BAS EK AUR "Reels" (Short Videos)

 میرا نام ریل (Reel) ہے۔

کچھ لوگ مجھے شارٹ ویڈیو کہتے ہیں، کچھ اسٹیٹس، کچھ کلپ، کچھ کانٹینٹ اور کچھ تو محبت سے مجھے’’ بس ایک اور‘‘ بھی کہتے ہیں۔ میں ایک چھوٹی سی چیز ہوں، بہت چھوٹی لیکن میرا اثر اتنا گہرا اور طاقتور ہے کہ میں نے بڑے بڑے لوگوں کی نیند، سکون، پڑھائی، وقت، ڈیٹا، بیٹری اور کئی معاملات میں تو خودداری بھی چھین لی ہے۔ میں جدید دور کی وہ جادوئی بیماری ہوں جو آنکھوں سے شروع ہو کر دماغ تک پہنچتی ہے، پھر سے کر انگلیوں کو حرکت دیتی ہے، اور آخر میں وقت غائب کر دیتی ہے۔ میرے ظہور سے دنیا میں ایک نیا کھیل شروع ہوا، ’’اسکرولنگ‘‘ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کھیل میں ہر عمر کے لوگ گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

میری پیدائش اسمارٹ فون کی دنیا میں ہوئی۔ شروع میں لوگ مجھے معصوم سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے چلو دو منٹ کیلئے کچھ مزے کے ویڈیوز دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن میں دل ہی دل میں ہنستی تھی،  کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ دو منٹ دراصل دو گھنٹے میں بدلنے والے ہیں۔ میں انسان کے دل و دماغ پر ایک خاص طریقے سے قبضہ کرتی ہوں۔

میں کبھی مزاحیہ کلپ بن کر آتی ہوں، کبھی رومانوی ڈائیلاگ کبھی ٹرینڈ نگ گانا، کبھی موٹیویشنل اسپیچ ، کبھی کھانے کی ریسپی اور کبھی کرکٹ ہائی لائٹس، یعنی میں ہر انسان کے مزاج کے مطابق بھیس بدلنے میں ماہر ہوں۔ میری سب سے بڑی چالا کی یہ ہے کہ میں انسان کو ہر بار یہی یقین دلاتی ہوں ” یہ والی آخری ہے‘‘۔ لیکن جیسے ہی وہ ایک ویڈیو ختم کرتا ہے، میں فوراً دوسرا پیش کر دیتی ہوں۔ پھر ایک اور پھر اس کے بعد ایک اور، یوں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ہے۔

سب سے پہلے میں نے طلبہ کو اپنا شکار بنایا۔ کیونکہ یہ معصوم ہوتے ہیں۔ یہ روزانہ قسمیں کھاتے ہیں کہ آج سے پورا فوکس پڑھائی پر! لیکن جیسے ہی کتاب کھلتی ہے، میں فوراً نوٹیفکیشن بن کر ظاہر ہوتی ہوں آپ کیلئے نئی ریل تیار ہے؟ اور پھر ان کا دل پگھل جاتا ہے۔ طلبہ کہتے ہیں بس پانچ منٹ دیکھ کر پڑھنا شروع کرتا ہوں ۔ اب نہیں معلوم کہ دنیا کے کون سے کیلنڈر میں پانچ منٹ، تین گھنٹے کے برابر ہوتے ہیں۔

میری حکومت صرف طلبہ پر نہیں ہے۔ میں نے گھر یلو خواتین کو بھی اپنی دنیا میں خوب مصروف کر رکھا ہے۔ امی جان کہتی ہیں میں تو صرف ایک ریسپی دیکھ رہی تھی ۔ لیکن پھر ایک ریسپی سے سفر شروع ہو کر بریانی، کڑاہی ، میک اپ ٹپس ، کپڑوں کی ڈیزائننگ ، موٹیویشنل بیان ، مزاحیہ کلپس اور بچوں کی شرارتیں تک جا پہنچتا ہے۔ اور آخر میں وہ کہتی ہیں ارے! اتنی دیر ہوگئی ؟“

بچوں کا حال سب سے دلچسپ ہے۔ آج کل کے بچے میری بدولت الف، ب، پ سے پہلے سبسکرائب شیئر اور لائیک سیکھ رہے ہیں۔ میں نے انسانوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مکمل طور پر بدل دیئے ہیں۔ پہلے لوگ صبح اٹھتے تھے، منہ دھوتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، چائے پیتے تھے اور دن کا آغاز کرتے تھے۔ اب ترتیب کچھ یوں ہو گئی ہے آنکھ کھلی ، موبائل پکڑا نوٹیفکیشن دیکھے، ایک ریل، دوسری ریل ، تیسری ریل پھر اچانک یاد آیا کہ ابھی تو بستر سے اٹھنا بھی باقی ہے۔

میں نے دوستی کا انداز بھی بدل دیا۔ پہلے دوست مل کر قہقہے لگاتے تھے، اب دوست ایک ہی جگہ بیٹھے ہوتے ہیں لیکن سب اپنے اپنے موبائل میں مصروف ”میری رنگین دنیا میں کھوئے رہتے ہیں۔“ میں نے رشتوں میں بھی ایک نیا رنگ بھر دیا ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے سے کم اور ریلیز کے ذریعے زیادہ اظہار خیال کرتے ہیں۔

لیکن مجھے ماننا پڑے گا کہ میں صرف نقصان ہی نہیں پہنچاتی۔ بعض دفعہ فائدہ بھی دیتی ہوں۔ میری دنیا میں تعلیمی تخلیقی او ی تخلیقی اور سائنسی ویڈیوز بھی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر افراد مجھے ساتھی نہیں ، نشہ

بنا لیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں اتنی خطرناک نہیں،

جتنا انسان کا میرا بے قابو استعمال ہے۔

مضمون نگار، جے ایم سی ٹی پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں کمپیوٹر انجینئر نگ کی طالبہ ہیں۔

 شیخ فرحت مشتاق

#Taleemi Inquilab

Areeb TLM


No comments: