Abraham Lincoln

 ابراہام لنکن کا مشغلہ:

تقریباً ۲۰۰ ؍سال قبل ابراہام نامی ایک مشہور شخصیت ہو گزری ہے۔ وہ امریکہ کے صدر تھے۔ بچپن میں اور بڑے ہونے کے بعد بھی لنکن نے بہت سارے مشغلے پال رکھے تھے۔

انھیں جانور بہت پسند تھے۔ بچپن میں وہ ایک دفعہ دوستوں کے ساتھ باغ کی سیر کو گئے۔کچھ دیر پہلے ہی طوفان آکر چلا گیا تھا۔ باغ میں انھیں دو پرندوں کے بچے نظر آئے۔ لنکن نے سارے باغ کی چھان مار کر ان پرندوں کا گھونسلا تلاش کیا۔ اس کام پر ان کے دوستوں نے ان کا مذاق اُڑایا لیکن لنکن نے صرف یہ کہا، ’’ ان دوبچوں کو اگر ان کی والدہ کے پاس نہیں چھوڑ آتا تو مجھے رات بھر نیند نہیں آتی۔‘‘

    جب ان کے دوست صرف مذاق کے طور پر جانوروں کو ستاتے تب لنکن انھیں فوری روک دیتے۔بڑے ہونے کے بعد انھیں ایک گمشدہ کتّا ملا ۔ ان کے بچوں کو وہ کتّا بہت پسند آیا۔ اس کے مالک کے آنے تک لنکن کے بچوں نے اس کی دیکھ بھال کی۔ اس کے بعد لنکن کو دوسرا کتّا ملا انھوں نے اس کا نام ’’ فیڈرو ‘‘ رکھا۔

    لنکن کو بلّیاں بھی بہت پسند تھیں۔ ایک دفعہ جب گھر کے تمام لوگ رات کا کھانا کھارہے تھے تب بلی کو کھلانے لگے۔ ان کی بیوی ان پر بہت غصّہ ہوئیں لیکن انھوں نے بلی کو کھلانا نہیں چھوڑا۔

اپنے بچوں کے لیے انھوں نے دو بکرے خرید کر لائے۔ ان بکروں کو گھر میں کہیں بھی گھومنے پھرنے کی اجازت تھی۔ لنکن کے پاس گھوڑے بھی تھے۔ ایک دفعہ اصطبل میں آگ لگ گئی، تب گھوڑوں کو بچانے کے لیے وہ تقریباً    آگ ہی میں کود پڑے۔ نوجوانی میں لنکن کوکشتی اور میدانی کھیل بہت پسند تھے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ کھیلوں سے دلچسپی کی وجہ سے لنکن کی شخصیت رعب دار بن گئی۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے مخالفین سے کبھی نہیں ڈرتے تھے۔ صدر ببنے کے بعد انھوں نے امریکہ سے غلامی کے رواج کو ختم کیا۔

    لنکن کو اچھا گانا نہیں آتا تھا لیکن انھیں موسیقی سے دلچسپی تھی۔ موسیقی سے انھیں بڑا سکون ملتا تھا۔ ایک دفعہ ان کے ملاقاتیوں نے ان کی پسند کا ایک گیت گایا۔ جب دس سال بعد ان لوگوں سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی گیت گانے کی فرمائش کی۔ لنکن وہ گیت کبھی نہیں بھوٗلے۔

    لطیفہ سنانا لنکن کا ایک اور مشغلہ تھا۔ اس کی وجہ سے انھیں شہرت تو ملی اس کے علاوہ انھوں نے اپنی جوانی کے اکیلے پن کو دور کیا۔ وہ اپنے لمبے قد اور بے ہنگم ڈیل ڈول سے پہلے پہل بہت شرم محسوس کرتے تھے۔



    لنکن کے بہت سارے مشغلوں میں سے ایک سب سے پسندیدہ مشغلہ مطالعہ کا تھا۔ وہ لمبے عرصے تک اسکول میں کسی سے کتاب مستعار لے کر پڑھا کرتے تھے۔ ان کو سب سے زیادہ علم کتابوں کی پڑھائی سے حاصل ہوا ۔ صدر بننے کے بعد لنکن کو اپنے مطالعے سے بڑی مدد حاصل ہوئی۔ ان کے بہت سارے تصورات کسی نہ کسی کتاب سے اخذ کیے ہوئے تھے۔ جب جب انھیں کسی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا تب تب انھوں نے اس کا حل کتابوں میں تلاش کیا۔ تناؤ کو دور کرنے لیے وہ کتابوں کی مدد لیا کرتے۔

آپ بھی اپنا مشغلہ بتائیے کمنٹس میں۔۔۔☺ جس کو مکمل کرنے میں آپ کی دلچسپی ہے۔۔۔۔

شکریہ۔۔۔

https://teachingadds.blogspot.com


Class 11 Practice Paper

 You can download now 

FREE FREE FREE

❤❤❤

Urdu → PDF Download

Science 1 → PDF Download

Science 2 → PDF Download

SP → PDF Download

Sociology → PDF Download

Psychology → PDF Download

Math → PDF Download

History → PDF Download

English→ PDF Download

Economics → PDF Download

Bookkeeping → PDF Download

Biology → PDF Download



Learning Out Come

تعارف:۔

  بچہ اپنے گھر ، خاندان اور ماحول سے زبان کے تجربات و تصورات لے کر اسکول میں داخل ہوتا ہے ۔ لیکن با قاعدہ طور پر وہ حروف کی شناخت، لفظوں کے معنی اور ان کے استعمال سے اسکول میں متعارف ہوتا ہے ۔ چونکہ اس عمر میں حروف شناسی مشکل کام ہے اس لیے کہ رسم خط کے نشانات اور ان نشانات سے جڑی آوازوں کو جاننا اور سمجھنا آسان نہیں ہوتا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ زبان سیکھنے کی شروعات معنی سے ہو اور اس کے لیے کہانی کا سہارا لیا جاۓ ۔ یعنی زبان سکھانے کے مقصد کو کہانی سے پورا کیا جاۓ ۔ چونکہ کہانی میں لطف اندوزی اور دلچسپی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے کہانی کا وسیلہ زبان سکھانے میں زیادہ کارگر اور مؤثر ثابت ہوسکتا ہے ۔



PDF ←Download

Naushad Ali

Opposite Words

 Opposite Words

Opposites are the pair of words that are related to each other, but totally different in meaning.

These words can be ......

1) Common nouns

2) Pronoun

3) Adjective

4) Verbs

5) Preposition

You can download the PDF form here









Short Sentences (English.Marathi.Urdu)

اردو ، مراٹھی اور انگلش 3 زبانوں میں روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے کچھ جملے دیے جارہے ہیں۔اسے آپ ڈانلوڈ کریں اور طالب علموں کے لیے لکھنے ، پڑھنے اور بولنے کے لیے کافی مددگار ہوگا۔ ان شا اللہ۔۔۔۔

➤ Take this ... हे घे... یہ لو۔۔۔


➤ But why?....पण का...لیکن کیوں۔۔۔۔


➤ By heart...मना पासुन....دل سے۔۔۔۔

➤ At least...कमीत कमी...کم از کم۔۔۔۔


➤ Not a bit...थोडपण नाही....ذرا بھی نہیں۔۔۔۔



Telegram link

https://t.me/AreeBTLM


Dr.Zakir Husain

 ڈاکٹر ذاکر حسین :۔ایک طلسماتی شخصیت۔۔۔۔

ڈاکٹر ذاکر حسین (پ: 8/فروری 1897 ، م: 3/مئی 1969)

ماہر تعلیم، سیاست دان۔ حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ مورث اعلیٰ حسین خان تیموری حکمران محمد شاہ کے ابتدائی دور میں افغانستان سے آکر روہیل کھنڈ کے قصبہ قاسم گنج میں آباد ہو گئے تھے۔ ذاکر صاحب کے والد فدا حسین خان نے 1888ء میں حیدرآباد دکن میں رہائش اختیار کر لی۔ ذاکر صاحب نے حیدرآباد دکن، دہلی اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں جرمن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی۔ دوران تعلیم آزادی کی تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا اور تحریک خلافت و ترک موالات کے سلسلے میں قید و بند کی سختیاں برداشت کیں۔ جب جامعہ ملیہ اسلامیہ جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مقابلے پر قائم کی گئی تھی، دہلی منتقل ہوئی تو ذاکر صاحب اس کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ آزادی کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نامزد ہوئے۔ 1957ء میں صوبہ بہار کے گورنر مقرر کیے گئے۔ 1967ء میں بھارت کے صدر منتخب ہوئے۔ مشہور ادیب، مورخ اور محقق ڈاکٹر یوسف حسین خان اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر محمود حسین خان ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تقسیمِ وطن کے بعد ایک بڑے بحران کا شکار ہو چکی تھی۔ لہٰذا ۱۹۴۸ء سے لے کر ۱۹۵۶ء تک انھیں خصوصی طور پر اس یونیورسٹی کی سربراہی سونپی گئی۔ انھوں نے ناشروں، طلبا کے رہنمائوں، اساتذہ وغیرہ سے کئی مراسلے کیے۔ ان مراسلوں میں مسلم یونیورسٹی اور آزاد ہندوستان کی تعلیم و سیاست کی تاریخ لکھنے میں بہت بڑی مدد ملے گی۔ انھوں نے مرکزی حکومت کے شعبۂ تعلیم اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے مسلسل مراسلے کے ذریعہ یونیورسٹی کے لیے نہ صرف فنڈ حاصل کیا بلکہ کئی نئے شعبے قائم کیے۔ اس کے علاوہ پرانے شعبوں کو وسعت و توانائی بخشی۔ انھوں نے کئی ملکی و غیرملکی مندوبین کی علی گڑھ میں مہمان نوازی کی۔ اس کا مقصد صرف مالی امداد حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ علی گڑھ کیمپس کی تہذیبی و سیاسی زندگی کے سلسلے میں پھیلی بدگمانیوں کو دور کرنا تھا۔

ہندوستان کے ان منفرد دانشوروں اور ماہرین تعلیم میں سرفہرست ہیں جنہوں نے بےمثال ذہنی دیانتداری، بےباکی اور بےلوث وطن دوستی کا یادگار نقش چھوڑا ہے۔ دہلی میں قائم کیا گیا ان کا تعلیمی ادارہ "جامعہ ملیہ" ان کی عظمتِ فکر کا جیتا جاگتا مظہر ہے۔ زندگی بھر ان کی یہی کوشش رہی کہ وہ تعلیم کے ذریعہ قومی زندگی میں داخل ہو جانے والی کثافتوں اور خباثتوں کو دور کریں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی فکر و عمل اور ان کی بےلوث خدمت گذاری کا اعتراف مہاتما گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسے جلیل القدر قائدین نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین پہلے نائب صدر جمہوریہ اور بعد میں صدر جمہوریہ ہند کے عہدہ پر فائز رہے اور اسی عہدہ پر رہتے ہوئے ان کا انتقال ہوا۔

ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق صدر جمہوریہ ہند) کے چند اقوال زریں:

(1)ہندوستان میں ایک ملا جلا سماج قائم ہے لہذا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے قائم رہنے کے لیے بنیادی شرائط یہ ہیں: اس سماج کے عوام کا مشترکہ قومی اور ثقافتی پس منظر ہو، جس کی جڑیں تاریخ میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہوں اور اس کے علاوہ مختلف لسانی گروہوں میں رواداری اور پرخلوص جذبہ کارفرما ہو۔

(2)چھوت چھات کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ ہمارے آئین کی رو سے بلاشبہ چھوت چھات کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ آثار ابھی تک ہمارے ذہنوں اور روزمرہ کی زندگیوں سے دور نہیں ہوئے ہیں۔

(3)ہمارے کام کا ایک اقتصادی پہلو ہے۔ ہمیں اپنی ضرورتیں خود کم کرنی ہیں تاکہ ہماری حکومت ضرورت کے مطابق صنعتی وسائل کا استعمال کر سکے۔ ہمیں قیمتوں کی سطح برقرار رکھنے اور منافع خوروں کو ان کے مکروہ کاروبار سے باز رکھنے میں مدد کرنی ہے۔

(4)قومی زندگی کا محل کبھی مکمل نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ زیرتعمیر رہتا، بڑھتا اور پھیلتا رہتا ہے۔ اس کے وسیع تعمیراتی خاکوں کے اندر تفصیلات کو مستقل طور پر واضح کرتے رہنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے بےشمار عناصر کا بنیادی توازن قائم رکھنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں ہر عنصر تمام عناصر پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان سے اثر قبول بھی کرتا ہے۔

(5)اگر غلط باتوں کے ازالہ کے لیے خواہ وہ فرضی ہوں یا حقیقی، تشدد کا استعمال بڑھتا رہا تو خود ملک کے اندر ہماری جمہوریت کی قدروں کے منتشر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگا۔

 

انتخاب:۔ نوشاد علی ریاض احمد

Hum Awaz Alfaz (Homonym)

 ہم آواز الفاظ  :  ( مشابہ تلفظ ):۔

ایسے الفاظ جو پڑھنے میں ایک جیسی آواز دیتے ہوں یا تلفظ یکساں ہو لیکن ان کا لکھنا ( املا) اور معنی میں فرق ہو ، انہیں ہم آواز یا مشابہ تلفظ کے الفاظ کہتے ہیں۔

مثلاً : آج ۔۔عاج۔۔۔۔۔آم۔۔عام۔۔۔۔۔آری ۔۔عاری وغیرہ۔

یہاں سے آپ امیجس ڈانلوڈ کریں۔





















Subhas Chandra Bose

 سبھاش چندر بوس: ہندوستان کو آزاد کروانے کی خواہش رکھنے والے رہنما جنھوں نے انگریزوں سے لڑنے کے لیے فوج تیار کی

برصغیر کو انگریزوں سے آزاد کروانے کے لیے جتنی بھی تحریکیں اٹھیں ہیں ان میں سے ایک مؤثر تحریک ‘‘ آزاد ہند فوج ’’ یا  انڈین نیشنل آرمی بھی تھی جس کی قیادت سبھاش چندر بوس کے ہاتھ میں تھی۔یہ فوج ہندوستانی شہریوں پر مشتمل تھی جس میں ہندو، مسلمان، سکھ سبھی شامل تھے۔اس فوج کا قیام دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں جرمنی، اٹلی اور جاپان کے زیر اثر برما میں ہوا اور اس نے اتحادی طاقتوں (برطانیہ، امریکا اور فرانس) کے خلاف باضابطہ اعلانِ جنگ کیا۔ اگرچہ ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس سے برصغیر کی آزادی کی تحریک کو خاصی تقویت ملی۔

          سبھاش بابو 23 جنوری 1897 کو اڑیسہ کے ایک مقام کٹک میں پیدا ہوئے تھے جہاں ان کے والد رائے بہادر جانکی ناتھ بوس وکالت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ایک مُتمول گھرانے کے فرزند ہونے کی وجہ سے سبھاش بابو کی تعلیم بڑے اعلیٰ پیمانے پر ہوئی تاہم کالج کے دنوں ہی سے سبھاش بابو میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کے آثار موجود تھے۔ ایک باغیانہ سرگرمی میں حصہ لینے کی وجہ سے سبھاش بابو کو دو سال تک پریزیڈنسی کالج کلکتہ سے نکالا گیا۔ بعد ازاں اُنھوں نے سکاٹش چرچ کالج سے گریجویشن کی اور لندن سے انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کا امتحان پاس کر کے 1920 میں وطن واپس آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں ستیہ گرہ کی تحریک اپنی عروج پر تھی۔ سبھاش بابو نے آئی سی ایس کی ملازمت ترک کی اور سی آر داس کی رہنمائی میں نیشنل کالج کے پرنسپل اور ایک اخبار کے ایڈیٹر ہو گئے۔سسر کمار بوس کی کتاب ‘‘  نیتا جی سبھاش چندر بوس ’’  کے مطابق ’1921 میں پرنس آف ویلز کے دورہ ہندوستان کی مخالفت اور لوگوں کو بائیکاٹ پر اکسانے کے الزام میں انھیں پہلی مرتبہ جیل کی سزا ہوئی۔

جب 1922 میں سبھاش بابو رہا ہوئے تو انھوں نے سوراج پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ اکتوبر 1924 سے مئی 1927 کے دوران سبھاش بابو کو برما میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی۔

رہائی کے بعد وہ انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہو گئے۔ رفتہ رفتہ وہ ہندوستان کی اس سب سے بڑی سیاست جماعت کے صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ اگلی دہائی میں اُنھوں نے کئی مرتبہ قید کا مزا چکھا اور ایک مرتبہ جلاوطن بھی کیے گئے۔

سنہ 1938 میں جب وہ وطن واپس لوٹے تو انڈین نیشنل کانگریس نے انھیں اپنا صدر منتخب کر لیا۔ ان کی صدارت کا دورانیہ محض ایک سال پر مشتمل رہا جس کے بعد انھوں نے کانگریس کے اندر رہتے ہوئے اپنے ہم خیال افراد کا ایک فارورڈ بلاک بنا لیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا اور برطانیہ ایک ایسی جنگ میں الجھ چکا تھا جس میں شکست صاف نظر آ رہی تھی۔

ایسے میں سبھاش بابو نے ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا نعرہ بلند کیا۔ ایس اے آیئر کی کتاب ‘‘ آزاد ہند فوج کی کہانی ’’ (ترجمہ: قمر رئیس) کے مطابق ’12 جنوری 1941 کو سبھاش بابو ڈرامائی طور پر غائب ہو گئے اور 10 ہفتے بعد سی آئی ڈی کو چکمہ دیتے ہوئے کابل کے راستے سے برلن پہنچ گئے۔

ہندوستان سے سبھاش بابو کے فرار کی داستان بہت دلچسپ ہے جس کی تفصیلات سسر کمار بوس کی کتاب ‘‘ نیتا جی سبھاش چندر بوس’’ میں ملتی ہے۔

ان تفصیلات کے مطابق سبھاش بابو نے پشاور کے راستے کابل جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے فارورڈ بلاک کے ساتھی میاں اکبر شاہ کو اعتماد میں لیا۔سبھاش بابو اپنے پروگرام کے مطابق پشاور پہنچے اور میاں اکبر شاہ کے گھر میں قیام پذیر ہو گئے۔ میاں اکبر شاہ نے انھیں ایک مسلمان پٹھان کا روپ دیا اور ان کا نام محمد ضیا الدین رکھ دیا۔ 28 جنوری کو سبھاش بابو دو دن پیدل چلنے کے بعد افغان علاقے میں داخل ہو گئے۔کچھ مزید سفر کے بعد وہ کابل پہنچ گئے جہاں انھوں نے روسی سفیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ کوشش بے نتیجہ رہی۔ روسی سفارت خانے سے ناکام ہونے کے بعد چھ فروری کو سبھاش بابو خود زبردستی جرمن سفارت خانے میں داخل ہو گئے جہاں جرمن سفارت خانے میں ان کا خیر مقدم کیا گیا اور انھیں ماسکو کے راستے ہوائی جہاز کے ذریعے برلن پہنچا دیا گیا۔

برلن میں ان کی ملاقات ہٹلر سے ہوئی اورہٹلر ہی کی تجویز پر انھوں نے جرمنی کی سرزمین پر فری انڈیا سینٹر اور فری انڈیا آرمی قائم کی۔

ایک برس بعد وہ آبدوز کے ذریعے تین ماہ کا سفر کر کے جرمنی سے جاپان پہنچ گئے جہاں انھوں نے جرمنی کی مدد سے جاپان کی قید میں موجود ہزارہا ہندوستانی فوجیوں پر مشتمل ایک فوج تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

جب 15 فروری 1942 کو جاپان نے سنگاپور پر قبضہ کیا تو یہاں بھی 23 ہزار ہندوستانی سپاہی جاپان کے جنگی قیدی تھے۔ جاپان نے یہ قیدی، جدوجہد آزادی کے ایک رہنما راش بہاری بوس کے حوالے کیے جنھوں نے ان سپاہیوں پر مشتمل ایک جماعت تشکیل دی جس کا نام ‘‘ انڈین انڈیپنڈنس لیگ’’  رکھا گیا۔پھر 15 جون 1942 سے 23 جون 1942 کے دوران بنکاک، جاوا، سماٹرا، انڈو چائنا، منچوکو، بورنیو، ہانگ کانگ، برما، ملایا اور جاپان میں مقیم ہندوستانیوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں انڈین انڈیپنڈنس لیگ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا اور آزاد ہند فوج کے قیام کی تجویز بھی منظور ہوئی۔چند ماہ کی تیاریوں کے بعد یکم ستمبر 1942 کو راش بہاری بوس نے آزاد ہند فوج تشکیل دینے کا اعلان کر دیا جن میں ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار ہندوستانی فوجی شامل تھے۔سبھاش بابو نے جرمنی سے جاپان پہنچنے کے بعد نہ صرف آزاد ہند فوج کی قیادت سنبھالی بلکہ وہ انڈین انڈیپنڈنس لیگ کے صدر بھی منتخب کر لیے گئے۔

پھر 25 اگست 1943 کو سبھاش بابو، جنھیں اب نیتا جی کہا جانے لگا تھا، نے آزاد ہند فوج کے چیف کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فرض 38 کروڑ ہندوستانیوں کے ملک کو آزاد کروانا ہے اور اسے بیرونی استبداد سے محفوظ رکھنا ہے۔سبھاش بابو کی آمد سے آزاد ہند فوج کو نہ صرف استحکام حاصل ہو گیا بلکہ 21 اکتوبر 1943 کو انڈین انڈیپنڈنس لیگ نے باقاعدہ طور پر آزاد حکومت ہند کے قیام کا اعلان کر دیا۔سسر کمار بوس کے مطابق ’سبھاش بابو نے آزاد حکومت ہند کے سربراہ مملکت اور وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ یہ ایسا جذباتی لمحہ تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑے اور آنسو ان کے گالوں پر بہنے لگے۔

