11 November

 مولانا ابوالکلام آزاد :

آج 11 نومبر..... ہندوستان کے عظیم سیاسی و ملی رہنما...بے باک صحافی و ادیب...لاجواب شاعر و نثر نگار ... بہترین عالم دین و مفسر قرآن...رہنمائے اعظم اور عبقری شخصیت " مولانا ابولکلام آزاد " کا یوم ولادت ہے

مولانا آزاد 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین پر پیدا ہوئے اور 69 سال کی عمر میں 22 فروری 1958 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے-

11 نومبر مولانا کے یوم ولادت کو قومی تعلیمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد محترم محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ مولانا کی والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں کے ہو کر رہے گئے-

1857ء کی جنگ آزادی کے دوران مولانا آزاد کے والد محترم کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی اور وہ کئی سال عرب میں مقیم رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد محترم سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف پندرہ سال کی عمر میں لسان الصدق نامی ماہنامہ جاری کیا جس کی تعریف مولانا الطاف حسین حالی نے بھی کی ہے ۔1912ء میں الہلال نامی اخبار نکالا۔1914 میں انگریزوں نے الہلال کی ضمانت ضبط کرلی تو مولانا نے البلاغ نامی اخبار جاری کیا-

مولانا بہ یک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال و بیباک  صحافی اور ایک بہترین منفرد مفسر قرآن تھے۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے اور تا حیات اس عہدے پر فائز رہے-

1920 میں دہلی میں مولانا کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات ہوئی جن کی قیادت میں تحریک عدم تعاون میں حصہ لینے کی پاداش میں انھیں گرفتار کر لیا گیا اور دوسال قید کی سزا ہوئی ۔ستمبر1923میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس منعقدہ دہلی کے صدر منتخب ہوئے اور پھر 1930 میں کانگریس کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے منتخب کیے جانے کے بعد گرفتار کرلیے گئے اور 1932 تک جیل میں ہی مقید رہے اس کے بعد 1937 میں کانگریس پارلیمنٹری ضمنی کمیٹی کے ممبر ہوئے اور 1940 میں کانگریس کے صدر چنے جانے کے بعد 1946 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

کانگریس پارٹی میں مولانا کا جو مقام و مرتبہ تھا وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کے رعب اور دبدے کا یہ عالم تھا کہ اچھے اچھوں کا پتا ان کے آگے پانی ہوتا تھا اور ولبھ بھائی پٹیل اور گووند ولبھ پنت جیسے بڑے کانگریسی رہنماؤں کی بولتی ان کے سامنے بند ہوجایا کرتی تھی۔

انتہا تو یہ ہے کہ جب وہ وزیر تعلیم تھے تو وزیر اعظم نہرو تک کو ان سے ملاقات کے لئے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا تھا.... نہرو کا کہنا تھا کہ

’’ مولانا کے علم اور مطالعے کے سامنے مجھے اپنا علم دریا کے سامنے پانی کا ایک قطرہ دکھائی دیتا ہے‘‘

عبدالرزاق ملیح آبادی نے لکھا ہے کہ ’’ ایک دن ایسا ہوا کہ کوئی پانچ بجے شام گاندھی جی اچانک آپہنچے، میں نے ان کا استقبال کیا اور دوڑ کر مولانا کو اس کی خبر کی۔ انھوں نے سنا، مگر جیسے سنا ہی نہیں۔ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ فرمایا  " ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس وقت ان سے ملنے سے معذور ہوں۔ کل نو بجے تشریف لائیں‘‘ عرض کیا ’’ غور فرمالیجیے، کیا یہی پیغام پہنچادوں؟‘‘ کسی قدر تیکھے تیوروں سے فرمایا ’’ اور کیا؟ گاندھی جی میں سرخاب کے پر تو نہیں لگے ‘‘

مولانا آزاد کی ہمہ جہت طلسماتی شخصیت کا احاطہ کرنا ناممکنات میں شامل ہے۔ وہ تحریروتقریر دونوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ حکمت و دانائی....سیاسی تدبر....دور اندیشی...دینی و دنیاوی معاملات میں یکساں دسترس..علم و ادب میں مہارت و کمال...زبردست قائدانہ صلاحیت.... ان تمام خوبیوں کا امتزاج مولانا کی شخصیت خاصہ ہے جو ہمارے آج کے رہنماؤں میں خال خال نظر آتا ہے.... ان کی یادداشت کا عالم یہ تھا کہ ہزارہا اشعار انھیں زبانی یاد تھے۔ ان کی بے مثال شخصیت قدیم و جدید اقدار کا حسین سنگم تھی۔ بصیرت کے اعتبار سے بھی مولانا کا کوئی ہمسر و ثانی نہیں تھا۔ اس حوالے سے ان ہی کے منہ سے نکلا ہوا یہ فقرہ دیکھیں.....

’’ تم لوگ پانی اور کیچڑ کو دیکھ کر بارش کا یقین کرتے ہو، میں اس کو ہوا میں سونگھ کرجان لیتا ہوں۔‘‘

بلاشبہ مولانا کا شمار ان چند برگزیدہ اور عبقری ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے عہد سے کہیں زیادہ بڑی تھیں...آج ہندوستان میں مسلمانوں کی جو تعداد ہے یہ حضرت کی ہی تگ و دو اور شاندار و معنی خیز تقاریر کا ہی نتیجہ ہے جو آپ نے تقسیم ہند کے موقع پر جامع مسجد کے زینوں سے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے سے روکنے کے لئے کی تھیں....

مولانا آزاد کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی جو مسلمانوں کی صحیح رہنمائی اور نمائندگی کرسکے....

اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے....آمین...



Youm-e-Atfaal

 ہم یومِ اطفال کیوں مناتے ہیں؟؟

یومِ اطفال۔

پوری دنیا میں بچوں کی تعداد ۲ء۲ بلین ہے ۔ یہی بچّے    آگے چل کر بڑے ہوتے ہیں اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچّے کافی اہمیت رکھتے ہیں اور جِسے سمجھتے ہوئے مختلف ممالک میں ، مختلف ایام میں یومِ اطفال مناتے ہیں۔

        ہر سال عالمی سطح پر ۲۰نومبر کو یومِ اطفال منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی پرورش ، صحت ، فلاح و بہبودی ، ان کا حقوق ، ان کی حوصلہ افزائی وغیرہ ہیں۔ ہندوستان میں یومِ اطفال کا ذکر کرتے ہی ہمیں فوراً  پنڈت جواہر لعل نہرو یاد آجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس خاص دن سے جواہر لعل نہرو کا نام جُڑا ہوا ہے۔ ۱۴ نومبر کو ہندوستان میں یوم ِ اطفال منایا جاتا ہے۔ ۱۹۶۴ء میں ان کے انتقال کے بعد سے اس تقریب کی شروعات ہوئی ۔ ۱۴نومبر ملک کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا یومِ پیدائش ہے اور انہیں بچوں سے بہت محبت تھی۔بچوں کے اسی لگاؤ کی وجہ سے نہرو جی کو بچّے  ‘‘ چاچا نہرو’’ کہہ کر پکارتے تھے ۔ یعنی بڑے پنڈت کہہ کر پکارتے تو بچّے چاچا نہرو۔۔۔



آج ان کے بچپن کا ایک واقعہ پڑھیں گے۔۔۔

والد کا ڈر

                         جواہر لعل نہرو کا شمار دنیا کے عظیم ترین انسانوں میں ہوتا ہے ۔ وہ بڑے بہادر ، رحم دل اور فیاض تھے ۔ ملک آزاد ہوجانے کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور 17 سال تک وزیراعظم رہے ۔ بچپن میں وہ اپنے والد سے کافی ڈرتے تھے ۔

