے۔

Nisab


تدریس آسان سے مشکل کی طرف ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اساتذہ طلبہ کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر تعلیمی تدریسی وسائل، ٹولس اور دیگر درسی کتابوں کا بھر پور استعمال کریں تاکہ تدریس کو موثر اور دیرپا بنایا جاسکے۔ سبق کی تدریس ہو یا معلومات کی پیش کش استاد اور طالب علم دونوں کی شراکت ضروری ہے۔اساتذہ درسی کتاب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے علم کی منتقلی کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں۔ اساتذہ کتنا پڑھا چکےہیں یہ بات  اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ بچوں نے کتنا سیکھا یہ بات بہت اہم ہے۔نصاب کی تکمیل کتاب کے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اوراق پلٹنے کا نام نہیں ہے بلکہ درسی کتاب میں پوشیدہ علوم کو طالب علم نے کتنا سیکھا یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔سبق کی تدریس میں اساتذہ صرف درسی کتب پر اکتفاء نہ کریں اور درسی کتب کی صحت اور معیار پراعتبارکےساتھ ساتھ اپنے علم اور تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تدریسی فرائض انجام دیں۔

اہم نکات کی مناسب اور وضعی تکرار اہم معلومات کے تعین میں مددگار ہوتی ہے۔ جہاں بھی ضرورت ہو وضاحتی اور تفہیمی خلاصہ پیش کریں۔تفہیم و وضاحت کے لئے جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو تدریسی معاون اشیاء کا استعمال کریں۔تدریسی وتعلیم وسائل کا استعمال طلبہ میں اکتسابی دلچسپی کو پروان چڑھانے کے ساتھ مشکل تصورات کو عام فہم اور آسان بنانا کر پیش کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔اور تادیرذہن میں رہتا ہے ان مٹ نقوش چھوڑتا ہے

سبق کے آخر میں طلبہ کی جانچ اور اعادہ سے ان کے اکتساب کی سطح کا علم ہوتاہے ۔ اختتام پر جانچ اور اعادہ سے اساتذہ کی تدریس کےموثرہونےکا اندازہ ہوتا ہے۔اسی لئے اساتذہ اپنےاختتام پر جانچ اور اعادہ ضرور لیں۔

سبق کا آغاز جس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح سبق کا اختتام بھی اہم ہوتا ہے۔ بہتر اختتامیہ طلبہ کے ذہنوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقش بنادیتا ہے سبق کے اختتام پر اساتذہ تھوڑا تجسس باقی رکھیں تاکہ طلبہ میں خود اکتسابی ،تحقیق اور تجسس پیدا ہو سکے۔ طلبہ کو تحقیق اور جستجو کی جانب مائل رکھیں اس سے طلبہ میں خوداعتمادی پروان چڑھے گی ،وہ خودآموزی کر سکیں گے۔ کلاس میں اساتذہ بغیر کسی منظّم منصوبہ بندی کےتیزرفتاری سے اسباق اور نصاب کی تکمیل میں مصروف رہتے ہیں۔اسباق و نصاب کی تکمیل کے دوران وہ اکثربھول جاتے ہیں کہ جو معلومات وہ طلبہ کو فراہم کر رہے ہیں کیا طلبہ کے ذہن انھیں محفوظ بھی کررہے ہیں یا نہیں۔سبق کی تدریس اورمعلومات کو پیش کرنے کے فن سے اساتذہ کا آگاہ ہونا بےحدضروری ہے۔استاد خواہ کتنا ہی قابل ہو اگر وہ معلومات اور سبق کی پیش کش کے فن سے واقف نہ ہوتب وہ طلبہ میں تعلیمی معیار کے گراوٹ اور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔درس و تدریس کی کامیابی کا انحصار خواہ وہ کوئی بھی مضمون ہواساتذہ کی معلومات (سبق) کی پیش کش پر ہوتا ہے۔سبق طلبہ کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتا ہے اگر استاد اس کو دلچسپ اور دل پذیر بناکر پیش کرے۔پیش کش جس قدر موثرہوگی اکتساب کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہوگا۔تدریس موثر بنانے اور اکتساب میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تدریس کے فنی اصولوں پر اساتذہ کو کاربند ہونے کی سخت ضرورت ہے۔جب اساتذہ فنی اصولوں کی باریکیوں کو سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں گے تب درس و تدریس ان کے لئے نہایت سہل اور دلچسپ سرگرمی بن جائے گی۔اساتذہ یہ بات اپنے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیں کہ درس و تدریس صرف پڑھانے کا نہیں بلکہ پڑھنے کا بھی نام ہے اور یہ عمل تا حیات جاری وساری رہنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!




(ماخوذ)


#Sabqa Malumat aur Naya Nisab

Mutalliq Alfaz

 متعلق الفاظ:

دائرے میں دیے ہوئے ’’   لفظ ‘‘ سے تعلق رکھنے والے الفاظ  لکھ کر سرگرمی مکمل کیجیے۔ 

جیسے ’’ باغ ‘‘  سے تعلق رکھنے والے الفاظ : مالی ، پھول ، پودے ، بُلبُل ، جھولے ، بھونرے ، پتنگے ، بیلیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔

Mutalliq Alfaz#

AreeBTLM

یہاں سے آپ پی ڈی ایف فائل ڈانلوڈ کریں ۔⇩
                                   Download