اگلے روز دنیا کے نو ممالک، جن میں جاپان، برما اور جرمنی شامل تھے، نے اس حکومت کو تسلیم کرلیا اور اس سے اگلے روز 23 اکتوبر 1943 کو رات 12 بج کر پانچ منٹ پر اس آزاد حکومت ہند نے برطانیہ اور امریکا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔نیتا جی نے آزاد ہند فوج میں ہندوستان کی جانباز خواتین پر مشتمل ایک دستہ بھی قائم کیا جس کا نام رانی جھانسی رجمنٹ رکھا گیا۔چھ نومبر 1943 کو جاپان نے انڈیمان اور نکوبار کے جزائر آزاد حکومت ہند کے حوالے کر دیے جن کا نام بدل کر بالترتیب شہید اور سوراج دویپ رکھ دیے گئے۔ 29 دسمبر 1943 کو سبھاش بابو نے آزاد ہند کی عبوری حکومت کی اس اولین قلمرو کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

جنوری 1944 میں سبھاش بابو نے اپنا ہیڈ کوارٹر سنگاپور سے رنگون منتقل کر دیا جہاں سے ہندوستان کی سرحد پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندیاں شروع کر دی گئیں اور چار فروری 1944 کو برما کی سرحد سے پہلی مرتبہ ہندوستان پر حملہ کیا گیا۔تقریباً 43 دن کی جنگ کے بعد 18 مارچ 1944 کو ہندوستان کے صوبے آسام کے کئی مقامات پر آزاد ہند فوج کا قبضہ ہو گیا اور 19 مارچ 1944 کو ہندوستان کی سرزمین پر پہلی مرتبہ آزاد ہندوستان کا پرچم لہرایا گیا۔مگر بدقسمتی سے یہی وہ زمانہ تھا جب دوسری عالمی جنگ کے دوران بحرالکاہل میں جاپانیوں کی پسپائی کا آغاز ہوا اور ان کی اس شکست نے انھیں آزاد ہند فوج کی امداد سے ہاتھ اٹھا لینے پر مجبور کر دیا۔

چار ماہ بعد آزاد ہند فوج کو بھی پسپا ہونا پڑا اور ان کے مفتوحہ علاقوں پر دوبارہ مقامی ہندوستانی فوج کا قبضہ ہو گیا۔آزاد ہند فوج برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ایک درخشاں باب ہے مگر اس باب کا انجام بڑا المناک ہوا۔       


#Subhas Chandra Bose #AreeBTLM #naushadali19881

بشکریہ : بی ۔بی۔سی۔ نیوز اردو

انتخاب:

نوشادعلی ریاض احمد۔

25 Nikash 1 to 8

 25 نکات : جماعت اول سے ہشتم تک :

👆طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں کافی مددگار ہونگے انشاءاللہ ۔

یہاں سے آپ PDF ڈانلوڈ کریں۔↓

جماعت اول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download 

جماعت دوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت سوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت چہارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت پنجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت ششم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت ہفتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download

جماعت ہشتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Download



savitribai phule

 ساوتری بائی پھلے : عظیم شخصیت۔۔

پہلی مسلمان استاد فاطمہ شیخ تھیں۔

آج تک وہ لوگ دنیا میں بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں ایسے کام کیے ہیں جن سے پوری انسانیت کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ ان کےکام واقعی قابل تعریف ہیں۔ ان کے کارناموں  کی وجہ سے دنیا انہیں ابھی تک نہیں بھولی اور انہیں ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔جس میں چھترپتی شیواجی مہاراج، ایم گاندھی، ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا عبدالکلام آزاد، سر سید احمد خان اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نمایاں شخصیات میں سے ہیں۔جنہیں ہم وقتاً فوقتاً یاد کرتے رہتے ہیں۔ان تمام عظیم انسانوں میں صرف مرد ہیں۔ ملک کی ترقی میں، ملک کے انقلاب میں خواتین کا بھی اتنا ہی حصہ اور گراں قدر حصہ ہے جتنا کہ مردوں کا۔جس طرح مردوں کا  سماج میں حصہ ہے اتنا ہی  خواتین کا ہے اسی طرح معاشرے کی بہتری، ان کی فلاح و بہبود میں ان کا بھی بہت بڑا اور انمول حصہ ہے۔ اور انہوں نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دانشمندی، ذہانت اور معیار کو ثابت کیا ہے۔ جس میں قوم کی ماں جیجاؤ، کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے، کلپنا چاولہ، جھانسی کی ملکہ لکشمی بائی، ڈاکٹر آنندی بائی جوشی، سینٹ مدر ٹریسا، پدم شری سندھوتائی سپکل، رانی رضیہ سلطانہ، بیگم حضرت محل اور فاطمہ شیخ کے نام سرفہرست ہیں۔

ساوتری بائی پھولے، ہندوستان کی پہلی ٹیچر، پہلی ہیڈ مسٹریس، سماجی کارکن، کرانتی جیوتی گیان جیوتی ساوتری بائی پھولے کا یوم پیدائش۳ جنوری ۱۸۳۱ء  ہے۔ جنہوں نے حقوق نسواں اور خواتین کی تعلیم کے لیے انمول خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ بہت مقبول شاعرہ بھی تھیں۔

جنہوں نے اس کے مقدس ترین اور سماجی طور پر مفید اور تعمیری کام میں اس کی مدد کی۔ فاطمہ شیخ کے بھائی عثمان شیخ نے بھی اپنا نام ساوتری بائی پھولے اور مہاتما پھولے کو اسکول کے لیے دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب سماج ساوتری بائی پھولے اور مہاتما پھولے کی تعلیم کے خلاف تھا۔