 ایک مرتبہ اسی ڈر کی وجہ سے انہوں نے جھوٹ کہہ دیا تھا ۔ ان دنوں وہ کوئی پانچ چھ سال کے ہوں گے ۔ اپنے والد کے دفتر کے کمرہ میں جاکر انہوں نے دیکھا کہ میز پر دو فاؤنٹین پین رکھے ہیں۔ ایک ہی جگہ دو فاؤنٹین پین دیکھ کر ان کا جی للچا اُٹھا۔  سوچا کہ والد صاحب دونوں قلموں کو ایک ساتھ تو کام میں لا نہیں سکتے۔ ایک اُٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔ کچری سے ان کے والد نے آکر دیکھا تو ایک قلم غائب!

کچھ نہ پوچھو ، سارا گھر تلاش کیا جانے لگا ۔ سب سے پوچھ گچھ ہوئی۔

انہوں نے جواہر لال نہرو سے پوچھا، "ننھے! کیا تم نے میرا قلم لیا ہے؟"

ڈر کے سبب انہوں نے جواب دیا، "نہیں، پتاجی!"

 قلم کی تلاش جاری رہی۔ قلم مل گیا اور جواہر لال کا قصورثابت ہوا۔

اب تو پنڈت موتی لال جی کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی ۔ جی بھر کے بیٹے کی مرمت کی۔ مار کھا کر بیچارے اس دن ماں کی گود میں لیٹے رہے۔  سارے جسم میں مار کی وجہ سے تکلیف تھی ۔ کئی دن تک ماں دوا وغیرہ ملتی رہیں ۔ آئندہ ایسی حرکت سے توبہ کر لی ۔

https://t.me/AreeBTLM

3 Activity Book

 مشقی بیاض نمبر ۳

یہاں سے آپ PDF ڈانلوڈ کریں۔↡

Download





Reading Cards 2

 Animals And Fruits Charts









Telegram link =

https://t.me/AreeBTLM


Alif-Mohawrey

 الف سے شروع ہونے والے محاورے اور ان کے مطلب:

 

آ بندھنا : آکر بندھ جانا

آ پڑنا : گر پڑنا

آ پھنسنا : فریب میں آنا

آ پہنچنا : پاس آنا

آ لگنا : قریب تر ہونا

آ لینا : پاس آنا

آ نکلنا : اتفاقاََ چلے آنا

آب آپ ہونا : خفیف ہونا

آب آب کرنا : شرمندہ کرنا

آب آ جانا : چمک جانا

ۤآبرو پر حرف آنا : ذلیل ہونا

آبرو پر پانی پھیرنا : عزت گنوانا

آب و دانہ اٹھنا : مرجانا، منتقل ہونا

آب و دست لینا : طہارت کرنا

آب رکھوانا : سان رکھوانا ،صیقل کروانا

آب ہونا :رقیق ہونا

آباد رہنا :بسنا ،بھرا رہنا

آبرو اتارنا :ذلیل کرنا

آبرو بڑھانا : رتبہ بڑھانا

 

آپ کی کیا بات ہے :آپ کی بڑی ہمت ہے

آپ کاج مہاراج :اپنا کام سب سے بڑا کام ہوتا ہے

آپے سے باہر ہونا :بہت ناراض ہونا ، ہوش و حواس میں نہ رہنا

آتش زیر پا ہونا :بہت بےقرار ہونا

آج کل کرنا :وعدہ خلافی کرنا

آج مرے کل دوسرا دن :مرنے کے قریب ہیں ، وقت گزرنے میں دیری نہیں لگتی

آخرت سنوارنا :نیکی کے کام کرنا

آٹا گیلا ہونا :مصیبت میں پھنسنا

آٹے میں نمک کے برابر ہونا :بہت کم ہونا

آٹے کے ساتھ گھن پسنا : ایک کے سبب دوسرے پہ آفت آنا

آٹھ آٹھ آنسوں رونا : پھوٹ پھوٹ کر رونا

آدمی بنانا : تربیت کرنا

آداب بجانا : انکساری سے پیش آنا

آڑے آنا :مشکل میں مدد کرنا

آڑے ہاتھوں لینا : ڈانٹنا

آڑ میں شکار کھیلنا :دھوکا دینا

 

