زمین کی اہمیت پر اشعار


یوم ارض کی مناسبت سے زمین کے بارے میں اشعار
Earth day، April 22
AreeBTLM



دِہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں!
تیرے آبا کی نہیں، تری نہیں میری نہیں!
علامہ اقبال
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
ندا فاضلی
سر کو نہ پھینک اپنے فلک پر غرور سے
تو خاک سے بنا ہے ترا گھر زمین ہے
میر حسن
ٹھہر گئی ہے طبیعت اسے روانی دے
زمین پیاس سے مرنے لگی ہے پانی دے
شہزاد احمد
باقی رہا نہ فرق زمین آسمان میں
اپنا قدم اٹھا لیں اگر درمیاں سے ہم
وزیر علی صبا لکھنؤی
سر زمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا
شاہ نصیر
زمین لے کے وہ آئے تو گھر بنایا جائے
کھڑے ہیں دیر سے ہم لوگ اینٹ گارے لئے
شکیل اعظمی
ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے
منیر نیازی
سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔ
جس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیں
فراق گورکھپوری
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
آنس معین
فرشتے دیکھ رہے ہیں زمین و چرخ کا ربط
یہ فاصلہ بھی تو انساں کی ایک جست لگے
بیکل اتساہی
پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا
یگانہ چنگیزی
زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے
ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم
ابن صفی
زمین پاؤں تلے ہے نہ آسماں سر پر
پڑے ہیں گھر میں کئی لوگ بے گھروں کی طرح
نجمی صدیقی
رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا
زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا
پروین شاکر
آسماں کھائے تو زمین دیکھے
دہن گور کا نوالا ہوں
احمد حسین مائل
رہے گا کس کا حصہ بیشتر میرے مٹانے میں
یہ باہم فیصلہ پہلے زمین و آسماں کر لیں
برق دہلوی
زمین پیاسی ہے بوڑھا گگن بھی بھوکا ہے
میں اپنے عہد کے قصے تمام لکھتا ہوں
بیکل اتساہی
جن پہ نازاں تھے یہ زمین و فلک
اب کہاں ہیں وہ صورتیں باقی
ابن مفتی
جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل
وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا
جمال احسانی
گھرا ہوا ہوں جنم دن سے اس تعاقب میں
زمین آگے ہے اور آسماں مرے پیچھے
محمد اظہار الحق
زمین ناؤ مری بادباں مرے افلاک
میں ان کو چھوڑ کے ساحل پہ کب اترتا ہوں
شہزاد احمد
کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یار
کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا
حیدر علی آتش
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
ناصر کاظمی
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
نامعلوم
جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے
جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے
جلیل مانک پوری
کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی
زمین تیری خدا موتیوں سے نم کر دے
بشیر بدر
مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر
مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے
اختر شمار
گھبرا کے آسماں کی طرف دیکھتی تھی خلق
جیسے خدا زمین پہ موجود ہی نہ تھا
شہزاد احمد
خدائے ارض! میں بیٹی کے خواب کات سکوں
تو میرے کھیت میں اتنی کپاس رہنے دے
شہزاد نیّر
....
پیشکش عمر  جاوید خان
ہمارے تعلیمی یو ٹیوب چینل کو لازمی سبسکرائب کریں۔ 

No comments: