Happy Labour Day (AreeB TLM)

ہم یوم مزدور کیوں مناتے ہیں؟؟؟

یوم   مزدور تاریخ کے آئینہ میں

یوں تو ہمارے ملک میں سال بھر درجنوں عالمی دن منائے جاتے ہیں اور کسی بھی عالمی دن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دن جو ہم مناتے ہیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے اور ہر سال اس دن ہمارے اسکول، کالج ، یونیوسٹیاں ،سرکاری دفاتر ، ادارے ، مارکیٹیں اور دکانیں غرض کہ تمام سرکاری ، نیم سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہوتے ہیں۔

 AreebTLM

شدت کی گرمی اور تیز دھوپ میں جلسے جلوس ریلیاں نکالی جاتی ہیں کیونکہ یہ محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ دہقانوں کا دن ہے، معماروں کا دن ہے ،کسانوں کا دن ہے اور مزدوروں کا دن ہے۔ تمام مزدور اس دن فیکٹریوں اور ملوں کو بند کرکے جلوس کی شکل میں سڑک پراُمنڈ آتے ہیں۔ پُر امن جلوس بھی ہوتے ہیں نعرے بازی بھی ہوتی ہے کہیں کہیں توسڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

یہ دن 1886میں شکاگو کے مقام پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے احتجاج کا نتیجہ ہے، اس موقع پر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مختلف پروگرام، تقریبات، سیمینارز کانفرنسز اور ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا جس میں ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک اداروں نے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا تھا۔

 عالمی وبا (کورونا)  مزدوروں کی  زندگیوں میں بہت بڑا بحران لے کر آئی  ہے  اور آج لیبر ڈے کے موقع پر ہزار ہا محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، کتنے سارے چھوٹے دھندہ کرنے والے اور روزانہ مزدوری کرنے والے محنت کش لاک ڈاون کی وجہ سے اپنے آبائی وطن واپس لوٹ گئے۔2020 میں کس طرح سے اور کن کن ذرائع کا استعمال کرے اپنے آبائی وطن گئے ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔ اخبارات اور شوشل میڈیا پر اس کے بہت سارے ویڈیو اور خبریں مل جائیں گی۔

  اس سرمایہ دارانہ نظام میں زندگیوں اور معاش کی کوئی ضمانت نہیں ہے، کووڈ 19 نے سرمایہ دارانہ نظام کی اصلیت واضح کر دی ہے

Labour Day

https://t.me/AreeB G.K
Naushad Ali
Naushad Ali


SYNONYMS

مترادفات : 
وہ الفاظ جو معنی میں ایک دوسرےسے ملتے جُلتے ہوں انہیں مترادف (ہم معنی الفاظ) کہا جاتا ہے۔
آپ یہاں سے PDF ڈانلوڈ کرسکتے ہیں↡ 
  1. آسمان ۔۔عرش۔۔فلک۔۔چرخ
  2. آنکھ ۔۔ چشم۔۔ دیدہ۔۔ عین
  3. آدمی ، بشر، انسان
  4. آگ ۔۔ آتش۔۔نار۔۔ اگنی
  5. آواز۔۔ صدا ۔۔ نوا۔۔ ندا
  6. آغاز۔۔ ابتداء۔۔ شروع۔۔ ازل
  7. آفتاب ۔۔ خورشید۔۔ سورج۔۔ مہر۔۔ شمس
  8. اعتماد۔۔ بھروسہ۔۔ تکیہ ۔۔ توکل
  9. انتقام۔۔ بدلہ ۔۔ قصاص۔۔ عوض
  10. بدن۔۔ جسم ۔۔ تن۔۔ جسد
  11. بارش۔۔ باراں۔۔ مینہہ
  12. پھل ۔۔ ثمر۔۔ میوہ
  13. پتھر۔۔ سنگ۔۔ حجر ۔۔ سل
  14. تاب ۔۔ طاقت۔۔ روشنی
  15. تلوار۔۔ تیغ ۔۔ شمشیر۔۔ سیف
  16. جنت۔۔ خُلد۔۔ بہشت۔۔ ارم
  17. جنگل۔۔ دشت۔۔ بیاباں۔۔ صحرا
  18. جان ۔۔ روح۔۔ دم۔۔زندگی
  19. چاند۔۔ ماہ ۔۔ مہتاب۔۔ قمر۔۔ بدر
  20. چراغ۔۔ دیا۔۔ بتی
  21. چمڑا۔۔ چرم ۔۔ کھال
  22. حکمت۔۔ فلسفہ۔۔ سائنس
  23. دل ۔۔ قلب۔۔ ضمیر۔۔ من
  24. دن ۔۔ روز۔۔ یوم ۔۔ نہار
  25. درخت۔۔ پیڑ۔۔ بوٹا۔۔ شجر۔۔ جھاڑ
  26. دُکھ۔۔ رنج۔۔ الم۔۔ غم
  27. دہائی۔۔ دس۔۔ عشرہ
  28. دولت۔۔ مال ۔۔ زر
  29. راستہ ۔۔ راہ ۔۔رہ۔۔ جادہ۔۔ راہگذر
  30. رحم۔۔ دیا۔۔ ترس۔۔ مروّت
  31. زندگی۔۔ حیات۔۔ زیست
  32. رحلت۔۔ فوت۔۔ موت۔۔ انتقال
  33. رونا۔۔ گریہ۔۔ نوح۔۔ آہ زاری
  34. باغ۔۔ چمن۔۔ گلزار۔۔ گلشن۔۔ گلستاں
  35. بیوی۔۔ زوجہ۔۔ اہلیہ۔۔ منکوحہ
  36. بادل ۔۔ ابر۔۔ سحاب۔۔ گھٹا
  37. پانی۔۔ آب۔۔ جل۔۔ ماء
  38. پاک ۔۔ صاف۔۔ مبّرہ
  39. پیالہ۔۔ ساغر۔۔ جام
  40. طور۔۔ کوہ۔۔ پہاڑ
  41. طور۔۔ اسلوب۔۔ انداز۔۔ ڈھنگ
  42. ظلم ۔۔ جفا۔۔ جور
  43. عزّت۔۔ وقار۔۔ آن۔۔ آبرو
  44. کلید۔۔ کنجی۔۔ چابی
  45. قلم ۔۔ پین
  46. لالچ۔۔ حرص۔۔ طمع
  47. غریب۔۔ نادار۔۔ محتاج۔۔ مفلس
  48. غلام۔۔ خادم۔۔ بندہ۔۔ ملازم
  49. فتح۔۔ نصرت۔۔ فوز۔۔ کامیابی۔۔ کامرانی
  50. فرش۔۔ چٹائی ۔۔ بستر
  51. فتنہ۔۔ فساد۔۔ قضیہ۔۔ بکھیڑا
  52. حکیم ۔۔ طبیب ۔۔ مسیحا۔۔ چارہ گر
  53. حیا۔۔ لاج ۔۔ غیرت۔۔ شرم
  54. خیرات۔۔ سخاوت۔۔ دان
  55. خط۔۔ رقعہ۔۔ نامہ
  56. خواب۔۔ سپنا۔۔ خیال
  57. دنیا۔۔ عالم۔۔ جہان
  58. فخر۔۔ ناز۔۔ شرف
  59. عاشق۔۔ فدائی۔۔ جاں نثار
  60. فعل ۔۔ عمل ۔۔ کام
  61. فکر۔۔ سوچ۔۔ تدبیر
  62. فہم ۔۔ دانائی ۔۔ شعور
  63. قابو۔۔ قبضہ۔۔ اختیار
  64. قاعدہ۔۔ دستور۔۔ آئین۔۔ قانون
  65. کوشش۔۔ جہد۔۔سعی
  66. لحد۔۔ قبر۔۔ گور۔۔ تربت
  67. لحاظ۔۔ ادب۔۔ خیال
  68. لمحہ۔۔ پل۔۔ دقیقہ
  69. گھر۔۔ مکان۔۔ خانہ
  70. زمین۔۔ارض۔۔ دھرتی
  71. ستارے ۔۔ انجم۔۔ ثاقب
  72. سانپ ۔۔ افعی۔۔ مار
  73. شور۔۔ غوغا۔۔ آواز
  74. صورت۔۔ چہرہ۔۔رُخ
  75. گرہن۔۔ کسوف ۔۔ خسوف
  76. گُن۔۔ہنر۔۔ خوبی۔۔ جوہر
  77. گناہ۔ جرم۔۔ پاپ۔۔ خطا
  78. گروہ۔۔ جماعت۔۔ حلقہ
  79. گھوڑا۔۔اسپ۔۔ راہوار
  80. موت۔۔ وقت۔۔ زمانہ۔۔عصر
  81. موتی۔۔ گوہر۔۔ لعل
  82. نقصان۔۔ زیاں۔۔ ضرر
  83. نیک۔۔ صالح۔۔ پارسا
  84. واقعہ۔۔ داستان۔۔ حکایت
  85. ہمیشہ۔۔ مدام۔۔ سدا
  86. قسمت۔۔ نصیب۔۔ بھاگ۔۔ تقدیر
  87. ہاتھ۔۔دست۔۔ ید
  88. عورت۔۔نساء۔۔ زن۔۔ جورو۔۔ خانم
  89. کسان۔۔ دہقان۔۔ کاشت کار
  90. انجان۔۔ نا آشنا۔۔ اجنبی۔۔ بیگانہ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
نوشاد علی ریاض احمد۔۔۔
https://teachingadds.blogspot.com






Lafzistan

  • اردو کی حیرت انگیزیاں۔۔
اردو  زبان میں ایسے کئی الفاظ موجود ہیں جن کو دائیں سے بائیں لکھا اور پڑھا جائے تو ایک لفظ اور اُسی لفظ کو بائیں سے دائیں جانب لکھا یا پڑھا جائے تو ایک نیا لفظ بن جاتا ہے۔ بچوں کے لیے یہ انتہائی کارآمد اور بہترین ذہنی آزمائش ہے۔
مثال:
ایک۔کیا۔۔۔انیس۔سینا۔۔۔اویس۔سیوا۔۔۔انور۔رونا۔۔۔اناج۔جانا۔۔۔اریب۔بیرا۔۔۔اوس۔سوا۔۔۔ارم۔مرا۔۔۔الگ۔اگلا۔۔۔بارش۔شراب۔۔۔بیج۔جیب۔۔۔بات۔تاب۔۔۔بابر۔رباب۔۔۔بابرا۔ارباب۔۔۔بل۔لب۔۔۔بار۔راب۔۔۔بٹ۔ٹب۔۔۔بک۔کب۔۔۔پان۔ناپ۔۔۔تاریخ۔خیرات۔۔۔تب۔بت۔۔۔تم۔مت۔۔۔ترازو۔وزارت۔۔۔تار۔رات۔۔۔جب۔بج۔۔۔جال۔لاج۔۔۔جرح۔حرج۔۔۔چین۔نیچ۔۔۔چوس۔سوچ۔۔۔حور۔روح۔۔۔دال۔لاد۔۔۔در۔رد۔۔۔درس۔سرد۔۔۔دم۔مد۔۔۔رانا۔انار۔۔۔راز۔زار۔۔۔روز۔زور۔۔۔ریت۔تیر۔۔۔ریشم۔مشیر۔۔۔رش۔شر۔۔۔روس۔سور۔۔۔رن۔نر۔۔۔ران۔نار۔۔۔راہ۔ہار۔۔۔روڈ۔ڈور۔۔۔روم۔مور۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سر۔رس۔۔۔ساکن۔نکاس۔۔۔سیر۔ریس۔۔۔سیپ۔پیس۔۔۔سب۔بس۔۔۔شور۔روش۔۔۔شوخ۔خوش۔۔۔شام۔ماش۔۔۔شک۔کش۔۔۔طرف۔فرط۔۔۔طول۔لوط۔۔۔عرش۔شرع۔۔۔فرح۔حرف۔۔۔قد۔دق۔۔۔قمر۔رمق۔۔۔کپ۔پک۔۔۔کون۔نوک۔۔۔کر۔رک۔۔۔گول۔لوگ۔۔۔گم۔مگ۔۔۔لاش۔شال۔۔۔لات۔تال۔۔۔لاگ۔گال۔۔۔لیکن۔نکیل۔۔۔ماما۔امام۔۔۔مرچ۔چرم۔۔۔موچ۔چوم۔۔۔مار۔رام۔۔۔من۔نم۔۔۔نام۔مان۔۔۔نچ ۔چن۔۔۔ناک۔کان۔۔۔نس۔سن۔۔۔نگ۔گن۔۔۔نار۔ران۔۔۔وہ۔ہو۔۔۔ہجو۔وجہ۔۔۔ہم۔مہ۔۔۔ہے۔یہ۔۔۔یک۔کی ۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ


26 January

 26 جنوری : یوم جمہوریہRepublic Day

26 جنوری 1950 یعنی یوم جمہوریہ وہ مبارک دن ہے جس دن ہندوستان کا آئین مکمل طور پر نافذ ہوا تھا  اور اس نے انگریزوں  کی حکومت کے دوران بنائے گئے ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘‘  1935 کی جگہ لی تھی۔26 نومبر ، 1949 کو ہماری آئین ساز اسمبلی نے آئین کے جس متن کو منظوری دی تھی وہ 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا  اور اس کے ساتھ ہمارے ملک میں جمہوریت کی بنیاد پڑی۔ لیکن اگر صحیح منعوں میں پارلیمانی جمہوریت کے آغاز کی بات کریں تووہ تب شروع ہوئی جب  13مئی  1952 کو پارلیمنٹ  وجود میں آئی۔



اس دن حکومت اس بات کو دہراتی ہے  اور عوام بھی یہ توقع رکھتی ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کو سماجی ، سیاسی  اور معاشی انصاف ملے گا۔انھیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اپنے اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہوگی۔سب کو روزگار کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔  

Takrar-e-Lafzi

 تکراری الفاظ :۔

  • اردو میں تمام اجزائے کلام ( اسم ، صفت ، ضمیر ، فعل ، تمیز فعل ) سوائے حروف عطف اور ربط کے ایک ساتھ مکرر استعمال ہو سکتے ہیں۔ الفاظ کے دہرانےسے ’’ ہر ایک‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ نیز اختلاف زور ، تاکید یا مبالغے کا اظہار ہوتا ہے۔
  • کبھی کبھی ہم کسی کام یا چیز کی خوبی بتانے والے لفظ کو ’’ دو دو‘‘ بار کہتے ہیں۔ اس سے بات میں زور پیدا ہوتا ہے۔
  • مثال :۔ اب ہم کچھ جملوں سے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
  1. چھوٹے چھوٹے : ۔ ہمیں چھوٹے چھوٹے لقمے کھانے چاہیے۔
  2. بڑےبڑے:۔   بڑی چیونٹیاں تو بڑے بڑے دانے اُٹھالیتی ہیں۔
  3. خوشی خوشی:۔   اول انعام پا کر میں خوشی خوشی گھر لوٹا۔
  4. دس دس:۔  دس دس شاخوں کو رسّی سے باندھ کر چار گٹّھے بنائیے۔
  5. ایک ایک :۔  پولیس نے ایک ایک گھر کی تلاشی لی۔

Paigam

پیغام 

’’ ہمارے ہندی کے کچھ دوست اُردو سے اب بھی خائف ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُردو اُن کی دشمن ہے اور وہ تیزی سے ترقی نہیں کرسکے گی۔ اس لیے کہ اُردو ایک کونہ میں گھُسی بیٹھی ہے۔ ہمارے یہ دوست بعض اوقات اُردو کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ میں اُن سے کہوں گا کہ اُردو کو اس طرح گِرا کر ہندی کو ترقی نہیں دے سکتے بلکہ اس طرح وہ ہندی کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوں گے۔‘‘   ۔۔۔  پنڈت جواہر لال نہرو  



“Some of our Hindi friends are still afraid of Urdu. They think that Urdu is their enemy and they will not be able to develop fast. Because Urdu is stuck in a corner. These friends of ours sometimes deny the existence of Urdu. I will tell them that they cannot develop Hindi by dropping Urdu in this way but they will harm Hindi in this way.”

" Pandit Jawahar Lal Nahru
 

Young Ones.

 

















FOR PDF Click👇


FOR YOUTUBE VIDEOS 👉⏩        CLICK


Urdu As a Subject Of Teaching


 اردو     بہ حیثیتِ مضمونِ تدریس



مضامین کی اہمیت ان کی ضرورت پر موقوف ہوتی ہے۔

ایک:  ضرورت برائے زندگی۔

دو:  ضرورت برائے تعلیم۔

تین:  ضرورت برائے ملازمت یا کاروبار۔

ان میں ہر ضرورت عام بھی ہوسکتی ہے اور خاص بھی۔ اس لحاظ سے چھ ضرورتیں ہوجاتی ہیں۔

۔۔ عام زندگی کے لیے    ۔۔ خاص زندگی کے لیے         ۔۔ عام تعلیم کے لیے

 خاص تعلیم کے لیے    ۔۔ عام ملازمت یا کاروبار کے لیے    ۔۔ خاص قسم کی ملازمت یا کاروبار کے لیے۔

مضامینِ تدریس پر اثرانداز ہونے والے مندرجہ ذیل اسباب ہیں:۔

ایک :۔  منازلِ تدریس

دو:۔  امتحان

تین:۔  وقت نامہ

چار:۔  نِصاب

پانچ:۔  اُستاد

چھ:۔  دوسرے مضامین سے تعلق

سات:۔  سرکاری اہمیت

آٹھ:۔  اَربابِ اقتدار کی نظر میں وقعت

نو:۔  عام دل چسپی

دس :۔  طریقِ تعلیم

اُردو ایک زبان ہے اور زبان کی تدریس میں زبان پر زیادہ زور ہونا چاہیے، لیکن زبان بہ حیثیت زبان کوئی ایسا موضوع نہیں کہ اسے دوسرے مضامین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ زبان کی اہمیت جہاں اور خوبیوں پر موقوف ہے وہیں یہ بھی بنیادی امر ہے کہ وہ زبان کہاں تک تمام علمی مضامین کے مسائل خوبی کے ساتھ ادا کرسکتی ہے۔ تدریس میں اس قسم کی اہمیت دکھانے کا اہتمام زبان کے سلسلے میں بہت مفید چیز ہے۔ یہی دوسری زبان سے ربط اور اشتراک کی ایک اعلا صورت ہے۔ اُردو کے نصاب میں دوسرے علوم و فنون کے مسائل کا تذکرہ ہو تو یہ ربط بہت مستحکم ہوگا۔

# Tadrees-e-Zaban-e-Urdu

Urdu as a Teaching Subject:


Subscribe to My Educational YouTube Channel 

Click Here👇

AreeB TLM


Teaching Of Mother Tongue

 مادری زبان سِکھانے کے اغراض و مقاصد:۔

مادری زبان سِکھانے سے پہلے اس کے اغراض و مقاصد کا تعیّن ضروری ہے۔

اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر معلم کو اس کی تدریس کے لیے اغراض و مقاصد نہ معلوم ہوں تو اس کی تعلیم وتدریس بے مقصد ، خام اور فضول ثابت ہوگی۔ مادری زبان ایک فطری زبان ہے۔

بقول خواجہ غلام السیدین: ــ بچہ اِسے اپنی ماں کے دودھ کے ساتھ پیتا ہے۔

اغراض و مقاصد:۔

ایک ۔۔ بچوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اُبھارنا۔۔ بچہ اپنے خیالات کا بہتر اظہار صرف اپنی مادری زبان ہی میں کر سکتا ہے۔

دو۔۔ طلباء کو ذہنی اور دماغی طور پر آزاد کرنا۔۔ مادری زبان کے ذریعہ بچہ اپنی زندگی کے متعلق آزادی سے سوچ سکتا ہے اور آزادی سے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔

تین۔۔  ادبی وثقافتی ورثہ کی ترسیل۔۔

چار۔۔  تہذیب و تمدّن ، فنون لطیفہ اور تجارت و صنعت کی طرف بچوں کو مائل کرنا اور اُن کی خوبصورتی اور ترقی میں اضافہ اور تکمیل۔

پانچ ۔۔  بچوں کے حسین و جمیل اور عمدہ تصورات و تفکرات۔ فائن سینٹی مینٹ کو بڑھاوا دینا۔

چھ۔۔  طلباء میں نجی ، انفرادی ، سماجی اور قومی زندگی سے دلچسپی پیدا کرانا۔

سات۔۔  مادری زبان کے ذریعے دوسری زبان کے علوم و فنون کو حاصل کرنا یا سمجھنا۔

آٹھ۔۔  بولنا، پڑھنا، لکھنا ، تحریر و تقریر میں صلاحیت، قواعد پر عبور، زبان میں سلاست و سادگی، قوتِ مشاہدہ ، فکر ونظر کی نشو ونما اور خیالات کا بہتر اظہار۔

نو۔۔  ایک اچھا شہری بنانے کے علاوہ عمدہ لیڈر شپ کی تربیت اور انفرادی صلاحیتوں کا مالک بنانا۔


Mushtarik Alfaz Mukammal

 مشترک الفاظ

ہم معنی ایسے الفاظ جو ایک ساتھ لکھیں یا بولیں جاتے ہیں مشترک الفاظ کہلاتے ہیں۔

آپ یہاں سے PDFڈانلوڈ کر سکتے ہیں۔↡

Download

Subscribe To My Educational You tube Channel 

👇   Click Here

AreeB TLM






#AreeB TLM

Principles of Language Teaching

اسلام علیکم دوستوں۔ 

تدریس ِزبان ایک فن ہے۔ جس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ چند اصول وضع کیے گئے ہیں۔ کامیاب مدرس کے لیے ان اصولوں پر کار بند ہونا ناگزیر ہے۔زبان کی تدریس کے لیے بنیادی طور پر دو قسم کے اصول ہیں۔ کُلّی اور جُزوی۔ کُلّی اصول جُزوی اصول سے زیادہ اہم ہیں۔

کلّیات کی مختلف صورتیں ہیں۔

الف: رہنما اُصول

               تدریس ِزبان کے لیے ضروری ہے کہ

۔۔۔ مقصدِ تدریس کا تعین کیا جائے۔

۔۔۔ طلباء کی فطرت اور ماحول کا مطالعہ کیا جائے۔

۔۔۔  مقصد کے مطابق نصاب ِ زبان کا تعین کیا جائے۔

۔۔۔  مدّتِ تدریس اور وقت نامہ کے لحاظ سے زبان کی تقسیم کی جائے۔

۔۔۔  اسباق کی نوعیت کو پہلے سے جانچ لیا جائے۔

۔۔۔  سبق کے متعلق پہلے سے اشارات تیار کر لیے جائیں۔

ب: بنیادی اُصول

بنیادی اُصول وہ ہیں جن پر تدریسِ زبان کا اساسی انحصار ہے۔ ان اصولوں کا اثر تدریسِ زبان کے سلسلے میں ہمہ گیر ہے۔

۔۔۔  طلباء کے عمل اور ان کی ذاتی سعی پر زیادہ زور دیا جائے۔

۔۔۔  تدریسِ عمل کو روز مرّہ زندگی سے خاص طور پر مربوط کیا جائے۔

۔۔۔  جہاں تک ہو سکے مقرونیت یعنی اشیائے محسوسہ ، نمونوں ، تصویروں ، خاکوں ، واقعات اورمثالوں کے ذریعے موضوع تدریس کا تصور طلباء کو ذہن نشین کرایا جائے۔

۔۔۔  تدریسِ زبان کے ہر اقدام میں زبان پر توجہ مرکوز رہے۔

۔۔۔  اجتماعیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع پیدا کیے جائیں کہ مل کر جماعت کام کرے۔

۔۔۔  انفرادیت یعنی تدریسِ زبان میں ایسے مواقع مہیا کئے جائیں کہ طلباء انفرادی طور پر عمل پیرا ہوں۔

ج: اقدامی اُصول

۔۔۔  معلوم سے نامعلوم کی طرف۔

۔۔۔  آسان سے مشکل کی طرف۔

۔۔۔  غیر معیّن اور غیر واضح سے معیّن اور واضح کی طرف۔

۔۔۔  مقرون سے مُجّرد کی طرف۔

۔۔۔  خاص سے عام کی طرف۔

۔۔۔  منطقی تدبیر اور نفسیاتی ترتیب کا لحاظ۔

د: تدبیری اُصول

تدبیری اُصول وہ ہیں جن سے تدریس کو مؤثر ، واضح اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تدابیر میں سوالات ، جوابات ، توضیحات ، گھر کام ، درسی کُتب ، خاموش مطالعہ ، کُتب خانہ ، قصہ گوئی ، تمثیل اور سمعی و بصیری تدابیر ، مثلاً گراموفون ، فلم ، ریڈیو ، موبائیل ، انٹرنیٹ ، یوٹیوب ، تعلیمی ایپس وغیرہ شامل ہیں۔

#Tadris -e- Zaban -e- Urdu

Ism-e-Jama

ISME - JAMA اسم جمع:۔

وہ اسم جو اشخاص یا چیزوں کا مجموعی نام ہو ’’  اسمِ جمع ‘‘ کہلاتے ہیں۔












Jama ul Jama

 جمع الجمع:۔

بعض اوقات اسم کی جمع بنا کر پھر اُس کی جمع بنا لیتے ہیں اُسے جمع الجمع 

کہتے ہیں۔











#Jama ul Jama #Areebtlm #naushadali19881

Top queriesClicksImpressionsPosition
jama ul jama in urdu