اس وقت فاطمہ شیخ اور عثمان شیخ دونوں بھائی بہنیں علم کی فراہمی کے کام کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر حتیٰ کہ ہر سطح پر ان کی مدد اور تعاون کرتے رہے ہیں۔ اور ساوتری بائی، جیوتیبہ، عثمان شیخ اور فاطمہ شیخ کی فعال شرکت اور انمول شراکت کے ساتھ ہندوستان میں لڑکیوں کا پہلا اسکول شروع کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کی قریبی دوست فاطمہ شیخ خواتین اور بچیوں کو علم سکھا کر انہیں تعلیم دیتی تھیں اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پہلی مسلمان خاتون استاد فاطمہ شیخ تھیں۔

انہوں نے ساوتری بائی پھولے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر خواتین کی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن افسوس اور المیہ یہ ہے کہ آج ہم صرف جان جیوتی کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے کو جانتے ہیں۔ درحقیقت، یہ اتنا ہی ضروری ہے کہ ہم ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر فاطمہ شیخ کا نام لیں، ان کی عزت کریں، ان سے اظہار تشکر کریں، اور ان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں۔

ان کی شراکت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اگر انہوں نے خواتین کی تعلیم کے لیے حقیقتاً کچھ نہ کیا ہوتا، ان کی شراکت کے بغیر، خواتین کی تعلیم میں ان کے حصہ کے بغیر، ان کی شراکت کے بغیر، ان کا نام تاریخ میں ساوتری بائی پھولے کے ساتھ کبھی درج نہ ہوتا۔ لیکن آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی ساوتری بائی پھولے کا خواتین کی تعلیم کا ذکر آتا ہے تو وہ فاطمہ شیخ کا عکس ہوتا ہے۔

پھولے کی تصویر بہت کھوکھلی اور پھیکی لگتی ہے۔ ہمیں بس اپنی سوچ بدلنی ہے اور فاطمہ شیخ کے ساتھ مل کر جان جیوتی ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر تاریخ کی دھول جھاڑ کر اسے آج کے نصاب کے آئینے میں دکھانا ہے۔

اکہ فاطمہ شیخ اور ان کے بھائی عثمان شیخ کو ان کے حقوق اور حقوق ملیں، ان کے ساتھ ان کے اعمال اور قربانیوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ہم ان دونوں کی محنت اور قربانی سے کبھی انکار نہیں کر سکتے، جس طرح تمام عظیم انسانوں کا تاریخ میں ایک اہم مقام ہے، اسی طرح یہ دونوں فاطمہ شیخ اور عثمان شیخ بھی بہت بلند مقام کے مستحق ہیں۔

ان کی تاریخ بھی سنہری حروف سے لکھی جانی چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے کہ ہم انہیں ایک منفرد عمومی اہمیت دیں اور ان کے شاندار اور نمایاں کارناموں کو تاریخ میں درج کریں۔ کیونکہ ہماری قوم ایک ایسی قوم ہے جو تنوع کے ذریعے اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اور یہاں ہمارا پختہ یقین ہے کہ ہر انسان کو معاشرے کے ہر عنصر کے لیے انصاف ملتا ہے۔



Jane kahan gaye wo din

ہمارا بھی ایک زمانہ تھا :    

پانچویں جماعت تک ہم  سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرتے تھے ، یوں کیلشیم کو دور کرنے کی ہماری

 گویا پیدایشی عادت تھی ۔۔ ۔۔

پاس یا  ناپاس  ۔( fail)  ہمیں صرف یہی معلوم تھا ، کیونکہ فیصد۔ ( percentage  )سے ہم لا تعلق تھے   

ٹیوشن ۔( tuition  ) شرم ناک بات تھی ، کیونکہ کند ذہن بچوں کے لئے اضافی توجہ یعنی کہ ٹیوشن یہی عام طور پر رائج رہا۔

کتابوں میں پھولوں کی پنکھڑی , یا مور کا پنکھ رکھنے سے ہم ذہین  ہوشیار ہو جائنگے ، یہ ہمارا  اعتقاد بھروسہ تھا۔

کپڑے کی تھیلی میں کتابیں اور بیاضیں سلیقہ سے رکھنا ہمارے سگھڑ پن اور با صلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔

ہر سال نئی جماعت کے کتابیں ، بیاضیں پر کور (cover)چڑھانا جیسے سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔

والدین ہمارے تعلیم کے تئیں زیادہ فکرمند نہ ہوا کرتے تھے ، اور نہ ہی ہماری تعلیم ان پر کوئی بوجھ تھی ، سالہاسال ہمارے

 والدین ہمارے اسکول کی طرف رخ بھی نہیں کیا کرتے تھے، کیونکہ

 ہم میں  ذہانت(talent )جو تھی۔

ایک دوست کے سائیکل کی سیٹ کے آگے تو دوسرا پیچھے کیریئر پر بیٹھ کر ہم نہ جانے کتنے راستوں پر بھٹکے ہیں کہ آج یاد بھی نہیں

اسکول میں مار کھاتے ہوئے ، یا پیر کے انگوٹھے پکڑے ہمارے  درمیاں کبھی انا۔( ego ) بیچ میں آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوا

 کہ سچ پوچھو تو انا کیا ہوتی ہے یہی معلوم نہ تھا مار کھانا یہ ہمارے  روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی، مارنے والا اور مار کھانے والا

 دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔

    ہم ہمارے والدین سے کبھی زبان سے یہ کہہ ہی نہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے کیونکہ I love you یہ کہنا تب رائج