آس باندھنا : امید میں رہنا

آسرا کرنا : بھروسہ کرنا ، امید کرنا

آسمان پر اڑنا :غرور کرنا

آسمان میں چھید ہونا : بہت بارش ہونا

آسمان پر تھوکنا : نامناسب کام کرنا

آسمان ٹوٹنا : سخت مصیبت پیش آنا

آسمان سے تارے توڑ لانا : ناممکن کام کرنا

آسمان سے باتیں کرنا : بہت بلندی پہ پہنچنا

آسمان سر پہ اٹھانا : بہت شور مچانا

آستین چڑھانا : لڑنے کو تیار ہور ہونا

آستین الٹنا، آستین چڑھانا : کسی کام پہ مستعد ہونا

آسمان و زمین کا فرق ہونا : بہت بڑا فرق ہونا

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا : ایک مصیبت سے بچا دوسری میں پھنسا

آستین کا سانپ ہونا : چھپا ہوا دشمن ہونا

آستین میں سانپ پالنا : دشمن کو دوست سمجھنا

 

آغوش کھولنا : گود میں لینا

آفت کا پرکالہ :مصیبت برپا کرنے والا

آفت آنا : مصیبت کا بلا کا وارد ہونا

آفت توڑنا : ظلم کرنا

آفت ٹالنا : مشکل سے نجات پانا

آگ پانی کا بیر : دشمنی

آگ بگولا ہونا :بہت غصہ ہونا

آگ میں تیل ڈالنا : فساد کو بڑھانا

آگ اٹھانا : جھگڑا پیدا کرنا

آگ اٹھنا : فتنہ و فساد کا پیدا ہونا

آگ برسنا : شدت کی گرمی پڑنا

آگ پھانکنا : مبالغہ کرنا ، شیخی کرنا

آگ سے پانی ہو جانا : غصہ اترنا

آگا بھاری ہونا : راستے کا پر خطر ہونا

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ : ایک کام ادھورا چھوڑ کر دوسرا شروع کرنا

 

آم کے آم گٹھلیوں کے دام :دو فائدے ہونا

آن بان سے رہنا : ٹھاٹھ سے رہنا

آنکھیں بچھانا : عزت کرنا

آنکھ کا تارا ہونا :بہت پیارا ہونا

آنکھیں دکھانا : دھمکی دینا

آنکھوں میں خاک ڈالنا : دھوکہ دینا

آنکھ چرانا : کرتانا،شرمانا

آنکھ ملانا : مقابل ہونا

آنکھ بھر آنا : دکھی ہونا

آنکھ مارنا : اشارہ کرنا

آنکھ سینکنا : حسینوں کو گھورنا

آنکھ ٹیڑھی کرنا : بے مروت ہو جانا

آنکھ میں کھٹکنا : گراں خاطر ہونا ،ناگوار ہونا

آنکھوں پہ جگہ کرنا : تعظیم و تکریم کرنا

آنسوں پوچھنا : تسکین دینا

آئنہ دکھانا : حقیقت عیاں کرنا

آئینہ ہونا : عیاں ہونا روشن ہونا

آوے کا آوے بگڑا ہوا ہے : سب کے سب نالائق ہیں

 

ابتر ہونا : کام خراب ہونا

اپنا سا منہ لے کر رہ جانا : شرمندہ ہونا

اپنا مارے چھاؤں میں بٹھائے : غصہ میں بھی اپنا رحم کرتا ہے

اپنے منہ میاں مٹھو بننا : اپنی تعریف خود کرنا

اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا : اپنا نقصان خود کرنا

اپنے حق میں کانٹے بونا : اپنے لئے برائی کرنا

اپنے گریبان میں منہ ڈالنا : اپنی حالت پہ غور کرنا

اپنے ہاتھوں قبر کھودنا : اپنا نقصان خود کرنا

اپنی راہ لگنا : اپنا کام کرنا

اپنا الو سیدھا کرنا : اپنا مطلب نکالنا

اپنی ہی کہنا : اپنی باتوں کے آگے کسی کی کچھ نہ سننا

اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے : کمزور بھی اپنے گھر میں بہادر ہوتا ہے

اپنی کھال میں مست ہونا : اپنے حال میں خوش رہنا

اتنا سا منہ نکل آنا : کمزور ہونا

 

ادھر کی دنیا ادھر کرنا : حالت بدل جانا

افرا تفری مچنا : بھگڈر ہونا

اڑنگا لگانا : کسی ہوتے ہوئے کام کو روک دینا

اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے : کام کا بدلہ جلد ملنا

افسانہ چھیڑنا : قصہ بیان کرنا ، شرگشت سنانا

افواہ اڑانا : جھوٹی یا بے بنیاد بات کا مشتہر ہو جانا

الٹی گنگا بہنا : دستور کے خلاف کام کرنا

الٹا توا : سیاہ فام

الٹا پھیرنا : آنے والے کو اسی وقت واپس کر دینا

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے : خطاکار سمجھانے والے کو برا کہے

الو بولنا : ویرانی ہونا

الو بنانا : احمق بنانا

الٹی دریا بہنا : دستور کے خلاف کام یا بات کرنا

الٹے پاؤں لوٹنا : جلد ہی واپس لوٹنا

 

امید باندھنا : توقع رکھنا

امید سے ہونا : عورت کا حاملہ ہونا

امید بر آنا : آرزو /خواہش کا پورا ہونا

امید ٹوٹنا : ناامید ہونا

ان بن ہونا : کشیدگی ہونا

انگلیوں پہ نجانا : تنگ کرنا یا اپنے اشارے پہ چلانا

انگوٹھا دکھانا : انکار کرنا

اندھیر مچانا : ظلم و ستم کرنا ، سینہ زوری کرنا

اندھوں میں کانا راجہ : جاہلوں میں کچھ جاننے والا

اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں : ضرورت مند کو اپنے مطلب سے غرض ہوتی ہے

اندھے کے آگے روئے اپنے ہی نین کھوئے : جاہلا ور نا اہل کو سمجھنا بے کار ہے

اندھے کو چراغ دکھانا : بے فائدہ اور فضول کام کرنا

اندھے کی لاٹھی بننا : بے سہارے کا سہارا بننا

اندھا بنانا : بےوقوف بنانا

انگاروں پہ لوٹنا : رشک و حسد سے جلنا /کڑھنا /بےقرار رہنا

 

اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں سے کیا ڈرنا : اہم کام شروع کرتے وقت دشواریوں سے کیا ڈرنا

اونچی دوکان پھیکا پکوان : شہرت زیادہ اصلیت کم

اوندھے منہ گرنا : زک اٹھانا ، ذلیل ہونا

اوکھلی میں سر دینا : ہلاکت میں پڑنا

اوس پڑنا : پژمردہ ہونا ، مایوس ہونا ،کمھلانا

ایک انار سو بیمار : کسی چیز کی قلت ہونا

ایک مچھلی تمام تالاب کو گندا کرتی ہے : ایک برا آدمی سب کو بدنام کرتا ہے

ایک آنکھ سے سب کو دیکھنا : مساوی برتاؤ کرنا

ایڑیاں رگڑنا : ضد کرنا

ایڑی چوٹی کا زور کرنا : کسی کام کو کرنے میں پوری قوت / محنت صرف کرنا

ایمان کی کہنا : سچی بات کہنا

اینٹ سے اینٹ بجانا : تباہ و برباد ہونا

انتخاب:

https://teachingadd.blogspot.com


 

2 Activity Sheet

 سرگرمی بیاض ۔2

٭   انگلش میں Alphabetical Order  میں جس طرح سرگرمی انجام دی جاتی ہے۔ اُسی طرح اردو زبان میں 

اُسے  "   الفابائی  ترتیب  "    کا نام دیا گیا ہے۔ اس سرگرمی سے پہلے طلبا کو حروف تہجی کی ترتیب یاد کروائی جائے۔

جس طرح انگلش میں اگر دو لفظ ایک ہی لیٹر(Lipi) سے شروع ہورہے ہوں تو اس صورت میں اس کے بعد کے

 Alphabet کو دیکھا جاتا ہے اُسی طرح اردو میں بھی اس بات کا خیال رکھیں۔

یہاں سے آپ فری PDF ڈانلوڈ کر سکتے ہیں↡    Download پر کلک کیجیے۔

Download


Subscribe - AreeB TLM


Tateri - Bird

 

انتخاب : ٹٹیری پرندہ

ٹٹیری ایک نہایت خوبصورت پرندہ ہے۔ یہ اپنی لمبی ٹانگوں کی مدد سے بہت تیز رفتار سے دوڑنے میں مہارت رکھتا ہے اور اس کا بسیرہ زمین پر ہوتا ہے۔ یہ جوڑا ایک دوسرے کی حفاظت اپنی آواز سے باخبر کر دیتا ہے اور شور مچا کر، اپنی چونچ مار کر دشمن جانور کو بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کہاوت :

اس پرندے پر ایک خوبصورت کہاوت ہے۔ یہ پرندہ ٹٹیری رات کو اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے زمین پر سوتا ہے کہ کہیں آسمان گر نہ جائے اور اس پرندے کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ یہ فقیری پرندہ ہے۔ اس کا بسیرہ زمین پر ہوتا ہے، اور نہ تو یہ کسی درخت پر بیٹھتا ہے، اور نہ ہی کسی درخت پر گونسلا بناتا ہے۔ اپنی مستی میں جب یہ بولتا ہے تو لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ رب سے بارش مانگ رہا ہوتاہے۔ جس کی بدولت اس فقیری پرندے کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔

انڈے :

 ٹٹیری چار انڈے دیتی ہے اور عام میدان یا کسی کھیت کے سنڑ میں انڈے دیتی ہے یا زمین پر انڈے دیتی ہے اور اس کے انڈوں کا رنگ ہلکا کالے اور اس پر سفید رنگ کے دھبے ہوتے ہیں جو کہ بہت زیادہ خوبصورت ہوتے ہے۔ دھبے دار ہونے کی وجہ سے دشمن جانور اور پرندوں کی نظر سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

فوائد :

 اس کے انڈوں کا کمال یہ ہے کہ اگر کسی مرگی والے مریض کو کھلا دیا جائے تو مرگی کا مریض صرف 5 منٹ میں ٹھیک ہو جاتا ہے اور پھر زندگی بھر اس کو مرگی کے مرض سے چھٹکارہ مل جاتا ہے۔ کیا خوب کسی نے کہا ہےکہ اللہ تعالی نے اس دنیا میں کوئی چیز بےکار نہیں بنائی اور یہ بات ٹٹیری کے انڈوں سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹٹیری کے انڈوں کا آج کل موسم ہے۔ انڈوں کی حفاظت کے لئے انڈوں پر سرسوں کا تیل بھی لگایا جاتا ہے۔

ٹٹیری کا گوشت :

 بذات خود ٹٹیری کا گوشت کئی بیماریوں میں فائدہ مند ہے اور دل کے امراض میں فائدہ مند ہے۔ اس کو دمہ کے مریضوں کو بھی کھلاتے ہیں۔ اس پر مزید سرچ کی ضرورت ہے تا کہ اس پرندے کی افادیت سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے -

ٹٹیری کے بچے :

 ٹٹیری کے بچے بہت زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ نہایت ہوشیار اور تیز  اس کے بچوں اور شتر مرغ کے بچوں کی طرح ان کے جسم پر دھاری دار روئی ہوتی ہے جب کسی دشمن جانور یا پرندہ مثلاً چیل کو دیکھتے ہی سر نیچے اور دُم کو اوپر ایسے بنا دیتے ہیں جیسے سوکھے گھاس کی مانند ہو۔ یہ اپنی جان بچانے کے لئے کرتے ہیں اور اس وقت ٹٹیری نر اور مادہ بہت زیادہ شور کرتی ہے۔ چونچ مار


کر دشمن جانور کو بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور جب خطرہ ٹل جاتا ہےتو مادہ اپنے بچوں کو اکٹھا کرنے کے لئے مخصوص آواز نکالتی ہے۔ بچے بھاگ کر ماں کی طرف لپکتے ہیں۔ ماں اور بچوں کا مخصوص انداز میں آپس میں محبت کا اظہار ھوتا ہے جو قابل دید ہوتا ہے۔

یہاں سے آپ PDF فائل ڈاؤن لوڈ کریں۔↡

                                   Download

https://teachingadds.blogspot.com

Telegram link

https://t.me/AreeBTLM

Shahtoot

 انتخاب

شہتوت  :  ایک پھل

شہتوت بہت مشہور پھل ہے یہ بہت لذیذ اور مزیدار ہو تا ہے اس کو اردو میں شہتوت انگلش میں ملبرےMulberry اور عربی میں توت حلوا کہا جاتا ہے نہ صرف ہندوستان کے تمام علاقوں بکثرت اور شوق سے کھایا جاتا بلکہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی اس کو بہت شوق سے کھاتے ہیں شہتوت کے درخت کی شاخیں لمبی لمبی اور لچکدار ہوتی ہیں اور اس کا استعمال مختلف ادویات میں بھی کیا جاتا ہے۔

  شہتوت کو غذائیت کا پاور ہاؤس کہا جاتا ہے اس میں پروٹین کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں، ایک سفید زردی مائل اس کو سفید شہتوت کہا جاتا ہے یہ ذائقے میں لذیذ اور میٹھا ہوتا ہے دوسرا سیاہ سرخی مائل ہو تا ہے اسے کالا شہتوت بھی کہا جاتا ہے یہ ذائقے میں کھٹّا ہوتا ہے شہتوت انسانی جسم کے لئے بہت مفید ہے مختلف قسم کی بیماریوں میں اسے استعمال کرایا جاتا ہے یہ گردے کے امراض میں بھی مفید ہے اس کے پتے اور جڑیں بھی مفید ہیں

اس کے پتے اور جڑ کے جوشاندے سے غرارے کرنا گلے کے لئے بہت مفید ہے خاس طور پر حلق کے ورم میں نہایت مفید ہے اس کی چھال کا دانتوں پر استعمال بہت اچھا ہے شہتوت کا شربت بھی تیار کیا جاتا ہے یہ پیاس میں تسکین دیتا ہے اور خون کی تیزی کو ختم کرتا ہے یہ گرم مزاج لوگوں کے لئے انتہائی مفید ہے۔ شہتوت جگر اور خون کو طاقت دیتا ہے اور نیا خون پیدا کرتا ہے توت سیاہ دماغی کمزوری کو دور کرتا ہے اور خون کی تیزابیت کو دور کرتا ہے۔

 دائمی نزلہ زکام گلے کی خراش اور پیشاب کی جلن میں شہتوت کا استعمال کرنے سے افاقہ ہوتا ہےدائمی قبض کی صورت میں صبح ناشتے کی صورت میں توت سیاہ کا استعمال کریں دائمی قبض دور ہو جائے گی...

انتخاب.. نوشادعلیN@R@                                                                           


            

Https://teachingadds.blogspot.com