 نہ تھا   اور  ہمیں معلوم بھی نہ تھا ، کیونکہ تب محبتیں زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھیں بلکہ حقیقی ہوا کرتی تھیں، رشتوں میں بھی کوئی

 لگی بندھی نہیں ہوا کرتی تھی  بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے ۔

سچائی یہی ہے کہ ہم ( ہم سے مراد ہماری عمر - یا زائد عمر کے سبھی افراد ) اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے ، ہمارا زمانہ خوش بختی

 کی علامت تھا ، اسکا موازنہ آج کے زندگی سے کر ہی نہیں سکتے ۔

جانے کہاں گئے وہ دن۔۔۔۔۔

انتخاب

@N@R

نوشاد علی ریاض احمد



N@R@

نوشاد علی ریاض احمد

Kamandal se Carrybag tak

کمنڈل سے کیری بیگ تک 

قلمکار:۔ نعیم سلیم ، مالیگاؤں ، ناشک مہاراشٹر

پلاسٹک کے اس دور میں اگر ہم بچوں سے پوچھیں کہ کمنڈل کسے کہتے ہیں؟ تو ممکن ہے وہ بتادیں لیکن زمانے کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر دس سال بعد کا تصور کریں اور اُس وقت کے کسی  بچے سے پوچھیں، بیٹا کمنڈل کسے کہتے ہیں..؟ تو وہ حیرت سے ہمارا منہ تکے گا کہ کیا احمقانہ  سوال پوچھا ہے۔بچہ زیادہ چالاک رہا تو کہہ دیگا کہ جس طرح مراٹھی لفظ منڈل ہے۔اسی طرح کمنڈل بھی ہوگا.......

ماضی قریب میں صبح سے رات تک گلی محلے سڑکوں پر کمنڈلوں کی بہاریں نظر آتی تھیں۔ناشتے کے مختلف آئٹم، چائے،دودھ،تیل وغیرہ،اسی طرح رات میں کھاناولوں پر پارسل لےجانے کیلئے کمنڈلوں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔۔۔کیا چھوٹے کیا بڑے سبھی بڑی شان سے کمنڈل ہلاتے ڈُلاتے مختلف اشیاء لاتے لے جاتے تھے۔بچوں کے ہاتھوں  میں کوئی کھیلنے والی چیز نہ ہو تو ایک عدد کمنڈل ضرور نظر آتا تھا۔۔۔۔۔

پاس پڑوس میں ایک دوسرے کے تئیں خلوص اور محبت کی غالباً سب سے بڑی علامت یہی کمنڈل ہوا کرتا تھا۔ایک گلاس سے بھی چھوٹی سائز سے لیکر ایک جگ یا کلسی کی سائز تک کے کمنڈل دستیاب رہا کرتے تھے۔ایک گھر میں دوسے زائد کمنڈل بھی کم پڑتے تھےکیونکہ افراد سے زیادہ کمنڈل متعلقین کے گھروں میں گردش کیا کرتے تھے۔۔۔۔

گھر میں اچھا پکوان بنا جھٹ بڑے بوڑھے بہن بیٹیوں کے گھر کمنڈل میں پہنچانے کا انتظام کرتے۔۔۔کمنڈل کی قسمت کا ستارہ  اس وقت چمکتا  جب لڑکی لڑکے کا رشتہ پکاّ ہوجانے کے بعد مختلف پکوان (زبردستی ہی سہی ) طرفین  کے گھروں میں پہنچاتے اور جن کے یہاں بھرا کمنڈل آتا اسے خالی واپس نہ کرتے۔اسی کمنڈل میں اچھا پکوان بنا کر یا کم ازکم مٹھائی وغیرہ رکھ کر واپس کرتے۔اس رسم سے نجانے کتنے بچوں کو چھپ چھپاکر مٹھائی کھالینے کا موقع میسر آجاتا تھا۔  خیر، اس  سے کمنڈلوں کی اہمیت سمجھی جاسکتی ہے۔ہوسکتا ہے اب بھی کچھ گھرانوں میں کمنڈل کا رواج محض اس رسم کو نبھانے کیلئے چل  رہا ہوگا۔ارے بھئ عوام کی اکثریت سادہ کھانا کھاتے اور پکاتے تھے۔ایسے میں مرغن غذائیں کمنڈل میں آجائیں تو بھلا کون خالی واپس کرے۔اب مرغن غذائیں عام ہیں تو کیا کوئی بھیجے۔

ایک دوسرے کو کمنڈل دینے میں لوگوں کے کترانے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کمنڈل ایک سے دوسرے،دوسرے سے تیسرے چوتھے گھر گردش کرتا تھا اور جب اسکے مالک کو ضرورت ہوتی تو لیجانے والے گھر کے بڑے یا بچے دو تین گھروں کا چکر لگاتے تب وہ ہاتھ آتا۔۔۔دوسری وجہ اسکا تبدیل ہوجانا یا اسکے ڈھکن کا بدل جانا تھا۔اسلئے لوگ جتا کر دیتے تھے کہ کام ہوجائے تو فوراً واپس کردینا۔ڈھکن تبدیل نہ ہو نے دینا وغیرہ....

ایک موقع ایسا آتا تھا کہ لوگ اپنا جائز و ناجائز غصہ کمنڈلوں پر اتارتے تھے۔جی ہاں شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا ختم ہوجاتا تو یہ چرچا سننے میں آتی، طبیعت سے کمنڈل چل گیا،اسلئے کھانا گھٹ گیا۔۔۔۔اور واقعئ کچھ ایسے بھی لوگ تھے جن کے نام سے کھانا کمنڈلوں میں جاتا اور وہ لوگ شادی کے منڈپ میں آکر کھاتے تھے اور کمال تو یہ ہیکہ عوام میں  بدنام ہوجانے کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے۔۔۔چنانچہ سارا کا سارا الزام کمنڈلوں کے سر جاتا ہوا دیکھ کر ہمارے ذمہ داروں نے فیصلہ کیا اور اس حکم کو عام کردیا کہ شادی کی دعوت میں کمنڈل قطعی نہ لائیں۔جو مجبور ہیں انکے لئے علاحدہ سے پکا لیں۔۔۔۔

کمنڈل کے اس سنہری دور کا خاتمہ پلاسٹک کیری بیگ کی وجہ سے ہوا۔جب سے کیری بیگ مارکیٹ میں آئی  کمنڈل فیکٹریوں کا حال پتہ نہیں کیا ہوا مگر ہم کمنڈل دیکھنے سے ترس گئے۔ اب گھر کے کسی کونے میں لٹکا دکھائی دیتا ہے ۔روز مرہ استعمال کی اکثر چیزیں دودھ ،چائے،کافی،تیل،شربت،کرانہ،میڈیکل،اسٹیشنری وغیرہ کے تمام آئٹمس  کیری بیگ میں دستیاب ہیں۔

کیری بیگ اتنے کام کی چیز ہیکہ چندسال کا بچہ بھی جانتا ہے اور چند ماہ کا بھی کہ ضرور اسمیں مٹھائی وغیرہ ہوگی کیری بیگ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہمارے عزیز دوست معروف ادیب  طاہر انجم صدیقی صاحب نے برسوں پہلے کیری بیگ  عنوان سے ایک افسانہ لکھ ڈالا تھا۔۔۔۔

بھلے ہی دوسری چیزوں میں انسان کالے رنگ کو نظر انداز کرتا ہے۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔

 کیری بیگ کے معاملے میں اکثر دوکانداروں سے کالے کلر کی فرمائش کرتا ہے۔رنگین کیری بیگ اور کالی کیری بیگ میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم جن چیزوں کو پردے میں  لیجانا چاہتے ہیں تو انہیں کالی کیری بیگ اور جنھیں بتاکر یا جتاکر  لیجانا چاہتے ہیں تو رنگین یا سفید کیری بیگ میں تاکہ غلط فہمی کی کوئی  گنجائش باقی  نہ رہے۔۔۔۔۔۔

کیری بیگ میں لیجانے والی وزنی چیزیں اکثر گرجاتی تھیں اور انسان پلاسٹک کا ہینڈل ہاتھوں میں تھامے بڑی حسرت سے گری ہوئی شئے دیکھا کرتا تھا یہ پلاسٹک کمپنیوں کو نہ دیکھا گیا تو انہوں نے کافی جاڑی اور مضبوط تھیلیاں بنانا شروع کیں جسمیں وزن دار اشیاء رکھی جاسکتی ہیں۔اسلئے کچھ لینے کیلئے اب گھر سے کمنڈل ودیگر برتن لے کر نکلنا شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ہر چند کہ کیری بیگ کا استعمال صرف اور صرف گندگی بڑھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔سڑکوں،گلیوں میں جابجا اڑتی پھرتی کیری بیگ گٹروں میں جائے تو گٹر بلاک کردے۔مگرہمیں اس سے کیا ؟ ہم تو کارپوریشن اور عوامی نمائندوں کو ہی گندگی کا ذمہ دار کہیں گے۔۔۔۔

کبھی کبھی میں مشہور زمانہ قوالی،  ‘‘چاند کو چھونے والے انساں دیکھ تماشا لکڑی کا  ’’ سنتا ہوں تو دل بے اختیار چاہتا ہے کہ عصر حاضر کا کوئی شاعر  اس کے جواب میں  ‘‘ چاند کو چھونے والے انساں دیکھ تماشا پلاسٹک کا ’’  عنوان سے لکھے۔میرے ہم مزاج دوست ادیب وشاعر فرحان دل صاحب ہی لکھ دیں تو اسے لطیف حیراں صاحب سے پڑھواکر جھوم لیں گے۔۔۔

ایک کیری بیگ کا ہی کیا رونا آجکل  روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء پلاسٹک کی بن رہی ہیں اور یہ سب یوز اینڈ تھرو فارمولے پر بن رہی ہیں۔اسلئے جدھر نظر اٹھاؤ ادھر پلاسٹک نظر آتی ہے۔۔۔۔پلاسٹک کی خوبی یا خامی ہے کہ وہ جلد سڑتی گلتی نہیں ہے اسلئے جابجا کچروں کا ڈھیر،پلاسٹک کا انبار نظر آتا ہے۔کاش اس کے نعم البدل کے طور پر پھر سے کمنڈل کا دور نہ بھی آئے تو کم ازکم پلاسٹک کا استعمال محدود ہوجائے تاکہ گندگی پر کنٹرول ہوسکے۔۔۔۔۔۔(گزشتہ دنوں حکومت مہاراشٹر نے پلاسٹک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اندرون تین ماہ پرانا اسٹاک ختم کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگ جائے گی. پھر شاید کمنڈل نظر آنے لگیں)

Telegram link
https://t.me/AreeBTLM


HumShakal Alfaz(Similan)

 ہم شکل الفاظ:

اردو زبان کی یہ خوبی  ہے کہ کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا املا ایک جیسا ہوتا ہے ۔لیکن اعراب لگانے یا اعراب کے فرق کی وجہ سے اُن کے معنی بدل جاتے ہیں۔

ایسے ہی کچھ الفاظ  آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔







نوشاد علی ریاض احمد ۔
PDFیہاں سے ڈانلوڈ کریں۔←
ٹیلی گرام لنک 
https://t.me/AreeBTLM